جبری گمشدگی کے شکار انسانی حقوق کے کارکن راشد حسین بلوچ کے والدہ نے نیشنل پارٹی کے رہنما ڈاکٹر مالک سے کوئٹہ میں ان کے دفتر میں ملاقات کی۔
اس موقعے پر راشد حسین کے والدہ کے ہمراہ وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ بھی موجود تھے۔
ملاقات میں ڈاکٹر مالک بلوچ کو راشد حسین بلوچ کے متحدہ عرب امارات سے گمشدگی اور بعد ازاں غیر قانونی طور پاکستان حوالگی کے حوالے سے تفصیلات سے آگاہ کیا گیا۔
خیال رہے انسانی حقوق کے کارکن راشد حسین بلوچ کو گذشتہ سال متحدہ عرب امارات سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا جنہیں بعدازاں رواں سال پاکستان کے حوالے کیا گیا لیکن وہ تاحال لاپتہ ہے جبکہ ان کے لواحقین کے مطابق متحدہ عرب امارات سے راشد حسین کو غیر قانونی طور پر پاکستان کے حوالے کیا گیا ہے جس کے ثبوت بھی ان کے پاس موجود ہے۔
راشد حسین کے لواحقین کوئٹہ پریس کلب کے سامنے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے احتجاج میں شرکت کرنے سمیت مظاہرے کرچکے ہیں جبکہ اسی سلسلے میں ان کی والدہ مختلف سیاسی و سماجی شخصیات سمیت حکومتی وزرا سے ملاقات کررہی ہے۔
گذشتہ دنوں انہوں نے نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ سابق سینیٹر ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ سے بھی ملاقات کی جس میں راشد حسین کے حوالے سے ڈاکٹر حئی کو تفصیلات سے آگاہ کیا اور ان سے بیٹے کی بازیابی میں کردار ادا کرنے کی گزارش کی گئی۔