لاپتہ افراد کا مسئلہ، نیشنل پارٹی کا کردار – آصف بلوچ

140

لاپتہ افراد کا مسئلہ، نیشنل پارٹی کا کردار

تحریر : آصف بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

لاپتہ افراد کا مسئلہ بلوچستان کی دیگر تمام مسائل کی طرح ایک اہم، بنیادی اور گھمبیر مسئلہ ہے، ہزاروں بلوچ لاپتہ ہیں، ان لاپتہ ہونے والوں میں سیاسی کارکن، ڈاکٹرز، وکیل، اسٹوڈنٹس، دانشور، ٹیچرز، ادیب، قبائلی شخصیات شامل ہیں۔ لاپتہ افراد کا مسئلہ دیرینہ مسئلہ ہے لیکن موجودہ تحریک کے شروعات میں یہ سلسلہ جنرل پرویز مشرف کی دور آمریت میں شروع ہوا، علی اصغر بنگلزئی، حافظ سعید، میر عبدالنبی بنگلزئی، عالم پرکانی شروع میں جبری گمشدگی کا نشانہ بنے لیکن کچھ عرصہ بعد میر عبدالنبی بنگلزئی اور عالم پرکانی بازیاب ہوئے لیکن انہیں جسٹس نواز مری قتل کیس میں ملوث کرکے جیل بھیج دیا گیا اصغر بنگلزئی تاحال لاپتہ ہے، وہ پیشے کے لحاظ سے ٹیلر ماسٹر تھے۔ مزاحمت جیسے زور پکڑتا گیا جبری گمشدگیوں میں اضافہ ہوتا رہا، ریاست اور ریاستی ادارے بلوچ مزاحمت کو روکنے کے لئے جبری گمشدگیوں میں تیزی لائے، بے گناہ نوجوانوں کو اٹھا اٹھا کر عقوبت خانوں میں پھینکتے رہے، طالب علم زیادہ متاثر ہوئے اور جبری گمشدگی کا نشانہ بنتے رہے۔

2006 میں نواب اکبر خان بگٹی کی ایک فوجی آپریشن میں شہادت کے بعد لاپتہ افراد کی تعداد میں بہت زیادہ اضافہ ہوا اور سیاسی پارٹیوں نے اس انسانی مسئلے کو سیاسی فائدے کے لئے استعمال کرتے رہے اور ریاست سے سودا بازی کرکے مراعات و اقتدار حاصل کیا۔ اس انسانی مسئلے کو پولیٹیکل بینیفٹ اور پولیٹیکل بزنس کے طور پر استعمال کیا۔ نیشنل پارٹی جیسے قوم پرستی کے نام نہاد دعویدار اس مفاداتی سیاست میں کود پڑے، ریاست کی معاونت کا آغاز کیا جام یوسف کے دور اقتدار سے لیکر مالک کے وزیراعلیٰ کی منصب تک خوب مراعات حاصل کرتے رہے اور لاپتہ افراد کی مسئلہ پر آنکھیں کبوتر کی طرح بند رکھے۔ نیشنل پارٹی نے جب 2013 کے انتخابات کے بعد مسلم لیگ سے اتحاد کرکے اقتدار حاصل کیا انہوں نے بلوچستان کے مسائل کو ترجیح دینے کے بجائے وزارتوں کو ترجیح دی، جس وجہ سے ڈاکٹر مالک بلوچ کے دور اقتدار میں بلوچستان کی صورتحال مزید بگڑ گئی، لاپتہ افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا، مکران میں فوجی آپریشن اور قتل عام میں تیزی لائی گئی اس دوران کبھی بھی نیشنل پارٹی نے لاپتہ افراد کے مسئلہ کو نہیں اٹھایا نہ اپنے اتحادیوں سے اس متعلق خاطر خواہ احتجاج کیا۔

بلوچستان کے مسائل سے آنکھیں چرا کر نیشنل پارٹی کے وزراء کرپشن و اقرباء پروری میں مصروف ہوگئے، آج یہ لاپتہ افراد کے لئے احتجاج کرتے ہیں، کاش ان کے دور حکومت میں پانی کی ٹینکیوں سے کرپشن کے پیسوں کے بجائے فوجی عقوبت خانوں سے لاپتہ بلوچ برآمد ہوتے، مالک، حاصل کرپشن و کمیشن کے لئے قومی مفادات کا سودا کرنے کے بجائے بلوچ وسائل کا محافظ بنتے تو آج یہ نوبت نہیں آتی۔ مری معاہدہ بلوچستان کی پارلیمانی سیاست پر ایک سیاہ کلنک ہے، نیشنل پارٹی احتجاج کرنے کے بجائے وہ محرکات سامنے لائے کہ لاپتہ افراد کو کون، کیوں اٹھا رہا ہے وہ کہاں مقید ہیں؟ اقتدار کے بعد لاپتہ افراد کے لئے احتجاج اس محاورے کے مصداق ہے کہ اگر جنگ کے بعد مکا یاد آئے تو اپنے منہ پر رسد کرنا چاہیے۔

2018 کے انتخابات میں نیشنل پارٹی نے ڈیتھ اسکواڈ کے متحرک سربراہ شفیق مینگل سے خضدار میں انتخابی اتحاد کیا اگر وہ اس انتخابی اتحاد کے بدلے شفیق سے کچھ لاپتہ افراد بازیاب کرانے کا مطالبہ کرتے تو اس اتحاد کا مقصد سمجھ میں آتا لیکن اسلم بزنجو نے بغض معاویہ میں اتحاد قائم کیا، اس کے باوجود کہ نیشنل پارٹی توتک اجتماعی قبروں کی برآمدگی کا نام نہاد دعویٰ کرتا ہے لیکن اجتماعی قبروں، نوجوانوں کے قتل عام اور گمشدگیوں میں ملوث شفیق مینگل سے انتخابی اتحاد بھی قائم کرتے ہیں۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ نیشنل پارٹی بلوچ قومی تحریک کے خلاف ریاستی ڈیتھ اسکواڈز کو سپورٹ کرتی ہے۔

نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماوں کے ریاستی ڈیتھ اسکواڈز سے اچھے مراسم قائم ہیں، اسلم بزنجو، کمال بنگلزئی، حضور بخش بنگلزئی، رحمت صالح، مالک صالح، فدا دشتی کے علاوہ خالد لانگو اور علی حیدر محمدحسنی کا تعلق بھی نیشنل پارٹی سے رہا ہے۔ نیشنل پارٹی ریاست کا سیاسی اسکواڈ ہے جو ڈیتھ اسکواڈز کو افرادی قوت فراہم کررہی ہے۔ قومی تحریک کو کچلنے کے لئے بھر پور معاونت فراہم کررہے ہیں۔ حاصل بزنجو گزشتہ روز ایک پاکستانی چینل پر انٹرویو میں کھل کر بلوچ تحریک کی مخالفت کررہا تھا، قومی تحریک آزادی کی مخالفت اور لاپتہ افراد کے لئے رسمی مظاہرہ منافقانہ طرز عمل ہے جو ہمیشہ اس گروہ کا وطیرہ رہا ہے، دراصل نیشنل پارٹی لاپتہ افراد کے کارڈ کو استعمال کرکے ایک بار پھر اقتدار تک رسائی حاصل کرنا چاہتی ہے۔ لیکن بلوچ قوم نیشنل پارٹی کی ان مذموم مقاصد کے سامنے دیوار بن کر کھڑی ہوگی، شہداء و لاپتہ اسیران کی قربانیوں کو انہیں سیڑھی بنانے نہیں دینگے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔