اتحاد کا ڈھکوسلہ – آصف بلوچ

153

اتحاد کا ڈھکوسلہ

تحریر : آصف بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

توڑ پھوڑ، تقسیم در تقسیم، انتشار پھیلانے اور غداری کی سرٹفیکٹس دینے والے گروہ اتحاد کی بات کریں، کچھ عجیب محسوس ہوتا ہے، اتحاد کا نعرہ اب فیشن بن چکا ہے، عملی طور کوئی بھی اتحاد کے لئے تیار نہیں کیونکہ ہم نے جو ڈیڑھ ڈیڑھ انچ کے مسجد تعمیر کئے ہیں ان کو کوئی منہدم کرنا نہیں چاہتا اور ان ڈیڑھ انچ کے مسجدوں میں بیٹھ کر ہر کوئی فتویٰ جاری کرکے اپنے آپ کو از خود ایماندار، مخلص اور قوم کا خیرخواہ ظاہر کرتا ہے اور دوسروں پر بہتان تراشی کرکے اتحاد کی دعوت دیتا ہے اور پھر کہا جاتا ہے ہم تو اتحاد کے لئے تیار تھے لیکن دوسرے فریقین نے دلچسپی ظاہر نہیں کئے اور یوں اتحاد نہیں ہوسکی۔ جب آپ اپنے آپ کو مخلص اور دوسروں کو غدار ثابت کرو گے پھر اتحاد کیسے ہوگی۔ جس طرح آپ صرف الزامات کا سہارا لے رہے ہو، ایسے بہت سے الزامات تم پر بھی ہے۔ بی ایل اے کی تقسیم اور یو بی اے کی قیام، مڈی کے نام پر جنگ و جدل، رحم دل مری کا اغواء، تمام تنظیموں، پارٹیوں پر الزامات، تحریک سے وابستہ رہنماوں کی کرداد کشی، نام نہاد ڈسپلن کے نام پر بی ایل اے میں دھڑہ بندی یہ سب تمہارے ہٹ دھرمی اور انا پرستی کی واضح مثالیں ہیں، حمل حیدر اور میجر مجید اتحاد کا پیغام لے کر آپ کے پاس آئے تھے ان کو کیا جواب دیا تھا اور آپ موصوف نے پھر ان سے ملنے سے کیوں انکار کیا تھا؟ بی این ایف کیوں تقسیم ہوئی اور اپنے آپ کو کیسے خود ساختہ طور پر عالمی سفیر مقرر کیا تھا؟ چارٹر کی تشکیل میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو کیوں شامل نہیں کیا گیا؟ آپ کس بنیاد پر ایک قومی دستاویز کو یکطرفہ تشکیل دے سکتے ہو؟ کیا دنیا میں کہیں ایسی کوئی مثال موجود ہے کہ فرد واحد ملک کا چارٹر اکیلے تشکیل دے کر سب پر تھونپ دے؟ چارٹر اس وقت متنازعہ ثابت ہوا جب نواب خیر بخش مری نے اس سے لاتعلقی کا اظہار کیا، جب اس متعلق ساتھیوں نے حیر بیار مری سے پوچھا تھا کہ نواب صاحب چارٹر سے لاعلم ہے، کیا آپ نے ان سے رابطہ کیا ہے تو انہوں نے ساتھیوں کو جواب دیا تھا کہ ان سے کون پوچھتا ہے۔

خود نمائی اور خود غرضی میں اتنے آگے چلے گئے تھے کہ وہ موجودہ تحریک کے بانی نواب خیر بخش مری کی قیادت اور رہنمائی کو بھی تسلیم کرنے سے انکاری ہوگئے تھے، جب کوئی فرد نواب مری کے قومی کردار سے انکار کرے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے کہ تحریک ان کے مرہون منت ہے، اور ان کے درباری دن رات یہ ثابت کرنے میں لگے کہ تحریک حیر بیار کے بدولت شروع ہوا ہے تو پھر یہ سورج کو انگلی سے چھپانے کی کوشش اور ہزاروں شہیدوں کے علاوہ بزرگ قومی رہنماوں کی قربانیوں و جدوجہد سے انحراف ہے۔ سوشل میڈیا پر انہوں نے نواب صاحب کے بارے میں جو کچھ لکھوایا اپنے درباریوں سے وہ تاریخ کا حصہ ہے۔ چارٹر آپ کے تنظیم کا ہوسکتا ہے لیکن پوری قوم کا متفقہ چارٹر قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اس طرح ہر پارٹی اور تنظیم کا چارٹر الگ الگ ہے، وہ کم از کم نکات پر یکجاء ہوکر جدوجہد کرتے ہیں لیکن یہاں آپ نے یہ شرط عائد کررکھا ہے جو چارٹر کو تسلیم نہیں کرے گا ان سے اتحاد نہیں ہوسکتی یہ راہنمایانہ اصول نہیں بلکہ بدترین ڈکٹیٹر شپ ہے۔

پھر آپ بی این ایم، بی آر پی سمیت دیگر سے کیسے یہ امید رکھ سکتے ہیں کہ وہ اپنے اصول اور منشور سرینڈر کرکے چارٹر کو تسلیم کرکے اتحاد کریں۔ اشتراک، انضمام، اتحاد کے کچھ اصول ہوتے ہیں، کوئی پارٹی کسی دوسرے پارٹی کے منشور کا پابند نہیں۔ جب دو، تین یا اس سے زائد پارٹیاں کچھ نکات پر مشترکہ جدوجہد کے لئے اتحاد کرنا چاہتے ہیں تو وہ اپنے پارٹی منشور کو ایک سائیڈ پے رکھکر اتحاد کے لئے وقتی کچھ اصول، قوائد و ضوابط مرتب کرکے ان اصولوں کے پابند ہوکر جدوجہد کرتے ہیں۔ اس طرح انضمام و ادغام کے لئے تمام پارٹیاں اپنی اپنی آئین تحلیل کرکے وقتی آئین تشکیل دے کر پھر قومی کونسل سے ایک متفقہ آئین پر اتفاق کرکے مرتب کرتے ہیں۔ آپ اتحاد سے پہلے اتحادی عمل کو سبوتاژ کرتے رہے ہو آپ میر جاوید مینگل اور میر مہران مری کے متعلق جو تحفظات رکھتے ہو، اس طرح کے تحفظات بی این ایم آپ پر، بی آر پی، سیلمان داود پر رکھتی ہے۔ ان تحفظات کو دور کرنے کے لئے ایک مشترکہ ثالثی کمیٹی تشکیل دیا جائے لیکن سوال یہ ہے کہ آپ اپنے علاوہ کسی اور کو تسلیم نہیں کرتے اور نہ ہی اپنے علاوہ کسی پر آپ کو اعتبار ہے۔

دوسرا آپ کہتے ہیں کہ ان سے اتحاد نہیں ہوسکتا جن کا ایک پیر یہاں ایک پارلیمنٹ میں ہے، اس اصول کے تحت آپ سے بھی اتحاد نہیں ہوسکتا کیونکہ آپ کے دو بھائی پارلیمنٹ پرست ہیں، براہمدغ کے چچا زاد بھائی اور سیلمان داود کا پورا خاندان پارلیمنٹ کا حصہ ہے۔ جس طرح آپ اپنے بھائیوں کے قول و فعل، براہمدغ اپنے چچا زاد بھائیوں کے کسی فعل کا ذمہ دار نہیں۔ اس طرح جاوید مینگل اپنے بھائی کے کسی بھی سیاسی فیصلے کا ذمہ دار نہیں ہوسکتا ہے۔ یہ بات آپ کی خود ساختہ اصول نہیں بلکہ انا پرستی کے زمرے میں آتا ہے۔

آپ کو مہران بلوچ اور میر جاوید مینگل سے تحفظات ہیں، تو بی آر پی اور بی این ایم کی ثالثی میں بیٹھ کر بات چیت کریں اپنے تحفظات سامنے رکھیں اور ان کے تحفظات بھی سنیں۔ اگر بیٹھنے اور بات چیت سے راہ فرار اختیار کرتے ہو اس کا مطلب ہے کہ آپ انا پرستی کا شکار ہے اور جو آمرانہ رویہ اختیار کیا ہے، اس وجہ سے اب کوئی آپ پر بھروسہ کرنے کے لئے تیار نہیں آپ موصوف نے ایک مضبوط و منظم تحریک کو اپنے انا کی بھینٹ چڑھا کر ریزہ ریزہ کردیا، اب الزامات کی بوچھاڑ میں دوبارہ اتحاد کی دعوت محض سیاسی ڈھکوسلہ ہے، جو اختلافات آپ رکھ رہے ہیں یا جن اختلافات کو بنیاد بناکر قومی تحریک کو کمزور کیا وہ اختلافات نہ نظریاتی ہے نہ ہی سیاسی ہے بلکہ ذاتی انا، کینہ اور بغض کا شکار ہوکر آپ نے تحریک کو نقصان پہنچایا، جب تک بغض اور انا پرستی کا شکار رہو گے اتحاد مشکل نہیں بلکہ ناممکن ہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔