میرے دیس کے لوگ غلامی کے گناہ میں مارے گئے – محمد خان داؤد

102

میرے دیس کے لوگ غلامی کے گناہ میں مارے گئے

 تحریر: محمد خان داؤد

دی بلوچستان پوسٹ

میرے عزیر مر گئے، میں حسرت ویاس کے عالم میں ان کا ماتم کررہا ہوں۔
میرے عزیز فاقوں سے مر گئے اور جو بچ گیا موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔
میں ان لوگوں میں چل پھر رہا ہوں، جو مسرور ہیں، شاد کام ہیں۔
میرے عزیز نہایت ذلت وحقارت کی موت مر گئے، لیکن میں یہاں راحت و سلامتی کی زندگی گذار رہا ہوں۔
یہی وہ المناک ڈرامہ ہے جو میری روح کی اسٹیج پر کھیلا جا رہا ہے۔

اگر میں اپنے بھوکے عزیزوں میں بھوکا ہوتا یا اپنی مظلوم قوم کے ساتھ جوروستم برداشت کرتا تو دونوں کا دباؤ میرے سینے پر اتنا شدید نہ ہوتا اور راتیں میری نظر میں اتنی سیاہ نہ ہوتیں۔ اس لیے کہ جو کوئی مصیبت و بے چارگی میں اپنے عزیزوں کے ساتھ دیتا ہے۔ وہ ایک ایسی مقدس تسکین محسوس کرتا ہے جو اپنے وجود کے لیے جذبہ شہادت کی مرہونِ ہوتی ہے بلکہ وہ اپنی ذات پر فخر کرتا ہے۔

میں بے گناہوں کے ساتھ بے گناہ مر رہا ہوں۔
میں اپنی بھوکی اور مظلوم قوم کے ساتھ نہیں جبکہ وہ موت کے جلوس کے ہمراہ شہادت کی بلندیوں کی طرف جا رہی ہے۔
میں سات سمندر پار یہاں سلامتی کے گہوارے میں زندگی بسر کر رہا ہوں۔
میں یہاں مصیبت اور مصیبت زدوں سے دور ہوں اور اپنی کسی چیز پر فخر نہیں کر سکتا۔
ایک پردیسی اپنے وطن ِ مالوف سے کوسوں دور۔
اگر میں خاکِ وطن میں گہیوں کا پودا ہوتا اور بھوکا بچہ مجھے توڑ کر کھاتا اور فاقے نہ مرتا۔
اگر میں اپنے وطن عزیز کے باغوں کا پھل ہوتا تو کوئی بھوکی عورت مجھے کھا کر اپنا پیٹ بھر لیتی۔
اگر میں اپنے وطن کی فضا میں پرندہ ہوتا، تو کوئی بھوکا مجھے شکار کرکے اپنے جسم سے موت کا سایہ دور کرتا۔

یہ کتنے افسوس کا مقام ہے کہ میں بلوچستان کے کھیتوں میں گیہوں کا پودا، نہ شال کی وادیوں کا پھل، اور یہی وہ خاموش ابتدا ہے جس نے مجھے خود میرے اور رات کی پرچھائیوں کے سامنے حقیر کردیا ہے۔
یہی وہ المناک کہانی ہے جس نے میری زبان اور ہاتھوں کو جکڑ کر مجھے اس حالت میں کھڑا کر دیا ہے کہ نہ میرے پاس عزم و ارادہ ہے نہ عمل۔
لوگ مجھے سے پوچھتے ہیں۔
تمہا رے ملک کی بربادی کیا ہے؟
اور وہ اشک و خون جو تمہارے ملک میں بہا کیا ہے؟
سوائے جو اس جوئے اشک وخون کے چند قطروں کے جو دن رات کرہ ارض کے میدانوں اور وادیوں سے پھوٹتی رہتی ہے سچ ہے۔
لیکن میرے ملک کی بربا دی خاموش بربادی ہے۔
میرے ملک کی بربادی وہ گناہ ہے، جس کے نتیجہ میں سانپ اور اژدھے پیدا ہوتے ہیں۔
میرے ملک کی بربا دی وہ المیہ ہے، جس میں نغمے ہیں نہ مناظر۔
میری قوم بے ایمان و دغا باز حاکموں کے خلاف بغاوت کرتی ہے اور بغاوت کے جرم میں ماری جاتی ہے تو میں کہتا ہوں
آزادی کی راہ میں مرنا غلامی کے سائے میں جینے سے بہتر ہے۔
اور جو شخص ہاتھ میں بندوق لیے موت سے ہم کنار ہوتا ہے وہ حق کے ساتھ زندہ رہتا ہے۔

اگر میتا وطن قومی جنگ میں حصہ لیتا اور اس کا ایک ایک بچہ میدانِ جنگ میں کام آجاتا تو میں کہتا کہ میری قوم ایک تیز وتند آندھی ہے جو اپنی قوت سے سبز اور سوکھی ٹہنیوں کو ایک ساتھ توڑ دیتی ہے، جبکہ طوفانی شاخوں میں دب کر مرنا بڑھاپے کی آغوش میں مرنے سے بہتر ہے۔

اگر دنیا میں کوئی زبردست زلزلہ آتا جس کے اثر سے میرا ملک بالکل الٹ جاتا اور میرے ہم وطن مٹی میں دب جاتے تو میں کہتا یہ مخفی قوتیں، یہ قوانین جن کو حرکت میں لانے کی ذمہ دار وہ قوت ہے جو انسانی قوتوں سے ارفع و اعلیٰ ہے اس لیے جہالت ہو گی ہم اگر اس کے اسرار کو سمجھنے کی کوشش کریں۔
لیکن میرے ہم وطن بغاوت کے جرم میں نہیں مرتے آزادی کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے ہلاک نہیں ہو ئے
ان کا ملک زلزلے نے تباہ نہیں کیا!
وہ غلامی کے گناہ میں مارے گئے!
میرے رشتہ دار سولی پر چڑھا دئیے گئے!
وہ مرے اور اس لیے مرے کہ انہوں نے ظالموں پر ظلم نہیں کیا
وہ مرے اور اس سر زمین پر بھوکے مرے، جہاں دودھ اور شہد کی نہریں بہتی ہیں!
وہ مرے اس لیے جہنمی اژدھے ان کھیتوں کے سارے مویشی اناج ہڑپ کرگئے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔