قلات : بنیادی سہولیات کے عدم دستیابی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ

140

قلات میں بنیادی مسائل کے حل کا مطالبہ بار بار احتجاج کے باوجود مسائل حل نہ ہونا قابل مذمت ہے  مظاہرین کا موقف۔

دی بلوچستان پوسٹ نیوز ڈیسک کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق قلات میں گیس و بجلی کی  بندش، پانی کی عدم فراہمی ، سڑکوں کی خستہ حالی،  صحت و تعلیم کی سہولیات کی کمی، ٹرانسفامرز کی عدم فراہمی، بیروزگاری ، ملازمتوں میں بندر بانٹ اور بی آئی ایس پی کے مستحقین کیلئے رقوم کی فراہمی کے پیچیدہ طریقہ کار سمیت دیگر تمام درپیش مسائل پر قلات گرینڈ الائنس کے آرگنائزر حاجی غلام قادر عمرانی کی قیادت میں بی اینڈ آر ریسٹ ہاوس سے ایک ریلی نکالی گئی۔

ریلی کے شرکاء نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے جن پر مختلف نعرے درج تھے۔

ریلی کے شرکاء نے سہولت دو مسائل حل کرو سمیت مختلف نعرے بھی لگائے ریلی و مظاہرے میں گرینڈ الائنس میں شامل سیاسی جماعتیں ٹریڈ یونینز سماجی تنظیمیں اور شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی جن میں پیپلز پارٹی، بی این پی عوامی،، جمیعت علما اسلام ف، مسلم لیگ ن، بی این پی ، تحریک لبیک پاکستان، جے ڈبلیو پی، سنی تحریک قلات نوجوان اتحاد ایپکا انجمن اتحاد نوجوان مشترکہ ملازمین اتحاد و دیگر شامل تھے۔

ریلی کے شرکاء بی اینڈ آر ریسٹ ہاوس سے نکل کر میر احمد یار خان پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا اور  احتجاج ریکارڈ کرایا جسکے بعد ریلی کے شرکاء نے بازار کے مختلف شاہراہوں پر مارچ کیا ریلی بازار میں شہید لونگ خان مینگل چوک پر جلسے کی شکل اختیار کی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے قلات گرینڈ الائنس کے آرگنائزر حاجی غلام قادر عمرانی ،کامریڈ وحید بلوچ   مولانا الہی بخش نورانی، ملک عبدالعلیم زہری، میر عبداللہ لانگو، ظہور احمد قادری حسین بخش رئیسانی ،ذوالقرنین نوشیروانی، سردارزادہ میر ایاز مینگل، وقار احمد و دیگر کا کہنا تها کہ قلات مسائلستان بن چکا ہے قلات کی تاریخی حیثیت اور اہمیت ہے مگر باہر سے آنے والے جب قلات پہنچتے ہیں تو اس شہر کی پرانی حیثیت اور اہمیت انہیں اصل حالت میں آج بھی نہیں ملتی آج بھی قلات کے لوگ پتھر کے زمانے کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔

مقررین کا کہنا تھا سرد ترین علاقے میں گیس مکمل بند ،بجلی کی لوڈشیڈنگ و ٹرپنگ پینے کے پانی کی حصول کیلئے شہر کے لوگ سرگرداں جبکہ دیہی علاقوں کے عوام کئی کلو میٹر سفر کرکے اونٹ اور گدھوں پر پانی لانے پر مجبور ہے کپوتو سمیت کئی دیہی علاقوں میں تو صحت کے مراکز تک نہیں تعلیمی سہولیات ناپید ہے، سائنس ٹیچرز و دیگر اساتذہ کی کمی سے تعلیم کا نظام مفلوج ہوکر رہ گیا ہے شہر میں کئی ٹرانسفارمرز جل چکے ہیں آدھا علاقہ تاریکی میں ڈوبا ہے لوگ پرائیویٹ کرایہ پر ٹرانسفارمرز استعمال پر مجبور ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہاں پہ بیروزگاری عروج پر ہے، ہم ملازمتوں کی بندر بانٹ پر عدالت عالیہ کا دروازہ کھٹکٹائیں گے 2012 سے گیس کی سپلائی نہ ہونے پر صارفین کو لاکھوں روپے بل موصول ہوئے ہیں مگر یہ بلز ناجائز ہے جلسہ کے شرکا نے مذکورہ بلز کی معاف کرانے کی قرارداد بھی متفقہ منظور کرلی

مظاہرین نے مزید کہا کہ بینظیر انکم اسپورٹ پروگرام کے مستحقین کو رقوم کی فراہمی کیلئے الگ دفتر کا قیام عمل میں لائی جائے کیونکہ بازار میں قائم سینٹرز پر انکو درپیش مشکلات الگ ان کی تذلیل ناقابل برداشت ہے جبکہ کئی ضعیف العمر عورتوں کی فنگر پرنٹ نہ لگنے پر وہ مستحقین ان رقوم سے محروم ہورہی ہیں انکے لئے آسان طریقہ یا ان کے شناختی کارڈز پر انہیں رقوم کی فراہمی یقینی بنائی جائے اس موقع پر انہوں نے کہا کہ بار بار احتجاج کے باوجود زمہ داران عملی اقدامات نہیں اٹھا رہے جو کہ قابل مذمت عمل ہے گیس کی و بجلی لوڈشیڈنگ سمیت دیگر مسائل اور اپنی حقوق کے حصول کیلئے قلات کے خواتین بھی بہت جلد مظاہرہ کرینگے۔