شہید غلام محمد بلوچ – لیاقت بلوچ

316

شہید غلام محمد بلوچ

 تحریر: لیاقت بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

آج کے دن بلوچ قوم نے ایک بامرد ہستی کھویا، آج کے دن بلوچ قوم ایک مرد مجاہد سے محروم ہوگیا تھا، جسکو تاریخ صدیوں تک یاد رکھے گی۔ اُس نے اپنا خون اسی تاریخ کو زندہ رکھنے کیلئے سرزمین بلوچستان پر بہایا تھا، ابھی تک شہید غلام محمد بلوچ کی سیاسی تربیت کو بلوچ سماج بھول نہیں سکتی، غلام محمد ایک زندہ ضمیر انسان تھا، جو ہر ظلم اور ناانصافی کے خلاف بولتا تھا، آج کے دن غلام محمد، شہید لالا منیر اور شہید شیر محمد بلوچ کی شہادت کو گیارہ سال پورے ہوگئے ہیں لیکن آزادی کا جو چراغ انہوں نے اپنے خون سے جلا کر بلوچ سماج اور معاشرے میں آزادی کی سورج کو چمکایا وہ آج تک جل رہی ہے۔ اس وقت شہید غلام محمد کو ہم سے جسمانی طور پر گیارہ سال بیت گئے ہیں لیکن انکی شہادت کے بعد انکی انقلابی تعلیمات زندہ ہیں، جو ہمیں راہِ آزادی پر انکی جذبات بھری باتوں سے جذبہ دلاتے ہیں۔

فطری طور پر انسان کے پرورش میں ان سماجی قدروں کا عمل دخل ہوتا ہے، جہاں انسان اپنی آنکھیں کھولتا ہے اور نئی دور کی چیزوں کا اپنے تجزیہ اور ذہن کے مطابق سامنا کرتا ہے۔ قدرتی طور پر بلوچ سماج میں جنم لینے والے انسان ضرور ایک چیز میں ماہر ہوتے ہیں، جس میں پرانی فنکاری اور ہنرمندی ہیں، ان سے آج بہت متاثر ہیں. ان میں سے ایک غلام محمد بلوچ بھی تھا جس نے بلوچ قومی تاریخ اور جنگ میں ایک ایسی سیاسی تبدیلی لائی جس سے بلوچ سماج میں ہر شخص متاثر ہوا اور زیادہ تر بلوچ قومی جنگ کی طرف دلچسپی سے آنے لگے اور جنگ اور سیاست دونوں اس وقت ایک مظبوط شکل اختیار کرچکے تھے جنکو الفاظ میں اچھی طرح بیان کرنا کافی نہ ہوگا کیونکہ الفاظ زندگی کی ان لمحات کو زندہ رکھتے ہیں جنہیں انسان ہزاروں سال پہلے بھول چکا ہے۔ سیاست کے ذریعے ہم وہی انسانوں کے دلوں میں جنم لینے والے غلط فہمیوں کو نکالتے ہیں جو انسانی نفسیات کو سمجھ کر اسی حساب سے اسے متاثر کرنے کی بے حد کوشش کرتا ہے، آخر کار اسے اپنے راہ پہ لے آتا ہے، نفسیاتی طور پر حکمران مظلوم قوم کو اپنانے کی بہت کوشش کرتا ہے لیکن وہاں جنگجو اور سیاست دان کا کردار اپنا ہوتا ہے.

غلام قوم ہمیشہ سامراج کی ڈر سے خود کو درمیان میں رکھنے کی کوشش کرتا ہے اور یہاں سیاست دان قوم کو اپنانے میں تاریخی کردار ادا کرتا ہے اس سے دشمن یا حکمران کی طاقت خودبخو ختم ہونے لگتا ہے کیونکہ عوام کے دل میں آزادی کی خواہش ہوتی ہے اور سامراج اپنی طاقت کھونے لگتا ہے اور مظلوم کو کچلنے اور انکو کمزور کرنے کی کوشش کرتا ہے. زیادہ تر خوفزدہ، ان لوگوں سے ہوتا ہے جو جبر و تشدد کے خلاف آواز اٹھا کر عوام کی دل میں ظالم کے خلاف زہر اگلتے ہیں۔ جبر ایک غیر انسانی عمل ہے، جو انسان کو مظبوط اور مفلوج کرتا ہے، تشدد انسان کو مجبوراً مظبوط آواز اٹھانے کیلئے کھڑا کرتا ہے جس سے وہ یا اظہار آزادی یا معاشرہ میں جنم لینے والی مسئلوں سے چھٹکارہ لینے کی کوشش کرتا ہے اگر ایک لحاظ سے دیکھا جائے انسان ایک مفاد پرست ہے، وہ اپنے مفادوں کی خاطر انسانی جانوں اور مالوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ان کو کچلتا ہے اور اس سے معاشرہ میں تضاد پیدا ہوتے ہیں، جو انتہائی مہلک بن جاتے ہیں۔ انسانوں کیلئے مفاد تضاد بن جاتے ہیں اور تضادوں سے جنگیں جنم لیتے ہیں جو ایک معاشرہ نہ بلکہ ایک ملک کی پوری نظام پر اثر کرتے ہیں۔

بلوچ معاشرے میں آج کا دن ایک سوگ کے دن کے برابر ہے کیونکہ آج کے دن بلوچستان ایک حقیقی اور قوم پرست فرزند سے محروم ہوگیا تھا غُلام محمد کی شہادت نے بلوچستان کی سیاست کو ایک بار پھر کمزور کردیا۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔