پاکستانی وزارت داخلہ کا لیک شدہ دستاویز اظہار رائے پر پابندی کا واضح ثبوت ہے- بی این ایم

109

بلوچ نیشنل موومنٹ کے ترجمان نے کہا ہے کہ جلاوطن صحافیوں کے بارے میں پاکستانی وزارت داخلہ کے لیک شدہ دستاویز پر صحافیوں کی عالمی تنظیم ”رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز“ کی تشویش ہمارے خدشات کی تصدیق کرتا ہے کہ پاکستان اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لئے اپنی سرحدوں سے باہر دنیا کے کسی بھی کونے میں فوج و خفیہ اداروں کی بربریت کو منظر عام پر لانے والے صحافیوں کو نشانہ بناسکتا ہے۔ یہ اظہار رائے پر پابندی کی بدترین مثال ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزارت داخلہ کے لیک شدہ دستاویز پاکستان کے جنگی جرائم کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس میں جن چھ صحافیوں کے نام درج ہیں ان کی زندگیوں کو سویڈن میں قتل ہونے والے بلوچ صحافی ساجد حسین کی طرح خطرات لاحق ہوگئی ہیں۔ ان کی حفاظت ان ممالک اور عالمی اداروں کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ ساتھ ان کے خاندان کیلئے مناسب بندوبست اور سیکورٹی کی یقین دہانی کرانا بھی عالمی اداروں کی ذمہ داری بنتی ہے۔ ہم نے مشاہدہ کیا ہے کہ بیرون ملک سرگرم سیاسی کارکنوں کے رشتہ داروں کو مختلف طریقوں سے تنگ کیا جا رہا ہے۔ ہماری مسلسل نشاندہی اور معلومات پہنچانے کے باوجود ان کی کوئی داد رسی نہیں کی گئی ہے۔ ”رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز“ جیسی تنظیم کی جانب سے خدشات کا اظہار کے بعد شاید عالمی ادارے حرکت میں آکر پاکستان کے قبضے میں جاری جد و جہد کی اخلاقی حمایت کریں اور وہاں جاری صحافیوں سمیت انسانی حقوق اور سیاسی تنظیموں کے کاکنوں کے خلاف پاکستانی کارروائیوں کا نوٹس لیں۔

ترجمان نے کہا کہ تمام غیرجانبدار عالمی تنظیموں کے تحقیق اور سروے بتاتے ہیں کہ پاکستان صحافیوں سمیت سیاسی اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے لئے دنیا کے خطرناک ترین ریاستوں میں سے ہے جہاں اختلافی نقطہ نظر یا قومی حقوق کے لئے آواز اٹھانے کی قمیت غیرقانونی قید و بند، ٹارچر سیلوں میں اذیت ناک موت، جلاوطنی حتیٰ کہ جلاوطنی میں جان سے ہاتھ دھونے کی صورت میں ادا کرنا پڑتا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ بلوچستان میں درجنوں صحافی آئی ایس آئی اور فوج کے ہاتھوں قتل یا جبری گمشدگی کے بعد اذیت ناک موت سے دوچار ہوچکے ہیں۔ بے شمار صحافی، سیاسی و انسانی حقوق کے کارکن جلاوطنی پر مجبور ہوکر مختلف ممالک میں پناہ گزین ہیں۔ یورپی ملک سویڈن میں ساجد حسین کے پراسرار قتل اور صحافتی تنظیموں کی جانب سے پاکستان پر شکوک کا اظہار اور حالیہ لیک ہونے والے دستاویز یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہیں کہ آئی ایس آئی دنیا کے اندازوں سے کہیں زیادہ خطرناک اور مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ دستاویز جن جن اداروں کو بھیجا گیا ہے ان میں آئی ایس آئی، ملٹری انٹیلی جنس اور آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات اور وزارت خارجہ شامل ہیں۔ دنیا جانتی ہے کہ ان اداروں کا اصل کام کیا ہے۔ یہ ادارے گزشتہ بیس سالوں سے بلوچ قوم کے نسل کشی، اجتماعی سزا اور بلوچ قوم کے خلاف بدترین مظالم، جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کر رہے ہیں۔