پاکستان کا پنجابی ریاست بننے کی جانب کا سفر – شفیع برفت

291

پاکستان کا پنجابی ریاست بننے کی جانب کا سفر

تحریر: شفیع برفت

دی بلوچستان پوسٹ

غیر فطری ریاست پاکستان میں اقتدار کے اختیارات کا پہلا ٹکراؤ، پنجابی ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور مہاجر بیوروکریسی کے درمیان ہوا تھا، جناح، فاطمہ جناح اور لیاقت علی کا قتل اس ٹکراؤ کا ہی نتیجہ تھا۔ مہاجر بیوروکریسی نے ہندستان سے ہجرت کر کے آنے والوں کے لیئے نوکریوں، مراعات میں پنجاب کے آبادی کے برابر کا کوٹہ مقرر کیا ہوا تھا، جو حقیقت میں پاکستان کی آبادی کا بمشکل دو فیصد تھے، اس لیئے لیاقت علی خان مہاجر بیورکریسی کے نمائندے کی حیثیت سے جناح کو بھی اپنے راستے سے ہٹانا چاہتے تھے، جس کا علم جناح کو ہوچکا تھا اور جب لیاقت علی خان زیارت میں جناح کی عیادت کرنے گئے تھے تو اس وقت جناح نے لیاقت علی سے بیزاری کا اظہار کرتے ہوئے فاطمہ جناح کو اس بات کی طرف سیدھا اشارہ دیا تھا کہ یہ (لیاقت) دیکھنے آیا ہے کہ میں باقی کتنے دن زندہ رہوں گا، جس پر فاطمہ جناح کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے تھے، اور پھر دنیا نے دیکھا کے کس طرح جناح بغیر پٹرول کی ایمبولینس میں مر ( قتل) جاتے ہیں، جس کے بعد فاطمہ جناح کی تقریر و تحریر پر پابندی لگائی جاتی ہے اور ان کو ان کی مرضی والی تقریر لیاقت علی کی طرف سے نہیں کرنے دی جاتی۔

پاکستان کی تاریخ کی یہ پہلی سیاسی اور اظہار رائے کی پابندی تھی، جو لیاقت علی خان نے فاطمہ جناح کے خلاف لگائی تھی اور جناح کو اپنے راستے سے ہٹا کر اور فاطمہ جناح کو سیاسی پابندیاں لگا کر لیاقت علی اور مہاجر بیوروکریسی اپنے لیے راستہ ہموار کرتے ہیں، جس سے ریاست کی بیورو کریسی میں مہاجر بیوروکریسی مزید طاقتور ہوجاتی ہے، اور اس کا ٹکراؤ پنجابی ملٹری اسٹیبلشمنٹ سے مزید بڑھ جاتا ہے اور بلآخر پنجابی ملٹری اسٹیبلشمنٹ ایک دن لیاقت خان کو بھی اپنے راستے سے ہٹادیتی ہے، جس طرح لیاقت علی خان نے جناح کو راستے سے ہٹا دیا تھا، فاطمہ جناح پر سیاسی پابندیاں لگا کر لیاقت علی اور مہاجر بیوروکریسی نے اپنے لیے راستہ ہموار کردیا تھا، پھر پنجابی ملٹری اور سول بیوروکریسی مہاجر بیوروکریسی کو اختیارات اور بیوروکریسی میں نمائندگی کو مہاجر آبادی کے تناسب تک لانے کا فیصلہ کرتی ہیں اور ١٩٧١ کے بعد مہاجروں کا کوٹہ ان کی آبادی کے حساب تک اس قوت کے چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر مرکز سے ( رحمان گل ) مقرر کرواتے ہیں، جس کو مہاجر بیوروکریسی اپنے خلاف سازش سمجھتی ہے، کیوںکہ جس طرح یہ ریاست غیر فطری تھی، اسی طرح اس کی بیوروکریسی بھی غیر فطری باہر سے آئی ہوئی تھی، جس کا سندھ، بلوچستان، پنجاب، پشتونستان سے کو تعلق نہیں تھا، لہٰذا مہاجر بیوروکریسی نے اس خطے اور ریاست سے اپنے معاشی مفادات تو منسلک کیئے مگر سماجی، تاریخی، وطنی، معاشرتی مفادات نہیں جوڑ سکی اورخود کو یہاں کی مٹی سے جوڑنے کے بجاۓ معاشی مفادات سے ہی جوڑے رکھا اور ناانصافی پر مبنی اس کوٹہ کے حصول کے لیئے کوشش کرتے رہے جو پنجاب کی آبادی کے برابر مہاجر بیوروکریسی نے اپنے آپ کے لیئے خود ہی مقرر اور منتخب کر رکھی تھی، حالانکہ یہ مقامی آبادی سے بہت بڑی زیادتی تھی کیوںکہ مہاجروں کی اس وقت کوٹہ سندھ، بلوچستان پختونخوھ ( صوبہ سرحد) تینوں کو ملاکر بھی ان سے زیادہ تھی، حالانکہ مہاجر پاکستان کی مشکل سے دو فصد آبادی تھی اور سندھ کی ١٥ فیصد آبادی تھے۔

مہاجر بیوروکریسی کی وجہ سے ہی پاکستان کی قومی زبان اردو کو قرار دیا گیا، جو بنگال کی آزادی کا سب سے بڑا اور بنیادی سبب بنا، ون یونٹ سازشی منصوبے کے پیچھے بھی مہاجر بیوروکریسی کا ہاتھ تھا، اس طرح پنجابی ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے مہاجر بیوروکریسی کو مات دینے کے بعد ( جو ایک نا انصافی پر مبنی مہاجر بیوروکریسی کا کوٹہ تھا) پنجابی ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے بنگال کی جمہوری قوت کے ساتھ بھی وہ حشر کیا کہ جمہوریت کو ہمیشہ کے لیے ریاست سے بے دخل کردیا، یہ عوامی اور جمہوری سوچ کے خلاف پنجابی ملٹری اور سول بیوروکریسی کی سفاکیت، بربریت اور جارحیت کی انتہا تھی، جس میں ٣٠ لاکھ معصوم بے گناہ بنگالیوں کا قتل، عام پنجابی سفاک فوج نے کیا، جس کے بعد پاکستان مکمل طور پر پنجابی ملٹری بیوروکریسی کی گرفت میں آچکا تھا اور پنجابی ملٹری بیوروکریسی کو ایک سیاسی چہرہ درکار تھا، جو فوج پنجاب سے نہیں لانا چاہتے تھے، لہٰذا پنجاب نے سندھ کے جاگیردار طبقے کو اپنا سیاسی اتحادی بنایا اور ذوالفقار علی بھٹو کی صورت میں پنجاب کو ایک چہرہ ملا جس نے ٧٣ کی آئین کی صورت میں پاکستان کو جبری الحاق کی حیثیت میں پنجابی سلطنت بنا دیا آگے چل کر پنجابی ملٹری بیوروکریسی نے بھٹو کا بھی وہ حشر کیا، جو مہاجر بیوروکریسی اور بنگالی جمہوریت کا فوج نے کیا تھا۔

پنجابی ملٹری بیوروکریسی نے پشتونوں کو ملٹری میں انگلی چٹائی، کیونکہ پنشتونوں کو ان کے خاص جغرافیائی اور مذہبی سوچ کو کشمیر افغانستان میں استعمال کرنا تھا، اس وقت پشتونوں کے ساتھ بھی وہی حشر کیا گیا ہے، جو بلوچوں کے ساتھ کیا جا رہا ہے، ان کی بھی قومی نسل کشی کی جارہی ہے، موجودہ وقت میں ریاست کے اقتدار اعلیٰ اور اختیارات کے کل ملک پنجابی ملٹری اور سول بیوروکریسی بن گئی، پاکستان تاریخی قوموں سندھیوں، بلوچوں، پشتونوں، سرائیکیوں کے لیے بدترین غلامی اور ذلت، سیاسی جبر، معاشی استحصال، قومی وجود کی فنائیت کا سبب بن چکا ہے، مگر مہاجر بیوروکریسی کیوںکہ غیر سیاسی تھی، اس لیے وہ تاریخی قوموں کے سیاسی معاشی تاریخی مفادات کے ادراک کو سمجھنے سے قاصر تھی یا اس نے شعور طور پر یہ کوتاہی کی پھر” دھنیے کے باغات “کے جھوٹے کلیمز کی وجہ سے سندھ میں بھی وہ انصاف کرنے میں کوتاہی کر بیٹھی تھی، اپنے آپکو سندھ کے صوفی اور سیکیولر قومی مزاج اور سیاست سے وابستہ کرنے کی بجاۓ اردو آبادی کراچی میں مذہبی جماعت کے ووٹر کی حیثیت تک محدود رہے، نئے حالات و واقعات اور سندھ کے سیاسی دھارا میں شامل ہونے کی بجاۓ صرف کوٹہ سسٹم کو اپنے خلاف سازش سمجھ کر غیر منتقی اور محدود سوچ میں قید رہے ( جو کوٹہ خود مہاجر بیوروکریسی کی ناانصافی تھی )

اب ایک طرف سندھ کا قومی سماج تھا، جس کا تاریخی قومی شعور سندھ کے جاگیرداروں کے خلاف اور آزادی کے لیے سیاسی حوالے سے منظم ہو رہا تھا، دوسری طرف مہاجر بیوروکرسی کے لوگوں نے سمجھا کہ ہم کوئی سیاسی تنظیم بنا کر اپنا وہ کوٹہ ( مراعات، اختیارات ) بحال کرسکتے ہیں، یہ وہ سوچ تھی جس نے اردو آبادی کو سندھ دوست بنانے اور سندھ سے وابستہ کرنے کے بجائے موقع پرست، تنگ نظر بنا دیا اور لسانی نسل پرست سیاسی گلیوں میں بھٹکا دیا، بلآخر الطاف حسین اور اردو بولنے والے دانشوروں نے تاریخ کی سچائی کا ادراک کیا کہ اردو بولنے والے ( انڈین اوریجن ایتھنک کمیونٹی) جو تاریخ کے جبر کے نتیجے میں ١٩٤٧ میں ہجرت کرکے سندھ آئے تھے، وہ اب سندھ دھرتی اور جدید سندھی قومی سماج کا حصہ ہیں۔ جن کے سیاسی معاشی مفادات سندھ دھرتی سے وابستہ ہیں، ان کو سندھ میں سندھی بن کر جینا مرنا ہے اور وہ سندھی ہیں، سندھ کی مہاجر برادری ( کمیونٹی ) کی حیثیت میں ان کو سندھی بن کر رہنا ہے کیوںکہ مہاجر قوم نہیں ہوتے ہیں، دنیا میں کسی بھی ملک میں مہاجر بن کر جاؤ تو ٥ سال کے بعد آپکو وہاں کی نیشنلٹی مل جاتی ہے، پھر ہجرت کرنے والا مہاجر نہیں رہتا بلکہ اس سماج و قوم اور وطن کا لازم حصہ اور جز بن جاتا ہے، اسی طرح اب اردو بولنے والے سندھی جو تاریخ کے جبر کے نتیجے میں ١٩٤٧ میں ہجرت کرکے سندھ آئے تھے، وہ اب سندھ دھرتی اور جدید سندھی قومی سماج کا لازم حصہ ہیں، جن کے سیاسی معاشی مفادات سندھ دھرتی سے تاریخ نے وابستہ کر دیئے ہیں۔

اسی طرح اب اردو بولنےوالے باشعور نوجوان، دانشور، صحافی، سیاسی کارکن یہ سمجھتے ہیں کہ وہ سندھ اور سندھی قوم کا لازم حصہ ہیں، جس میں الطاف حسین کی سیاسی کوشش محنت بھی شامل ہے اور تاریخ اپنے عمل اور ارتقا سے بھی ذہنوں کی ازخود تربیت کرتی ہے، اب سندھ کے سندھی اور اردو بولنے والے سندھی خود کو فرزند سندھ اور جدید سندھی قومی سماج کی تکمیل نو کو قبول کر چکے ہیں، اب پنجابی استعمار سندھ کو لسانی، نسلی بنیاد پر تقسیم اور گمراہ نہیں کرسکتا ہے، ہم سندھ ہیں، ہم سندھی ہیں سندھ ہماری ماں اور سندھ ہی ہمارا جینا مرنا ہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔