جولاں گاہ – حکیم واڈیلہ

152

جولاں گاہ

تحریر: حکیم واڈیلہ

دی بلوچستان پوسٹ

آپ کیا ہیں اور کیوں ہیں؟ اگر ہیں تو کیا آپ کا ہونا ضروری ہے؟ اور کیا آپ کے نہ ہونے سے کسی بھی طرح سے کسی کو شخصی یا اجتماعی حوالے سے کوئی فرق پڑتا ہے؟ سوچئے اگر آپ اہم ہیں اور آپ کی اہمیت ہے، قدر و قیمت ہے، عزت و احترام ہے، تو یقیناً آپ میں کوئی نہ کوئی خصوصیت ہوگی، جسکی وجہ سے آپ کو اہم مانا جاتا ہے، عزت کی جاتی ہے، سر آنکھوں پر سجایا جاتا ہے۔ سوچئے آپ نے کیا کیا ہے؟ کونسے عوامل ہیں جنہوں نے آپکو دوسروں سے مختلف کردیا ہے؟ آپ سماج پر اثرات مرتب کرنے میں کامیاب ہورہے ہیں؟ آپ کے پاس وہ کونسا جادو یا کرشمات ہیں جنکی وجہ سے لوگ آپ کے ہمراہ ہوتے جارہے ہیں؟ آپ نے لوگوں پر کوئی جادو کیا ہے؟ انہیں کچھ پڑھایا ہے؟ انہیں سپنے دکھائے ہیں؟ انہیں امید دی ہے؟ ان میں زندگی اور موت کو سمجھنے کا شعور پیدا کیا ہے؟ انہیں اپنے آپ سے زیادہ اپنے سماج و قوم کے بارے میں سوچنے کا درس دیا ہے؟ انہیں یہ خواب دکھایا ہے کہ یہ اماوس ڈھل جائیگی اور خوبصورت صبح آزادی کی صورت میں ہمارے اوپر روشنی پھیلا کر چاروں اطراف کو اجاگر کردیگی۔

اگر آپ لوگوں کو بدلنے میں کامیاب ہورہے ہیں، اگر آپ انہیں صحیح سمت دکھانے اور اس سمت پر چلانے کی کوشش میں بہتر انداز میں حالات کی پیچیدگیوں، مشکلات اور مصائب کی باریک بینیوں کا ادراک رکھتے ہوئے، ان اہداف کو حاصل کرنے میں کامیاب ہورہے ہیں، جنہیں حاصل کرنا گذشتہ کچھ عرصوں تک شاید مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن بھی ہوتا تو یقیناً آپ نے آج درست سمت کا انتخاب کیا ہے۔ آج اگر آپ اپنے اردگرد کو دیکھیں تو آپکو صرف اپنے پیاروں کی لاشوں پر ماتم کرتی ہوئی مائیں، بہنیں، دکھائی نہیں دینگی آج آپکو صرف وہ لوگ دکھائی نہیں دینگے جو اپنے گمشدہ پیاروں کی بازیابی کی خاطر سڑکوں پر احتجاج کررہے ہیں۔ یقیناً لوگ اپنے پیاروں کے گمشدگی اور موت(شہادت) پر غمزدہ ہوتے ہیں، پریشان ہوتے ہیں کمزوری اور بیماریوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔ مگر ایسے میں ایک بہادر ماں دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر یہ کہتی نظر آتی ہے کہ مجھے اپنے فرزند کی شہادت پر فخر ہے اور سرزمین کی خاطر اپنے دیگر فرزندوں کو بھی قربان کرنے کو تیار ہوں۔ ایسے واقعات ایسے جذبات، ایسے تاریخی الفاظ، اس طرح کا کمٹمنٹ یقیناً پختگی، شعور و وطن سے عشق کی انتہاء کو بیان کرتی ہے اور ساتھ ہی یہ بات بھی عیاں ہوجاتی ہے کہ آپ کے کاروان میں شریک نوجوان نہ صرف ذاتی حوالے سے شعور رکھتے ہیں بلکہ وہ اپنے شعور کے شمع کو اپنے اردگرد بھی روشن کرچکے ہیں اور اسی روشنی کے بدولت بلوچ مائیں اپنے فرزندوں کو سرزمین بلوچستان پر مسکرا کر قربان کررہی ہیں۔

آپ کی محنت آپ کی جدوجہد آپ کی کوشش، آپ کی بہترین حکمت عملی آپ کے آئندہ کا لائحہ عمل، سب کے سب ایک بہترین انقلابی انتخاب کا عکس پیش کررہی ہیں۔ اب آپ کو سوچنا ہوگا کہ آپ اپنے انتخاب کو کس حد تک محکم و منظم کرکے بہتر سے بہتر فیصلے کرتے ہوئے قومی بقا و قومی سوال کی حفاظت کرنے میں کامیاب ہونگے۔ آج جہاں دشمن آسریچ جیسے آپریشن سے خوفزدہ ہے تو وہیں اس آپریشن کے بعد سے تمام تنظیموں پر ایک انتہائی بھاری اور اہم ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس تسلسل کو نہ صرف برقرار رکھنے کی بھرپور کوشش کریں بلکہ انہیں اس آپریشن کو اپنے لیے ایک روڈمیپ کی حیثیت دیتے ہوئے اسی طرح کے دیگر آپریشنز کا انتخاب کرنا چاہیئے۔

آج کے حالات میں جہاں براس جیسے اتحاد کی قومی یکجہتی کے لئے ضرورت تھی تو وہیں عالمی دنیا کی توجہ مبذول کرانے کی خاطر بھی ضروری ہے کہ بلوچ قومی قوت یکجاء ہوکر بہتر انداز میں منظم کاروائیوں کا انتخاب کرتے ہوئے دنیا کو بلوچ قومی طاقت کی اہمیت و حقیقت سے آگاہ کریں تاکہ دنیا کی قوتیں بلوچ قومی جنگ کی سنگینی اور کامیاب حکمت عملیوں کو درگذر نہ کرتے ہوئے بلوچ قومی مسئلے پر سنجیدگی سے سوچتے ہوئے بلوچ قومی سوال کو سننے اور بلوچ قوم کے حقیقی نمائندگان سے مذاکرات کرنے اور بلوچ مسئلے کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے پر مجبور ہوجائیں۔

آج کے حالات میں بلوچ قومی سیاست، ادب، سفارتکاری، الغرض بلوچ قوم سے جڑی ہر ایک شئے مزاحمت کا متقاضی ہے۔ یقیناً ادبی مزاحمت، سیاسی مزاحمت، سفارتکارانہ مزاحمت میں اور جنگی مزاحمت میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ لیکن ان تمام پرتوں میں بنیادی اور اہم ترین شئے ایک ہی ہوتی ہے اور وہ ہے قومی تحریک اور سرزمین سے انتہاء کی حد تک ایمانداری۔ جب آپ ایمانداری سے اپنے فرائض انجام دینگے پھر چاہے آپ ایک ادیب ہوں، ایک سیاسی جہدکار ہوں، ایک سفارتکار ہوں یا ایک سرمچار ہوں آپ کا ہدف واضح ہوگا اور آپ کبھی بھی اپنے نظریے، اپنے مقصد اور اپنے منزل سے بیگانے نہیں ہونگے اور آپ بہترین ذرائع کا انتخاب کرتے ہوئے اپنے منزل کی طرف بڑھتے ہوئے، قومی بقاء و سلامتی کا روشن چراغ بن جائینگے بس ضرورت ہوگی تو بہترین حکمت عملی و ایماندارانہ جدوجہد کی۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔