سندھ: جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ

81

وائس فار مسنگ پرسنز آف سندھ کی دی گئی کال پر سندہ سے قوم پرست کارکنان کی جبری گمشدگیوں کے خلاف آج حیدرآباد، لاڑکانہ، کراچی، میہڑ، دادو، کشمور، کندھکوٹ سمیت سندھ کے دیگر شہروں میں احتجاج مظاہرے کیئے گئے۔

وائس فار مسنگ پرسنز آف سندھ کے رہنماوں کے مطابق ریاستی فورسز سندھیوں پر اپنی ساری فورسز کی طاقت کا استعمال کر رہی ہیں اور وہ سندھی نوجوان سیاسی کارکنان کو جبری طور لاپتا کرکے سندھیوں کی نسل کشی کی طرف بڑھ رہی ہے، سندھیوں کی جس نسل کشی پر عالمی دنیا کو نوٹس لینا چاہیے۔

جبری گمشدگیوں کے خلاف حیدر آباد پریس کلب کے سامنے یوتھ ایکشن کمیٹی، وائس فار مسنگ پرسنز آف سندھ اور لاپتا افراد کے لواحقین کی جانب سے احتجاجی کیمپ لگائی گئی جس کی رہنمائی یوتھ ایکشن کمیٹی رہنماوں و لاپتا افراد کے لواحقین نے کی۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے رہنماوں اور لواحقین کا کہنا تھا سندھ بھر میں جبری گمشدگیوں کی حالیہ لہر سندھ کے حالات کو خراب کرنے کی طرف لے جائے گی، سندھ بھر سے سیکڑوں کی تعداد میں سیاسی و قومپرست کارکنان کو ریاستی فورسز نے اٹھاکر لاپتا کردیا ہے

مظاہرین کا کہنا تھا کے ریاست تمام لاپتا افراد کو عدالتوں میں پیش کرے اور اگر جبری گمشدگیوں کا یہ سلسلہ روکا نہ گیا تو سندھ کی ساری سیاسی و سماجی جماعتوں سے مل کر مشترکہ جدوجہد کا لائحہ عمل بنائینگے۔ جس کے بعد ایک مسلسل جدوجہد کا آغاز کریں گے۔

دوسری جانب لاڑکانہ پریس کلب کے سامنے بھی وائس فار مسنگ پرسنز آف سندھ اور لاپتا عاقب چانڈیو کی فیملی کی جانب سے احتجاجی کیمپ لگائی گئی ہے اور دادو کے علاقے فریدآباد سے گذشتہ دن ریاض خاصخیلی اور دو ہفتے قبل اس کے دوسرے بھائی امتیاز خاصخیلی کی جبری گمشدگی کے خلاف ان کے لواحقین اور وی ایم پی کارکنان کی جانب سے آج میہڑ بائی پاس پر دھرنا دیا گیا-

کراچی پریس کلب پر ‘سندھ سبھا’ فورم کے رہنماء انعام عباسی کی جانب سے آج ۴٢ دن بھی مسلسل احتجاج جاری رہا۔ جبکہ گولاڑچی (بدین) میں جبری لاپتا کیئے گئے جسقم (آریسر) رہنما محفوظ اسماعیل نوتکانی کے لواحقین و سیاسی سماجی کارکنان کی جانب سے احتجاج ہوا۔

اسی طرح سندہ کے دیگر علاقوں میں کارکنان کی جبری گمشدگی کے خلاف احتجاجی مظاہرے تشکیل دی گئی ہے –

وائس فار مسنگ پرسنز آف سندھ کی رہنما سورٹھ لوہار نے کہا کہ اس ریاستی آپریشن،جبر بربریت،تشدد اور جبری گمشدگیوں کے خلاف پوری سندھ میں احتجاجوں کا دائرہ وسیع کیا جائیگا جب تک ظلم جاری رہے گا ہمارا احتجاج جاری رہے گا۔