باتوں کے شیر – امجد دہوار

76

باتوں کے شیر

تحریر۔ امجد دہوار

دی بلوچستان پوسٹ

جب ہم موٹی موٹی کتابیں لکھتے ہیں یا کسی تحریر میں اپنے الفاظ قلم بند کرتے ہیں یا کوئی سبق آموز بات کرتے ہیں تو ہمارے لکھنے کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ لوگ ہماری لکھی ہوئی باتیں پڑھ کر ان پہ عمل کریں مگر یہاں سب سے پہلے ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو باتیں یہاں ہم کر رہے ہیں کیا ہم خود بھی ان باتوں پر عمل کرتے ہیں کہ نہیں؟ میرے خیال میں جب ہم خود جن حالات سے گذرتے ہیں تو گذرے ہوئے کل میں جو ہم نے باتیں تحریر یا کسی شکل میں کہی تھی، آج انہی باتوں سے ہم دور بھاگتے نظر آئیں تو یہ ہماری ذہنی طور پہ اپاہج ہونے کا ایک منہ بولتا ثبوت ہوتا ہے کہ ہم جو بڑی بڑی ڈگریوں اور موٹی موٹی کتابوں کا حوالہ دیتے ہیں مگر وقت آنے پر ہم خود ہی لکیر کہ فقیر بن جاتے ہیں اور دوسری جانب ہم اپنے کچھ ذاتی مفادات کیلئے اپنے ہی لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، ایک پاک صاف اور عظیم رہنماء کی کردار کشی کرتے ہیں۔ صرف اس لیے کہ وہ حق کی بات کرتے تھے، لوگوں کو یہی تعلیم دیتے تھے کہ وہ حق کی راہ پر چلیں اور اس کے لئے وہ اپنی ذاتی خواہشات تک کو پس پشت چھوڑ دیتا ہے۔

آج جن باتوں کے ذریعے سے لوگوں کو گمراہ گرنے کی کوشش کی جارہی ہے، کل کو ہماری یہی باتیں، ہماری یہی تحریریں، اس بات کا ثبوت دیں گی کہ ہم تو خود اپنی انہی باتوں پہ پورا نہیں اتر رہے، جن پر ہم دوسروں کو عمل کرنے کا کہتے تھے اور تب ایک ایسا وقت آئے گا کہ ہمیں افسوس کرنے یا معافی مانگنے کا موقع ہی نہیں ملے گا۔ بس لعنت و شرمندگی ہی ہمارا مقدر ہوگی تو آنے والی لعنت و شرمندگی سے بچنے کیلئے ہمیں کیوں نہ آج ہی اپنے لکھی ہوئی کتابوں، تحریروں اور ان باتوں پہ خود ہی عمل کرکے دکھائیں تاکہ کل ہمارے یہی الفاظ ہی ہماری سچائی کی گواہی دیں وگر نہ ہماری یہی کتابیں تحریریں اور سبق آموز باتیں ہی ہماری منافقت کی داستانیں سنائیں گی۔ کل کو ایک زندہ مثال بننے کیلئے آج ہمیں اپنی کہی ہوئی باتوں پر عمل کرنا ہوگا۔

ہمارے آج کاعمل اورہماری تعلیمات لوگوں کے درس کا سبب بنیں گی۔ عظیم استاد عظیم جنرل کی تعلیمات ہمارے لیے مشعل راہ ہیں ۔ وہ خود کیسے اپنی کہی ہوئی باتوں پر عمل کرتے رہے اور آج ہمارا ضمیر ہمیں ان کی کہی ہوئی ہر بات پر عمل کرنے پر زور دیتا ہے اور ہمیں محسوس بھی ہوتا ہے کہ ہم تعلیمات جنرل کے بنا ادھورا ہیں۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔