بلوچ، سندھی اور پشتون 14 اگست کو جشن کیوں نہیں مناتے؟ – ٹی بی پی اداریہ

139

بلوچ، سندھی اور پشتون 14 اگست کو جشن کیوں نہیں مناتے؟
ٹی بی پی اداریہ

قانون آزادی ہند کے مطابق تقسیم ہونے والے دونوں اکائیوں ( پاکستان و ہندوستان) کی آزادی کا دن 15 اگست ہے، نا کہ 14 اگست۔ 1948 کے بعد پاکستان نے 15 کے بجائے 14 اگست کو یوم آزادی کے طور پر منانا شروع کیا۔ کے کے عزیز جیسے تاریخ دان پاکستان پر تاریخ کو مسخ کرنے کی وجہ سے کڑی تنقید کرتے رہے ہیں۔ بہت سے تجزیہ نگار اس بات پر متفق ہیں کہ ایک جدا سیاسی شناخت کی تلاش میں پاکستان نے 15 کے بجائے 14 اگست کو یوم آزادی کے طور پر منانا شروع کیا۔

بہر حال، یہاں اہم سوال یہ ہے کہ 73 سال گذرنے کے باوجود بلوچ، پشتون، سندھی اور گلگت بلتستان کے لوگ 14 اگست کو یوم آزادی کیوں نہیں مناتے؟ بلکہ بہت سے اس دن کو یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہیں۔

تقسیم ہند کے بعد مغربی پاکستان، موجودہ پاکستان کے تقریباً آدھے سے بھی کم رقبے پر مشتمل تھا۔ اس میں پنجاب ( ریاست بہالپور کے بغیر)، سندھ ( ریاست خیر پور کے بغیر) سابقہ سرحد موجودہ خیبر پختونخواہ ( دیر، چترال، سوات، پھلرا، امب اور قبائلی علاقوں کے بغیر) شامل تھے۔ اس وقت “شمالی علاقہ جات” وجود نہیں رکھتے تھے، ہنزہ اور نگر کی ریاستوں کو 1975 کو بھٹو دور حکومت میں پاکستان میں شامل کرکے شمالی علاقہ جات کا نام دیا گیا، جسے اب گلگت بلتستان کے نام سے جانا جاتا ہے۔

بلوچستان کے وہ مستجار علاقے جو براہ راست برطانوی راج کے زیر تسلط تھے، انہیں متنازعہ انداز میں پنجاب میں شامل کیا گیا۔ اور مارچ 1948 کو بلوچستان ( ریاست قلات) کو پاکستان میں فوج کے ذریعے بزور قوت شامل کیا گیا۔ بلوچستان نے برطانوی راج سے 11 اگست 1947 کو آزادی حاصل کی تھی اور سات مہینے تک ایک آزاد و خود مختار ریاست کی حیثیت سے اپنا وجود قائم رکھنے میں کامیاب رہا تھا۔

پاکستان نے اپنی آزادی کے آٹھ سالوں کے اندر اِن تمام آزاد ریاستوں کو جبری الحاق پر مجبور کرچکا تھا۔ بلوچستان جو ابتک رقبے کے لحاظ پاکستان کا 43 فیصد ہے، بہت سے لوگ 14 کے بجائے 11 اگست کو بطور یوم آزادی مناتے ہیں۔ سندھ نے سب سے پہلے پنجاب کا ساتھ دیکر اس خطے میں پاکستان کے قیام میں ساتھ دیا تھا، لیکن سب سے پہلے سندھ کے لوگوں کے پیٹ میں خنجر گھونپا گیا۔ الحاق کے فوراً بعد ہی الحاق کرنے والے سندھی قوم پرست جی ایم سید نے سندھو دیش کی آزادی کی تحریک شروع کردی، جو آج تک جاری ہے۔ سندھ کی تاریخ میں 14 اگست کو اب ایک سیاہ دن کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔

پشتونوں نے کبھی بھی ڈیورنڈ لائن کی تقسیم کو تسلیم نہیں کیا ہے، وہ ہمیشہ سے خود کو افغانستان کا حصہ سمجھتے ہیں، تقسیم ہند کے وقت، ریفرنڈم میں پنجاب کو چننے کے بجائے باچا خان جیسے پشتون قوم پرستوں نے ریفرنڈم کا بائیکاٹ کیا تھا کیونکہ اسے ایک ایسے انداز میں ترتیب دیا گیا تھا کہ وہ صرف پنجاب کو چن سکتے تھے، انہیں افغانستان کو چننے یا آزاد رہنے کا راستہ نہیں دیا گیا تھا۔

یہ سوال کہ آخر کیوں پنجاب کے علاوہ باقی تمام اقوام 14 اگست کو ایک جشن کے دن کے بجائے یوم سیاہ کے طور پر یاد کرتے اور مناتے ہیں؟ اسکے جواب میں بہت سے تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ اسکی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کی بنیادیں دھوکے اور جھوٹ پر رکھے گئے، پاکستان میں شامل زیادہ تر علاقے ” مقبوضہ علاقے ” ہیں۔ واحد چیز جس کی وجہ سے پاکستان ابتک قائم ہے، وہ اسکی طاقتور پنجابی فوج ہے، جو ملک کی اصل حاکم بھی ہے۔ سیاسی پنڈت یہ پیشن گوئی کرتے ہیں کہ 1970 میں ایک بار فوج کی گرفت کمزور ہوئی تو یہ بنگلہ دیش کی آزادی کی وجہ بنی، اب یہ امر بعید از قیام نہیں کہ انکی گرفت دوبارہ کمزور پڑجائے اور اس خطے کا نقشہ تبدیل ہوجائے۔