دین محمد کہاں ہے؟ – آصف بلوچ

176

دین محمد کہاں ہے؟

تحریر: آصف بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

ڈاکٹر دین محمد پیشے کے لحاظ سے ایک طبیب تھا، عام الفاظ میں ڈاکٹر و طبیب کو مسیحا کہا جاتا ہے۔ دین محمد عمل و کردار سے بھی مسیحا تھا، وہ انسانیت کی خدمت کے لئے اورناچ جیسے پسماندہ اور دور افتادہ علاقے میں اپنی خدمات سرانجام دے رہے تھے۔ غریب، نادار و مسکین لوگوں کی علاج و معالجہ کرتے تھے وہ درد دل رکھنے والا ایک انسان تھا۔

دین جان سے ملکر اپنائیت محسوس ہوتا تھا۔ میں ان سے ایک دفعہ ملا تھا ہمارے اس مجلس میں سنگت غفور بلوچ اور شہید رسول بخش مینگل شریک تھے۔ غفور بلوچ بھی گذشتہ 11 برسوں سے لاپتہ ہے۔ اس مجلس میں مزاحمتی و پارلیمانی سیاست، بلوچ تحریک کے نشیب و فراز پر بحث و مباحثہ ہوا ڈاکٹر دین محمد بلوچ نے مزاحمتی جدوجہد، معروضی و موضوعی صورتحال پر انتہائی مدلل انداز سے اپنا موقف اور خدشات و تحفظات بیان کئے۔ وہ سمجھتے تھے کہ ان حالات میں جب قابض بلوچ قوم کے سیاسی و سماجی اور دیگر معاملات پر اثر انداز ہورہی ہے اگر انہیں روکنے کے لئے ٹھوس سیاسی مزاحمتی اقدامات نہیں کئے گئے اور ہم اپنے ذمہ داریوں سے غافل رہے تو بلوچ سماج میں قابض اپنی سیاسی ثقافت، اور مذہبی رحجانات کو انجیکٹ کرکے قوم پرستانہ سوچ کو ختم کرنے کی کوشش کرے گی اور ریاست کی نشانہ بلوچ ذانتکار طبقہ ہوگا۔ وہ ہمارے پڑھے لکھے لوگوں کو نشانہ بناکر بلوچ قوم کو علمی، فکری اور سیاسی طور پر بانجھ بنانے کی کوشش کرے گی۔ ڈاکٹر دین محمد کا تجزیہ سوفیصد درست ثابت ہوا ریاست اور آن کے گماشتے بلوچ قومی تحریک کو کاونٹر کرنے کے لئے بلوچ شعور پر حملہ آور ہوئے انہوں نے بلوچ انٹیلیجنسیا کو نشانہ بنایا اور یہ سلسلہ آج بھی شدت سے جاری ہے۔ بلوچ سرزمین اور جغرافیائی حدود سے باہر خلیج اور یورپ میں پولیٹیکل ایکٹوسٹ اور انٹلیکچوؤل محفوظ نہیں ہے۔ 12 سال قبل جن حالات کی پیشنگوئی ڈاکٹر دیں محمد بلوچ نے کیا تھا آج صورتحال اس سے بھی زیادہ ابتر ہے۔

2009 کے بعد حالات تیزی سے خراب ہوتے گئے، قابض اپنی نوآبادیاتی تسلط کو برقرار رکھنے کے لئے بلوچ قوم پرستوں کو کچلنے کا آغاز کیا، پولیٹیکل ایکٹوسٹ جبری گمشدگیوں کا نشانہ بنے لگے، پھر مسخ شدہ لاشوں کا سلسلہ شروع ہوا، ڈیتھ اسکواڈ تشکیل دے کر قوم پرستوں کی سرکوبی، قتل و قتال کا سفاکانہ آغاز ہوا، ٹارگٹ و ماس کلنگ کے ذریعے بلوچ مزاحمتی فکر کو سبوتاژ کرنے کی بھر پور کوشیش کی گئی اور یہ سلسلہ تاحال مختلف طریقوں سے جاری ہے۔ جب ریاست نے جبری گمشدگیوں کا آغاز کیا تو سیاسی کارکن، دانشور، ٹیچرز، ادیب، شاعر اور ڈاکٹر اس کا نشانہ بنے۔ 28 جون 2009 کو دوران ڈیوٹی ڈاکٹر دین محمد کو اورناچ سے اغوا کرکے لاپتہ کیا گیا ایک دہائی گزر گیا لیکن دین محمد تاحال واپس نہیں آئے، سمی اور مہلب بابا کے منتظر ہے وہ ان کے تصویر اٹھائے کبھی کوئٹہ پریس کلب، کبھی کراچی پریس کلب،کبھی لانگ مارچ تو کبھی احتجاجوں میں شریک ہوتے ہیں اس امید سے ان کے بابا جان واپس آکر انہیں ان کی خوشیاں لوٹا دینگے۔

یہ کہانی سمی و مہلب کا صرف نہیں بلکہ بلوچستان کے ہر سمی و مہلب کا درد ایک ہے، انتظار ایک ہے۔ صرف سمی و مہلب کا سوال یہ نہیں کہ ان کا بابا ڈاکٹر دین محمد کہاں ہے؟ بلکہ لاپتہ افراد کی کیمپ میں بیٹھے ہر ماں و بہن کا سوال ریاست سے یہ ہے کہ ان کے پیارے، لخت جگر کہاں ہے؟

ریاست کو اس سوال کا جواب آج نہیں تو کل دینا ہوگا اور یہ سوال قابض سے نسل در نسل ہوتا رہے گا بلوچ کا یہ سوال ہر آنے والی نسل ریاست سمیت مہذب دنیا سے پوچھتا رہے گا اور یہ سوال کہیں نعروں اور کہیں گولیوں کی آواز میں گونجتی رہے گی۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔