نیشنل پارٹی نیشنل پارٹی کے صوبائی سوشل میڈیا سیکریٹری سعد دہوار بلوچ نے کہا کہ وفاقی حکومت نے ماضی کے روایات کو برقرار رکھتے ہوئے ایک دفعہ پھر سے بلوچستان کو نظر انداز کردیا ہے، وفاقی حکومت نے حال ہی میں احساس پروگرام شروع کردیا ہے جس کے تحت 144 ارب روپے کا مخصوص فنڈ مختص کیا گیا ہے اور بینیظیر انکم سپورٹ پروگرام کے چیئرپرسن ثانیہ نشتر کے مطابق یہ رقوم صوبوں کو آبادی کے تناسب سے تین مراحل میں تقسیم کیا جا رہا ہے جو کہ ہم سمجھتے ہیں غیر منصافانہ عمل ہے کیونکہ اس وقت بلوچستان آبادی کے لحاظ سے 6 فیصد جبکہ سب سے پسماندہ اور غربت کا شکار صوبہ ہے جس میں شرح غربت 71 فیصد ہے یعنی ہر 4 میں سے تیسرا شخص خط غربت کا شکار ہے اور لاک ڈاون کی وجہ سے یہ تناسب مزید بری طرح متاثر ہورہا ہے۔ اس کے باجود احساس پروگرام میں سب سے کم پیسے بھی بلوچستان کے لیئے رکھے گئے ہے جس کا تناسب 5 فیصد سے بھی کم ہے حالانکہ مجموعی غربت کے تناسب سے دیکھا جائے تو بلوچستان میں یہ شرح 10 فیصد بنتا ہے اور این ایف سی ایوارڈ میں بھی بلوچستان کا حصہ 9 فیصد ہے مگر اس کے باجود وفاقی حکومت نے اس تناسب کو نظر انداز کرتے ہوئے یہ رقوم آبادی کے تناسب سے رکھ دیا ہے جس سے یقینا بلوچستان میں براہراست دہاڑی دار مزدور غریب طبقے کا بڑا حصہ اس سے محروم ہورہا ہے۔ حالانکہ حکومت بلوچستان بھی بارہا کہہ چکی ہے کہ صوبائی حکومت کے پاس کافی وسائل موجود نہیں ہے جو اس مسئلے سے ازخود نمٹ سکے۔ غربت اور پسماندگی کی وجہ بلوچستان میں امن و امن بھی متاثر ہورہا ہے بیروزگاری اور مہنگاہی آسمان کو چھو رہی ہے جب کے غریب مزدور کے گھر کا چھولہا بجھ رہا ہے جس سے غیر معمولی حالات کا جنم لینے کا خدشہ ہے، ان تمام حقائق کے باجود وزیر اعظم نے اپنے دورہ بلوچستان میں بلوچستان کے عوام کو شدید مایوس کردیا جو افسوسناک پے، ہم سمجھتے ہیں کہ وفاقی حکومت کے ان اقدامات سے واضح ہوتا پے کہ حکومت کا بلوچستان کے عوام کے لیئے کوئی دلچسپی نظر نہیں آتی اور اس طرح پھر سے ماضی کے روش کو برقرار رکھتے ہوئے بلوچستان کو نظرانداز کردیا گیا اور انہی حکومتی غلط پالیسوں کی وجہ سے ساحل و وسائل کے مالک آج نان و شبینہ کے محتاج ہیں۔
تازہ ترین
کوئٹہ: کلی قمبرانی میں فورسز کے چھاپے، دو نوجوان لاپتہ
پاکستانی فورسز نے دو افراد کو حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔
خاران: مزاحمت کی روایت اور انقلابی قبضے کی داستان – عائشہ بلوچ
خاران: مزاحمت کی روایت اور انقلابی قبضے کی داستان
تحریر: عائشہ بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
یہ کل ہی کا واقعہ ہے کہ سوشل میڈیا پر نظر پڑی...
جبری گمشدگیاں اور بلوچ خواتین کی ناقابلِ شکست جدوجہد – گل زادی بلوچ
جبری گمشدگیاں اور بلوچ خواتین کی ناقابلِ شکست جدوجہد
تحریر: گل زادی بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
بلوچ خواتین کی جبری گمشدگی کا کسی اتفاقی سانحے کا نتیجہ...
معرکہ خاران میں شہید ہونے والے سرمچاروں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔ بی...
بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری ایک بیان میں کہاکہ معرکہ خاران میں دو بدو لڑائی...
سبی میں قابض فورسز پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ بی آر...
بلوچ ریپبلکن گارڈز کے ترجمان دوستین بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ گزشتہ شب بلوچ ریپبلکن گارڈز...



















































