کوئٹہ پریس کلب کے سامنے لاپتہ افراد کیلئے احتجاج جاری

44

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے احتجاج کو 4023 دن مکمل ہوگئے۔ دالبندین سے میر داد کریم، داد محمد اور دیگر افراد نے کیمپ کا دورہ کیا۔ اس موقع پر لاپتہ ڈاکٹر دین محمد بلوچ کی بیٹی سمی بلوچ، لاپتہ شبیر بلوچ کی بہن سیما بلوچ، لاپتہ راشد حسین بلوچ کی والدہ اور دیگر لاپتہ افراد کے لواحقین احتجاجی کیمپ میں موجود تھے۔

وی بی ایم پی کے رہنماء ماما قدیر بلوچ نے اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حقیت یہ ہے کہ پرامن جدوجہد اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتی جب تک خواتین کی مدد اپنے بیٹوں، بھائیوں، والد کے ساتھ نہ ہو، خواتین کا کردار اس پرامن جدوجہد میں ناگزیر ہے۔ بلوچ قوم اس بات کے لیے ہوجائے کہ اگر قوم کو تاریخ کے اوراق میں زندہ رکھنا ہے تو شہیدوں کا خون ہی اس کو زندہ رکھتا ہے۔

ماما قدیر بلوچ کا کہنا تھا کہ کچھ قوم پرست لاپتہ افراد کا رونا روتے ہیں اور اپنی سیاست چمکانے کی کوشش کرتے ہیں پر اصل میں جبری طور پر لاپتہ وہ نوجوان سیاست دان ہیں، کچھ لوگ پاکستان کے پارلیمنٹ میں بیٹھ کر بلوچوں کے قتل عام میں ملوث ہوگئے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ بلوچ فرزند اپنی بقاء کے لیے جدوجہد کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہر شعبے میں سنجیدگی اور مخلصی سے اپنا کردار ادا کریں۔ تحقیق علم کے ہر شعبے کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کیونکہ یہ تحقیق ہی ہے جو قوموں کو سیدھا راستہ دکھاتی ہیں اور قوموں زندہ رکھتی ہے۔

خیال رہے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے اعلامیے کے مطابق کل بروز ہفتہ عید کے دن کوئٹہ پریس کلب کے سامنے بلوچ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے لواحقین کے ہمراہ احتجاج کیا جائے گا۔ بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین اور وی بی ایم پی کی جانب سے ہر سال عید کے روز احتجاج ریکارڈ کیا جاتا ہے۔

دریں اثناء انسانی حقوق کے لاپتہ کارکن راشد حسین بلوچ کے جبری گمشدگی کے خلاف سماجی رابطوں کی ویب سائیٹ پر کمپئین چلائی جارہی ہے۔

کمپئین خلیجی ممالک میں عید کے پہلے دن کو مدنظر رکھ کر چلائی جارہی ہے۔ لاپتہ راشد حسین بلوچ کے لواحقین کے مطابق انہیں متحدہ عرب امارات کے خفیہ اداروں نے جبری طور پر لاپتہ کرکے چھ مہینے بعد غیر قانونی طور پر پاکستان کے حوالے کردیا ہے جس کے بعد پاکستان میں بھی وہ لاپتہ ہے۔

لاپتہ راشد حسین کی بہن فریدہ بلوچ نے ایک ٹوئٹ میں لکھا کہ عرب ممالک انسانی حقوق کے کارکنوں کے لئے خطرہ بن گئے ہیں، میرا بھائی پاکستان سے ایک انسانی حقوق کا کارکن ہے جنہیں متحدہ عرب امارات میں اغوا کیا گیا اور غیر قانونی طور پر پاکستان کے حوالے کیا گیا۔

 واضح رہے ریلیز راشد حسین کمیٹی کی جانب سے ایک اعلامیہ گذشتہ دنوں جاری کیا گیا جس کے مطابق اگست کے مہینے میں جرمنی، نیدر لینڈ، جنوبی کوریا سمیت دیگر ممالک میں مظاہرے اور آگاہی مہم کا انعقاد کیا جائے گا۔

دریں اثناء لاپتہ شعیب کے لواحقین نے ان کی بازیابی کی اپیل کی ہے۔ ان کے لواحقین کے مطابق شعیب ولد ابراہیم سکنہ مند کو 22 مئی 2014 کو پاکستانی فوج نے مند ریدگ سے اغواء کرکے لاپتہ کیا جس کے وہ تاحال لاپتہ ہے۔