کراچی میں سابق رینجرز آفیسر کے ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں – ایس آر اے

200

سندھودیش روولیوشنری آرمی کے ترجمان سوڈھو سندھی نے نامعلوم مقام سے بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ میں پنجابی قبضے اور جاری ریاستی آپریشن کے خلاف آج کراچی، سچل کے بلال گوٹھ میں سابق رینجرز آفیسر اور علاقائی مخبری و رینجرز آپریشن کے سرغنہ عاشق کو دستی بم حملے میں مارنے کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ سندھ میں پاکستانی فورسز کے جاری ریاستی آپریشن میں جو بھی مقامی جاسوس ایجنٹ مخبری اور سہولت کاری میں ملوث ہیں، گویا وہ سندھی ہو یا غیر سندھی ان سب کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ پاکستانی فوج اور اس کے ادارے سندھ بھر میں سندھی قومپرست کارکنان کے خلاف ریاستی آپریشن کر رہے ہیں، جس میں انہوں نے متعدد قومپرست کارکنان کو اٹھاکر جبری لاپتا کردیا ہے اور سندھی کارکنان کے گھروں میں چوروں اور ڈاکووں کی طرح گھس کر ہماری ماوں بہنوں کی تذلیل کرکے چادر اور چاردیواری کا تقدس پائمال کر رہے ہیں اور مختلف اوقات میں ان کی مسخ شدہ لاشیں پھینکتے رہے ہیں جس کی تازہ مثال کراچی میں جسقم کارکن شہید نیاز لاشاری کی پھینکی گئی مسخ شدہ لاش اور تازہ ریاستی آپریشن میں سکرنڈ میں جسقم رہنماء مسعود شاہ کے بھائی شہید مسرور شاہ کی دی گئی تشدد زدہ لاش ہے۔

ترجمان سوڈھو سندھی کا کہنا ہے کہ پنجابیوں نے سندھ میں اپنی پنجابی فوج کے ذریعے سندھ کی زمین، دریا، وسائل، ساحل و سمندر پر بندوق کے زور پر قبضہ کر رکھا ہے۔ پنجاب چین سے مل کر سندھ کی زمین، وسائل، ساحل و سمندر، بندرگاہوں اور شاہراہوں پر قبضہ کرنے لیئے سی پیک کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ پنجاب اور چین کے ان قبضہ گیر منصوبوں کو سندھی قوم کسی بھی صورت میں قبول نہیں کرے گی۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ ایس آر اے سندھودیش کی آزادی تک جنگ جاری رکھنے کا عزم دہراتی ہے۔