پاکستانی وزارتِ داخلہ کا مبینہ میمو، بلوچ صحافی کا نام بھی شامل

125

صحافیوں کی عالمی تنظیم رپورٹرز ود آؤٹ بارڈر نے منظر عام پر آنے والے حکومت پاکستان کے اس اندرونی میمو پر تشویش کا اظہار کیا ہے جس میں بیرون ملک مقیم 6 صحافیوں کو “پاکستان کے خلاف” بولنے سے روکنے کی بات کی گئی ہے۔

اگرچہ تنظیم نے کسی کا نام ظاہر نہیں کیا، لیکن سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے مبینہ میمو جن صحافیوں کے نام شامل ہیں، ان میں ایک کا تعلق وائس آف امریکہ اور ایک بلوچ صحافی کا نام بھی شامل ہے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ اس میمو کی حقیقی نوعیت سے قطع نظر اگر ان صحافیوں یا ان کے اہلخانہ کو کسی قسم کا نقصان پہنچا تو پاکستانی حکام اس کے ذمے دار ہوں گے۔

تنظیم کے مطابق اسے 18 جون کی تاریخ والے وزارت داخلہ کے اندرونی میمو کی ایک نقل ملی ہے جس میں چھ صحافیوں کے نام ہیں۔ ان میں پانچ پاکستانی اور ایک افغان شہری ہے۔ ان پر الزام لگایا گیا ہے کہ وہ امریکہ اور یورپ میں ایسی کئی سرگرمیوں میں ملوث ہیں جو بیرون ملک پاکستان کے مفادات کو سنگین نقصان پہنچا رہی ہیں۔

میمو کے مطابق یہ صحافی پاکستان مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہیں یا قلمی ناموں سے غیر ملکی ذرائع ابلاغ میں پاکستان کے خلاف مواد شائع کررہے ہیں۔ میمو میں کہا گیا ہے کہ ان لوگوں کی نقل و حرکت اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی سختی سے نگرانی کی جائے۔

میمو میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان افراد سے باضابطہ ذرائع سے رابطہ کیا جاسکتا ہے، تاکہ وہ مستقبل میں پاکستان کے خلاف بولنے سے باز آجائیں۔

مبینہ میمو میں ناروے میں مقیم ایک بلوچ صحافی کا نام بھی شامل ہے جو گارڈین کیلئے لکھتے ہے۔

بظاہر یہ میمو وزارت داخلہ کے افسروں کو نہیں بھیجا اور سرکاری طور پر جاری نہیں کیا گیا بلکہ ایک ورکنگ ڈاکومنٹ ہے جو صرف پانچ وصول کنندگان کو بھیجا گیا ہے۔ ان میں آئی ایس آئی، ملٹری انٹیلی جنس اور آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات اور وزارت خارجہ شامل ہیں۔

رپورٹرز ود آؤٹ بارڈر کی ایشیا پیسیفک ڈیسک کے سربراہ ڈینیئل بیسٹرڈ نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بے وقوف نہ بنیں۔ پاکستانی خفیہ ادارے اس میمو کو خود لیک کرسکتے ہیں تاکہ رائے عامہ کو گمراہ کیا جائے اور صحافیوں کو دھمکایا جائے۔ اگر یہ سرکاری دستاویز نہیں بھی ہے، تب بھی اس میں یہ دھمکی آمیز تجویز قابل تشویش ہے کہ بیرون ملک ان صحافیوں تک باضابطہ ذرائع سے رابطہ کیا جائے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ میمو میں جن صحافیوں کے نام شامل ہیں، وہ ان کے تحفظ پر توجہ دے گی اور ہم جانتے ہیں کہ اگر انھیں یا ان کے خاندان کے کسی رکن کو دھمکایا گیا تو کون ذمے دار ہوگا۔

رپورٹرز ود آؤٹ بارڈر کے مطابق اس سال کے آغاز سے بیرون ملک مقیم پاکستانی صحافیوں کو نشانہ بنانے کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ ان میں سب سے سنگین واقعہ سویڈن میں مقیم بلوچستان ٹائمز ویب سائٹ کے ایڈیٹر ساجد حسین کی پراسرار موت تھی۔ لاپتا ہونے کے سات ماہ بعد اپریل میں ان کی لاش ملی تھی۔

سویڈش پولیس نے ابھی تک اس امکان کو مسترد نہیں کیا کہ ان کی موت کا سبب بطور صحافی ان کا کام تھا۔ یہ بات پریشان کن ہے کیونکہ ساجد حسین کی ویب سائٹ نے ان کے صوبے بلوچستان میں منشیات کی اسمگلنگ، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، جبری گم شدگیوں اور باغیانہ سرگرمیوں کی خبریں شائع کی تھیں۔ اس بات کا خدشہ ہے کہ انھیں ان حساس موضوعات کی کوریج پر ہدف بنایا گیا ہو۔

رپورٹرز ود آؤٹ بارڈر کا کہنا ہے کہ اسے ملنے والی خفیہ معلومات کے مطابق 2019 کے آخر سے آئی ایس آئی کے اندر پاکستانی حکومت کے ان مخالفین کی ایک فہرست گردش کررہی ہے جنہوں نے مختلف ملکوں میں پناہ لی ہوئی ہے۔

اس بارے میں فوری طور پر حکومت پاکستان کا موقف سامنے نہیں آیا ہے۔