افغانستان : دو صوبوں میں پاکستان کے خلاف مظاہرے

249

گذشتہ روز چمن و اسپن بولدک میں مظاہرین پہ پاکستانی فورسز کے فائرنگ و مارٹر گولے حملوں میں ایک درجن سے زائد افراد مارے گئے جبکہ 40 سے زائد زخمی ہوئیں تھے۔

اطلاعات کے مطابق بلوچستان سے متصل افغانستان کے دو صوبوں کندھار اور ہلمند میں آج پاکستان کے خلاف مظاہرے کئے گئے ۔

مظاہروں میں ہزاروں افراد نے شرکت اور اور پاکستان کے خلاف نعرہ بازی کی۔

پاکستان کے خلاف مظاہرے چمن میں ہونے والے واقعے کے بعد ہوئے جہاں پاکستانی فورسز نے ڈیورنڈ لائن پہ پھنسے شہریوں پہ فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 16 افراد جانبحق جبکہ 42 زخمی ہوئیں تھے۔

چمن میں ہونے والے واقعے میں اطلاعات کے مطابق افغان سرحدی فورسز کے دو اہلکار بھی مارے گئے تھے جبکہ فائرنگ و پاکستان کی جانب سے اسپن بولدک میں مارٹر گولے حملوں سولہ عام شہری مارے گئے تھے ۔

جانبحق و زخمیوں میں خواتین و بچے بھی شامل ہیں ۔

چمن واقعے کے بعد پشتون تحفظ موومنٹ کی جانب سے بلوچستان و خیبر پختون خواہ کے مختلف علاقوں میں بھی مظاہرے کئے گئے ۔

دوسری جانب چمن واقعے کے بعد کابل و اسلام آباد انتظامیہ نے ڈیورنڈ لائن پہ قائم دروازے سے تجارت و آمد و رفت کے مسئلے کو حل کرنے کی خاطر مذاکرات بھی کئے جس کے بعد گذشتہ روز چمن سے دونوں جانب آمد و رفت کا سلسلہ شروع ہوا۔