بلوچستان کی اپوزیشن کا بجٹ کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے کا اعلان

30
File Photo

بلوچستان کی اپوزیشن جماعتوں نے مبینہ طور پر تصوراتی، ناقابل عمل اور فنڈز کی غیر منصفانہ تقسیم پر مشتمل بجٹ کو مسترد کرتے ہوئے اس کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے کا اعلان کردیا۔

یہ اعلان قائد حزب اختلاف ملک سکندر، ملک نصیر شاہوانی، نصر اللہ زیرے اور دیگر اراکین نے بجٹ اجلاس کے اختتامی سیشن کے بائیکاٹ کے بعد پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

حزب اختلاف کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ صوبائی بجٹ عوام دشمن ہے اور پوری پی ایس ڈی پی میں عوام کی فلاح کے لیے ایک بھی معاشی فلاحی منصوبہ نہیں، بے روزگار لوگوں کے لیے بھی کوئی منصوبہ نہیں۔

انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی صورتحال یہ ہے کہ جو مریض اسپتال جاتا ہے اس کا وہاں سے جنازہ ہی نکلتا ہے، عوام تو دور کی بات ہے اراکین اسمبلی اور ان کے اہل خانہ کورونا وائرس کا شکار ہوئے حکومت کی جانب سے ایک ڈسپرین گولی تک ان کو فراہم نہیں کی گئی۔

اپوزیشن رہنماؤں نے مزید کہا کہ کورونا وائرس کی مد میں جو بھی فنڈز آئے ان کا حساب مانگنا ہمارا حق ہے، بجٹ کے بارے میں 2 سال سے رو رہے ہیں، حکمران بجٹ میں صرف اپنی پارٹی کے لوگوں کو نواز رہے ہیں اس لیے اب مجبوراً عدالت سے رجوع کررہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ زمینی حقائق حکومتی دعوؤں کے برعکس ہیں، پینے کا صاف پانی تک دستیاب نہیں اور پورے صوبے میں ٹڈی دل کی یلغار ہے، حکومت زمین داروں کو بجلی کی سبسڈی سے محروم رکھے ہوئے ہے، شیخ زید اسپتال کو کورونا اسپتال قرار دے کر مستونگ، قلات، مچھ اور دیگر علاقوں سے روزانہ کی بنیاد پر آنے والے 2 ہزار مریضوں کو علاج معالجے سے محروم کر دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ معائنہ ٹیم کی سفارشات پر عمل نہیں کیا جارہا، حکومت تمام وسائل اپنی جماعت کے ہارے ہوئے لوگوں کو نوازنے پر خرچ کر رہی ہے، بجٹ 20 فیصد زائد خسارے کا ہے جو قانونی طور پر غلط ہے۔