بلوچستان میں مون سون کی تباہ کاریاں – ٹی بی پی اداریہ

42

بلوچستان میں مون سون کی تباہ کاریاں
ٹی بی پی اداریہ

محکمہ موسمیات نے بلوچستان اور سندھ کے مختلف اضلاع میں شدید بارشوں کے ایک نئے سلسلے کی پیشن گوئی کی ہے۔ ہفتے کے روز بلوچستان میں داخل ہونے والا بارشوں کا موجودہ سسٹم سوموار تک موسلا دھار بارشوں کی صورت جاری رہے گا۔ یہ رواں سال کے مون سون بارشوں کا چھٹا سلسلہ ہوگا، جو پہلے سے ہی بلوچستان میں کاروبار زندگی کو منجمد کرچکا ہے۔

مون سون کے بارشوں کے چوتھے سلسلے نے بلوچستان کے کم از کم 15 اضلاع میں تباہی مچادی تھی، جو 11 اگست تک جاری رہا۔ پی ڈی ایم اے ( پروینشل ڈیزائسٹر مینجمنٹ) کے اعدادو شمار کے مطابق بلوچستان میں چوتھے سلسلے تک سیلابی ریلوں نے کم از 13 افراد کی جانیں لے لیں اور کم از کم 7 افراد کی زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں، جن میں دو خواتین اور تین بچے شامل ہیں۔ حالیہ بارشوں سے کم از کم 861 گھر منہدم ہوئے، بولان میں بی بی نانی کے مقام پر پل ٹوٹنے کی وجہ سے سندھ و بلوچستان کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا، کوسٹل ہائی وے پر پسنی کے قریب ایک پل ٹوٹنے کی وجہ سے گوادر کا زمینی رابطہ بھی منقطع ہوگیا۔

بلوچستان میں مون سون کے بارشوں کے پانچویں سلسلے کے دوران جو نقصانات ہوئے، انکی تفصیلات تاحالال پی ڈی ایم اے نے جاری نہیں کیئے ہیں، تاہم ڈان نیوز کے مطابق بلوچستان کے ضلع جھل مگسی میں سیلابی ریلے کی وجہ سے 20 سے زائد گاؤں زیر آب آگئے، جسکی وجہ سے تمام سڑکیں ٹوٹ گئیں اور انکا رابطہ پورے بلوچستان سے کٹ گیا۔ اطلاعات کے مطابق بلوچستان کے ضلع سبی، نصیر آباد، جعفر اباد، صحبت پور، ڈیرہ اللہ یار، بولان، جھل مگسی، خضدار، قلات، مستونگ، لسبیلہ اور مکران کے تینوں اضلاع گوادر، تربت اور پنجگور دو دنوں تک شدید بارشوں کے نذر رہے۔

ٹی بی پی کے رپورٹروں کے مطابق حالیہ بارشوں اور سیلابی ریلوں کی وجہ سے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ایک بار پھر متعدد اموات ہوئی ہیں اور مکانات منہدم ہونے کے واقعات میں کئی افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ بی بی نانی پل جو پہلے ٹوٹ چکا تھا، اسے دوبارہ نقصان پہنچا ہے، جسکی وجہ سے این – 65 شاہراہ پر ٹریفک معطل رہی۔

محکمہ موسمیات کے مطابق تازہ بارشوں کی وجہ سے ضلع سبی، قلات، خضدار، لسبیلہ اور ڈیرہ غازی خان میں سیلابی ریلے آنے کا خدشہ ہے۔ حالیہ بارشوں میں سب سے پریشان کن امر حب ڈیم کا خطرناک حد تک بھرجانا ہے، اضافی پانی کے اخراج سے سیلاب کا باعث بن سکتا ہے۔ ضلع کیچ میں واقع میرانی ڈیم کے مکمل بھرجانے میں بھی محض 20 فٹ کا جگہ بچا ہے۔ 2017 میں بھی ضلع کیچ میں غیر معمولی بارشوں کی وجہ سے تاریخی تباہی ہوئی تھی، ضلع بھر میں ہزاروں گھرانے سیلاب سے بری طرح متاثر ہوئے تھے۔

حکومت بلوچستان کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے ایک پریس کانفرنس میں میڈیا کو بتایا کہ بارشوں کی وجہ سے ضلع نصیر آباد میں دریائے ناڑی مکمل بھرچکا ہے، اگر مزید بارشیں ہوئیں تو یہ علاقے کے لاکھوں لوگوں کیلئے ایک خطرے کی گھنٹی ثابت ہوسکتی ہے۔

مون سون کے حالیہ غیر معمولی بارشوں کے سلسلے کے مدنظر رکھ کر دیکھا جاسکتا ہے کہ مزید تباہیاں اور خطرے بلوچستان کا انتظار کررہی ہیں۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ حکومت جو ابتک غیر تربیت یافتہ لیویز اور پی ڈی ایم اے پر انحصار کررہا ہے، وہ ممکنہ تباہکاریوں کیلئے کتنا تیار ہے؟ متعلقہ ادارے جن کا کام ایسے قدرتی آفات سے نمٹنا، تیار رہنا اور تربیت یافتہ افرادی قوت رکھنا ہوتا ہے، وہ نا صرف بے بس نظر آرہے ہیں بلکہ وہ کسی بھی زاویئے سے اس پیمانے کے قدرتی آفت سے نمٹنے کیلئے تیار نظر نہیں آتے۔