بھارت نے چینی ایپ ٹک ٹاک پر پابندی عائد کردی

128

بھارت کی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) چین سے تعلق رکھنے والی 59 ایپس بشمول ٹک ٹاک، یو سی براؤزر، وی چیٹ اور بیگو لائیو کو بین کردیا ہے۔

بھارت نے چینی ساختہ ایپس کو ملکی خودمختاری، سالمیت، دفاع اور عوامی امن و امان کے لیے خطرناک قرار دیتے ہوئے اس پابندی کا اعلان کیا۔

انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق یہ فیصلہ چین اور بھارت کے درمیان لداخ میں حالیہ کشیدگی کے بعد کیا گیا اور چینی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے خلاف کیا جانے والا اب تک کا سب سے بڑا اقدام قرار دیا جارہا ہے۔

بیان میں کہا گیا ‘بھارتی شہریوں کے ڈیٹا سیکیورٹی اور پرائیویسی کے تحفظ کے حوالے سے خدشات موجود تھے، اس کے علاوہ ملکی خودمختاری اور سیکیورٹی کے لیے بھی خطرات کے خدشات سامنے آئے، وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کو متعدد ذرائع بشمول متعدد رپورٹس میں لاتعداد شکایات ملی تھیں، جن میں اینڈرائیڈ اور آئی او ایس پلیٹ فارمز پر موجود مختلف موبائل ایپس کے غلط استعمال کو رپورٹ کیا گیا تھا، جو صارفین کا ڈیٹا چوری اور غیرقانونی طریقے سے بھارت سے باہر سرورز پر منتقل کررہی تھیں’۔

بھارتی وزارت خارجہ کے زیر تحت انڈین سائبر کرائم کو آرڈینیٹ سینٹر نے ان ایپس کو بلاک کرنے کی سفارشات وزارت آئی ٹی کو بھیج تھی۔

بیان میں اس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ‘وزارت کے سامنے متعدد نمائندگان نے ان خدشات کا اظہار کیا تھا کہ مخصوص ایپس کو کام جاری رکھنے کی اجازت دینے سے شہریوں کے ڈیتا کی سیکیورٹی اور پرائیویسی خطرے میں پڑسکتی ہے’۔

دو ہزار پندرہ سے 2019 کے دوران چینی کمپنیوں بشمول علی بابا اور دیگر نے بھارتی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں ساڑھے 5 ارب ڈالرز سے زائد کی سرمایہ کاری کی تھی۔