کوئٹہ: نشپا واقعہ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ

128

دارالحکومت کوئٹہ پریس کلب کے سامنے برمش یکجہتی کمیٹی کی جانب سے ہرنائی، نشپا واقعہ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں سیاسی، سماجی اور طلباء تنظیموں کے کارکنان نے شرکت کی۔

مظاہرین نے گذشتہ دنوں ہرنائی کے علاقے پاکستانی سیکورٹی فورسز کی جانب سے گھروں کا محاصرہ کرنے اور خواتین و بچوں کی قتل کے خلاف نعرے بازی کی۔

مظاہرے کی قیادت وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے کی۔

مظاہرین سے گفتگو کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کے بلوچستان میں فورسز کے جانب سے جاری فوجی آپریشنوں میں ہر روز لوگوں کو اٹھاکر غائب کرنا اور بچوں اور خواتین کو تشدد بنانا شامل ہے۔ ہرنائی واقعہ میں ناز بی بی اور اس کے خاندان کا قتل بلوچ قوم کے خلاف ریاست کی جانب سے اجتماعی سزا کا تسلسل ہے ایسے کئ واقعات رونما ہوئے ہیں جن میں سیاسی کارکنان کے لواحقین کو ذہنی اذیت اور تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کے 73 سالوں سے بلوچستان پر جو ظلم جاری ہے اس میں ریاست چوتھے جنیوا کنونشن کے آرٹیکل 33 کے خلاف ورزی کا مرتکب پایا گیا ہے لیکن انسانی حقوق کے اداروں پاکستانی میڈیا اس پر بلکل چپ کا روزہ رکھے ہوئیں ہے جو بلوچ نسل کشی کو مزید تقویت دینے کے مترادف ہے۔

ہرنائی واقعہ بلوچستان میں خواتین کو نشانہ بنانے کا تسلسل اور انسانیت کے خلاف جرم ہے۔ خواتین اور بچوں کے قتل کی اجازت یو این او، پاکستان کی آئین اور دنیا کی کوئی بھی قانون نہیں دیتی۔لیکن بلوچستان میں خواتین اور بچوں کے قتل عام کا سلسلہ بدستور جاری و ساری ہے۔ لیکن میڈیا پر پابندی کی وجہ سے خواتین کو نشانہ بنانے کے واقعات ملک کے لوگوں کے آنکھوں سے اوجھل ہیں۔ جس کی وجہ سے ان واقعات کو روکنے کیلئے کوئی اقدامات نہیں اٹھایا جا رہا ہے۔


ان کا کہنا تھا کہ ہرنائی واقعہ سے قبل مکران کے علاقے ڈنک میں ملک ناز کی شہادت اور برمش کی زخمی ہونے اور تمپ دازن میں کلثوم کی ظالمانہ قتل بھی ہمارے سامنے ہیں، ان کو نشانہ بنانے میں میں ملوث افراد جن گروپ سے تعلق رکھتے ہیں انہیں غیرقانونی طور پر حکومتی اداروں کی سرپرستی حاصل ہے۔ بلوچستان میں جرائم پیشہ افراد کو ڈیٹھ اسکواڈز کی شکل میں اپنے وقتی مفادات کیلئے منظم کیا گیا ہے جس کی وجہ سے یہ جرائم پیشہ افراد اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے کھلے عام خواتین و بچوں کو نشانہ بنانے اور چوری اور ڈکیتی سمیت مختلف جرائم میں ملوث ہوتے ہیں اور انہیں پوچھنے والا کوئی نہیں ہے۔ ڈیٹھ اسکواڈز ہر علاقے میں الگ طور پر منظم کیے گئے ہیں، سانحہ ڈنک واقعے میں ملوث مجرموں کی گرفتاری کے باوجود ان واقعات میں کمی نہیں آئی اور اسی مہینے تمپ دازن میں ایک اور واقعے میں بی بی کلثوم کو ان کے بچوں کے سامنے بےدردی سے قتل کیا گیا۔

مقررین نے کہا کہ آج کے احتجاج کا مقصد پاکستان کے عوام کو بتانا ہے کہ بلوچستان میں کس طرح بے دردی سے معصوم اور بے گناہ خواتین اور بچوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے جبکہ مجرموں کو سزا دینے کی بجائے ان کی پشت پناہی کی جا رہی ہے، جس سے ان واقعات میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم اس مظاہرے کی توسط سے اعلیٰ حکام کی توجہ اس جانب مبذول کرانا چاہتے ہیں کہ کب تک بلوچستان میں یونہی بلوچ خواتین اور بچوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رہے گا؟ بلوچستان کے عوام کب سکون کا سانس لینگے کیونکہ جن محافظوں کا کام بلوچستان میں مختلف جرائم میں ملوث افراد کے خلاف کاروائی کرنا ہے انہوں نے انہی جرائم پیشہ افراد کو منظم کرتے ہوئے انہیں مکمل طور پر چھوٹ دی ہے جبکہ وہ خود براہ راست خواتین و بچوں کو نشانہ بنانے میں ملوث ہیں، جس کا اظہار حالیہ دنوں ہرنائی میں دیکھنے کو ملا۔ جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائی اپنی جگہ ریاستی ادارے عام عوام کو نشانہ بنا رہے ہیں جبکہ حکومتی ادارے ان ڈیتھ اسکواڈز کی پشت پناہی بھی کر رہے ہیں جس سے بلوچستان کے موجودہ حالات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

مقررین نے صحافیوں سے گزارش کرتے ہوئے کہا کہ وہ بلوچستان میں خواتین اور بچوں کو نشانہ بنانے جیسے گھناؤنے عمل کو ملک بھر میں اجاگر کرنے کے لئے صحافتی اقدار کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے کردار ادا کریں۔

مظاہرین سے نیشنل پارٹی، بی این پی مینگل، بی ایس او، نیشل ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنماؤں نے بھی خطاب کی اور ہرنائی واقعہ کو بلوچ نسل کشی اور انسانی حقوق کی بدترین پامالی کرار دے کر ریاست کے جانب سے بلوچ نسل کشی بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔