والد کے گمشدگی کے بعد سکون کا لمحہ بھی میسر نہیں – سمی بلوچ

280
فوٹو: سمی دین نے وی بی ایم پی کے لانگ مارچ میں حصہ لیا۔

28 جون کو ہماری آواز بنیں۔سمی دین محمد بلوچ

بلوچ نیشنل موؤمنٹ کے لاپتہ مرکزی رہنماء ڈاکٹر دین محمد بلوچ کی بیٹی سمّی بلوچ نے کہا ہے کہ گیارہ سال قبل 28 جون 2009 کو میرے والد ڈاکٹر دین محمد بلوچ کو سیکورٹی اہلکار اغواء کرکے لے گئے۔ اُس دن سے لے کر آج تک، میں اور میرا خاندان ایک انتہائی کربناک زندگی گزاررہے ہیں۔ سکون کا ایک لمحہ بھی ہمیں نصیب نہیں۔ ہماری تعلیم، گھریلو اور سماجی زندگی سب کچھ تہس نہس ہوکر رہ گئی ہے۔ میرے والد پیشے کے لحاظ سے ایک ڈاکٹر ہیں، جس نے ایم بی بی ایس پاس کرنے کے بعد بلوچستان پبلک سروس کمیشن کے توسط سے میڈیکل آفیسر کا عہدہ حاصل کیا اور بلوچستان کے دیہاتوں میں غریب عوام کی خدمت کرتے رہے۔

انہوں نے کہا کہ میرے والد ایک جمہوری سیاسی پارٹی بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) سے بھی وابستہ تھے۔ کسی تعلیم یافتہ شخص، ڈاکٹرا ور پر امن سیاسی جدوجہد پر یقین رکھنے والے کو اس طرح اغواء کرکے سالہا سال ان کے خاندان کو بے خبر رکھ کر تمام بنیادی انسانی حقوق و قوانین کی پامالی ہے۔ انہیں کسی پوشیدہ یا مشکوک جگہ سے نہیں بلکہ اپنی ڈیوٹی کے دوران گرفتار کرکے لاپتہ کر دیا گیا تھا۔

سمّی بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں اس طرح کی مثالیں بہت ہیں۔ بی این ایم کے سربراہ غلام محمد بلوچ کو ان کے وکیل کے دفتر سے اغواء کرکے ماورائے عدالت قتل کرکے لاش ویرانے میں پھینک دی گئی۔ یہی خوف و خدشہ ہمیں بھی ہے کہ اگر میڈیا، انسانی حقوق کے اداروں نے اپنی ذمہ داریاں نہ نبھا کر ہمارے ان مسائل کو حل کرنے میں مدد نہیں کی تو میرے والد سمیت ہزاروں بلوچوں اور خود ہمیں انہی ناکردہ گناہوں کی سزا ملتی رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ 28 جون 2009 کو میرے والد ڈاکٹر دین محمد بلوچ خضدار کے علاقہ اورناچ میں اپنی ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے کہ رات کے وقت مسلح افراد دروازہ توڑ کر انکی سرکاری رہائش گاہ میں داخل ہوئے۔ انہیں بے حد تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ہاتھ پاؤں باندھ کر گاڑی میں اپنے ساتھ لے گئے۔ انکے ساتھ ان کی رہائش گاہ میں سرکار کی طرف سے فراہم کردہ چوکیدار بھی موجود تھا، جن کو سیکورٹی اہلکاروں نے تشدد کا نشانہ بناکر ہاتھ پاؤں باندھ کر وہیں چھوڑ دیا۔

سمّی بلوچ نے کہا کہ ہمارا خاندان ایک انتہائی کربناک زندگی گزار رہی ہے۔ میں، میرا بھائی اور میری چھوٹی بہن نہایت کم عمری میں اپنی باپ کی شفقت و پیار سے زبردستی محروم کئے گئے۔ میری دادی اپنے بیٹے کے غم میں سسک سسک کر دنیاسے چلی گئیں۔ جس دن سے میرے ابواغواء ہوئے ہیں، اس دن سے آج تک ہماری زندگی میں سکون اور چین کا ایک دن بھی نہیں آیا۔ ان کی بازیابی کیلئے ایف آئی آر سے لے کر کورٹ پٹیشن، عدالتی کمیشن تک سارے قانونی طریقے آزمائے۔ پریس کانفرنس سے لے کر بھوک ہڑتال، احتجاج اور کوئٹہ سے اسلام آباد تک ہزاروں کلومیٹر پیدل لانگ مارچ، غرض ہم نے جمہوری احتجاج کے تمام ذرائع استعمال کئے، لیکن کوئی بھی قانونی و جمہوری عمل کارگر ثابت نہ ہوسکا۔

انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان خود اپنی آئین و شہری حقوق کی پاسداری کرتا تو نہ لوگوں کو اس طرح غائب کرتا اور نہ لاپتہ افراد کے لواحقین درد و الم کا عملی نمونہ بنتے۔ پاکستان ہمیں وہ حقوق دیتی جن کی ضمانت پاکستان کی آئین دیتا تو آج ہم اپنے ابو کے سایہ سے محروم نہ ہوتے۔ اپنے آئین و قوانین کے علاوہ پاکستان نے انسانی حقوق کے جتنے عالمی مسودوں پر دستخط کیئے ہیں، اُنکی پاسداری کی جاتی تو ہمیں آج ہمیں یہ دن دیکھنے کو نہ ملتے۔ نہ ہی پاکستان اپنے عدالتی نظام پر یقین کرکے ہماری اس اپیل پر غور کر رہا ہے کہ اگر میرے والد پر کوئی الزام ہے تو انہیں عدالتوں میں پیش کیا جاتا۔

سمی بلوچ نے کہا ہم انسانی حقوق کے تمام اداروں، اقوام متحدہ اور دیگر اداروں سے اپیل کرتے ہیں کہ ہماری دادرسی کرتے ہوئے ریاستِ پاکستان پر دباؤ ڈالیں کہ ہمارے والد صاحب کو منظر عام پر لے آئیں۔ ہم اٹھائیس جون کو اپنے والد کی عدم بازیابی کے خلاف کوئٹہ پریس کلب کے سامنے ایک احتجاجی مظاہرہ کررہے ہیں۔ تمام انسانی حقوق کے کارکنوں، سول سوسائٹی، وکلا برادری، تاجر برادری سمیت تمام مکتبہ فکر کے لوگوں سے اپیل ہے کہ اس احتجاج میں شرکت کرکے ہماری آواز بنیں۔