بابو نوروز خان و ساتھیوں کی قربانی بلوچ قوم کےلئے مشعل راہ ہے – بی ایس ایف

134

بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے کہا  کہ 1958 میں آزادی کی جدوجہد میں شہادت کا رتبہ پانے والے بابو نوروز خان زرکزئی ,میر دلمراد لاشاری، شہید میربٹے خان زرکزئی، شہید مستی خان زرکزئی ،شہید میر غلام رسول لاشاری ،شہید میربہاول خان موسیانی، شہید جمال خان جام، شہید میر ولی محمد موسیانی اور ان کے فکری ساتھیوں کی جدوجہد مثالی اور بلوچ قوم کے لئے مشعل راہ ہے بابو نوروز خان اور ان کے ساتھیوں نے ون یونٹ اور غلامی کے خلاف جدوجہد کو ایک جست دی یہ سلسلہ آغا عبدالکریم خان کے جدوجہد کا تسلسل تھا استمان گل اور آزادی کمیٹی کا بلوچستان خاص کر قلات و گرد نواح میں وسیع تر تیاری جو آغا عبدالکریم کی گرفتاری کے بعد ادھورا رہ گیا تھانوروز خان اور ان کے ساتھیوں نے اسی کوششوں کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کی ابتداء میں میر دلمراد نے اپنے چند فکری ساتھیوں اور اپنی قبیلہ کے کچھ افراد سے مل کر جدوجہد کی داغ بیل ڈالی بعد میں انہوں نے بابو نوروز کی قیادت میں متفقہ طور پر جہد آزادی کے سلسلہ کو آگے بڑھا یا جہاں انہوں نے آزادی کے لئے قومی جدوجہد کو ترجیحات اول سمجھے وہاں انہوں نے ایوب خان سمیت مختلف حکومتی نمائندوں کو اپنا پیغام پہنچانے کی کوشش کی ایوب خان کو لکھے گئے ان کے خطوط اورکچھ غیر ملکیوں کی گرفتاری کے بعد ان کے پیغامات سے یہ واضح ہے کہ ان کا مطالبہ صرف اور صرف آزادی کا تھا ان کا مطالبہ اور ایجنڈا بہت واضح اور دو ٹھوک تھا بابو نوروزاور ان کے ساتھیوں کے مثالی اورشاندار الفاظ جو دہرانے کے لائق ہے ان کاکہنا تھا کمزوری اور تذبذب دکھانے سے تحریکیں مضبوط نہیں ہوتے یہ وہی لوگ کرتے ہیں جنہیں اپنی آزادی سے دلچسپی نہیں ہوتی آزادی چاہنے والے انجام کا پرواہ کئے بغیر،بغیر کسی ہچکچاہٹ کی جدوجہد کرتے ہیں جیل میں پھانسی کے سزا پانے والے بہادر فرزندوں کا کہنا تھا کہ یہ جدوجہد ہماری گرفتاری سے ختم نہیں ہوسکتے ہماری خون سے اس کی بنیادوں کی تعمیر ہوگی ہماری شہادت ضرور اپنا رنگ جہدوطن کی صورت میں دکھائے گی پھانسی گھاٹ پر جانے والوں کے آجوٸی کا نعرہ ان کی واضح اور اصولی موقف کو اور بھی واضح کردیا ہے ہمارے بعض لوگ ان کی جدوجہد کو خان کی گرفتاری سے تعبیر کرتے ہیں وہ یا زمینی حقائق کو مسخ کررہے ہیں یا انہیں زمینی حقائق کا علم نہیں یا پھر وہ بھی ریاست اور پارلیمنٹ کے دلدادہ بلوچوں کے پروپیگنڈہ اور ڈس انفارمیشن کا بلواسطہ شکار ہوچکے ہیں ترجمان نے کہاکہ ان کی جدوجہد کو کچلنے کے لئے تمام تر طاقت استعمال کیا گیا لیکن ریاست کی ناکامی ہوئے اور پھرانہیں نام نہاد مذاکراتی حربوں کے صورت میں دھوکہ سے گرفتار کرکے پابند سلاسل کیا گیا بعد ازان کے ساتھ ساتھیوں کو پھانسی دیکر شہید کیا گیااوربا بو نوروز خان شہید میر دلمراد لاشار ی میر جلال خان زرکزئی اور میر محمد عمر کو تا حیات قید کی سزاء دیکر پس زندان کیا گیا دوران حراست انہیں سخت تریں تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا زہنی و جسمانی ٹارچر اور تفتیش و ازیت کے سخت تریں مرحلوں سے انہیں گزار گیا بابونوروز خان گرفتاری کی ابتدائی سالوں می جیل ہی وفات پاگئے ترجمان نے کہاکہ 1958میں بابو نوروز اور ان کے دیگر آزادی خواہ ساتھیوں نے بے سروسامانی کے ساتھ جدوجہد کی اگر انہیں مذاکرات کے نام پر دھوکہ نہیں دیا جاتا تو شاید آج بلوچ اپنی منزل کوپاکر آزاد ی کی ساتھ زندگی گزارہے ہوتے ان کی سرفروشی اور شہادت نے قومی اورسماجی جذبوں کی نشودنماء کی ترجمان نے بابونوروزخان زرکزئی اور ان کے تمام فکری دوستوں سمیت سنگت ورنا نوروز شہید عبدالقادر لانگوکو آزادی جیسے عظیم مقصد کے لئے قربانیوں اور بہادرانہ شہادت پر خراج تحسین پیش کرتے ہو ہے کہا ہے کہ تاریخ ان کے جدوجہد اور نام کو ہمیشہ دہراتے ہوئے سنہرے الفاظ میں یاد کریگی۔