کوئٹہ : لاپتہ افراد کے لواحقین کا بھوک ہڑتالی کیمپ جاری

50

لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے قائم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 4027 دن مکمل ہوگئے اظہار یکجہتی کرنے والوں میں لورالائی سے سیاسی و سماجی کارکن شیر افضل عبدالباری ،کوئٹہ سے دوست محمد بلوچ شامل تھے ۔

وی بی ایم پی کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا بلوچستان میں بلوچ طلباء نوجوانوں سیاسی کارکنوں، حقیقت پسند صحافیوں اور مختلف شعبوں سے تعلق رکهنے والے ہزاروں افراد کی فورسز اور خفیہ اداروں کے ہاتهوں اغواء نما گرفتاریوں، جبری گمشدگی ان پر سفاکانہ جبر و تشدد اور قتل کرکے ان کی مسخ شده لاشوں کو پهینکنے جیسے بلوچ نسل کشی جنگی جرائم جس قدر بڑھ رہے ہیں اقوام متحده سمیت حق اور انصاف کی داعی بین اقوامی قوتوں کی یہاں جنم لینے والے انسانی المیوں پر خاموشی اور بے حسی طویل ہو رہی ہے اس وقت صورت حال یہ ہے کہ پاکستانی خفیہ اداروں کے ہاتهوں جبری لاپتہ افراد کا کوئی حال نہیں ہے.

انہوں نے کہا کہ لواحقین کی جانب سے متعلقہ ریاستی اداروں سے بهی رابطہ کیا مگر ہر طرف سے طفل تسلیاں اور مایوسی کے سواء کچھ ہاتھ نہیں آسکا ہے اس طویل بهوک ہڑتالی کیمپ پر بیٹهے ہیں مگر تاہم انصاف کے طلب گاروں کو در در کی ٹهوکروں کے سوا کچھ نہیں ملتا ہے نظر نہیں آتا یہ بے حسی صرف پاکستانی ریاست اور اس کے محافظ قوتوں اور سیاسی دیگر حلقوں میں ہی پائی نہیں جاتی بلکہ اقوام متحده جیسا اداره بهی جس کی دستاویز و نکات میں انسانی حقوق کی پاسداری اولین ترجیحات قرار پائی تهی بلوچستان پر نوآبادیاتی قبضے اور بلوچ نسل کشی ریاستی پالیسیوں سے مسلسل نظریں چرا رہے ہیں.