سیاسی کارکنان پر من گھڑت مقدمات قابل قبول نہیں – اے این پی

58

عوامی نیشنل پارٹی کے بیان میں پارٹی ذمہ داران اور دیگر سیاسی کارکنوں کے خلاف لورالائی میں بے جا من گھڑت مقدمات کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ آزادی اظہار رائے پر قدغن کسی صورت قبول نہیں، سیاسی کارکنوں کو حبس بے جا میں رکھنے اور ان کے خلاف مقدمات درج کرنا دراصل حکمرانوں اور پروردہ قوتوں کی آزمودہ اور روایتی حربہ ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اس طرح کے ناروا مقدمات ماضی میں بھی خاطرخواہ نتائج نہ دے سکے۔ راز محمد ترہ کئی ایک ذمہ دار سیاسی جماعت عوامی نیشنل پارٹی کے ضلعی جنرل سیکرٹری ہے عوامی نیشنل پارٹی اس ناروا طرز عمل کی مذمت اور مقدمات واپس لینے کا مطالبہ کرتی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ دنوں پشتون تحفظ موومنٹ کے زیراہتمام شہید ارمالونی کی پہلی برسی کے موقع پر اجتماع میں خلل ڈالنے، خواتین سیاسی کارکنوں کو حبس بے جا میں رکھنے اور بعد ازاں ان کے خلاف مقدمات درج کر نے کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس طرح کے اشتعال انگیز رویے جان بوجھ کر عمل میں لائے جارہے ہیں اور مذموم ایجنڈے کے تحت پشتونوں کے جذبات سے کھیلا جارہا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ آئین ہر شہری کو پرامن احتجاج کا بنیادی حق دیتا ہے ارمان لونی جن کی شہادت کو ایک سال کا عرصہ گزر چکا لیکن تاحال ان کے قتل کے ذمہ داروں کے خلاف تو کوئی کاروائی عمل میں نہیں لائی گئی بلکہ ایک سال گزرنے کے بعد ان کی برسی کے موقع پر پرامن احتجاج سے روکنا غیر سیاسی، غیر جمہوری عمل ہے اور یہ سب کچھ جمہوری دور میں  ہورہا ہے جو یقیناً لمحہ فکریہ سے کم نہیں ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ عوامی نیشنل پارٹی کے ضلعی جنرل سیکرٹری راز محمد ترہ کئی اور دیگر سیاسی کارکنوں کے خلاف ناروا مقدامات کسی صورت قبول نہیں لہٰذا اس طرح کے منفی اقدامات سے پشتونوں کے جذبات و احساسات سے کھیلنے کا سلسلہ ترک کیا جائے اور تمام سیاسی کارکنوں کے خلاف درج مقدمات کو فی الفور واپس لیا جائے۔