کوئٹہ: لاپتہ افراد کے لیے احتجاج، سماجی کارکنان کی شرکت

150

میں نے جو کام شروع کیا ہے اس کیلئے صبر و استقامت کی ضرورت ہوتی ہے، صبح یہاں آکر لاپتہ افراد اور شہدا کے تصاویر دیکھتا ہو یا لاپتہ افراد کے لواحقین یہاں آتے جن کو دیکھ مجھے پیاروں سے جدائی کا دکھ اور درد کا احساس ہوتا ہے جس سے میں خود ان لمحات سے گزر چکا ہوں یہی چیزیں مجھے حوصلہ دیتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے رہنما ماما قدیر بلوچ نے سماجی کارکن جبران کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

کوئٹہ پریس کلب کے سامنے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے احتجاج کو 3762 دن مکمل ہوگئے۔ انسانی حقوق کے کارکن جبران ناصر، حمیدہ نور سمیت دیگر نے کیمپ کا دورہ کرکے لواحقین سے اظہار یکجہتی کی۔

جبران ناصر نے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے احتجاجی کیمپ کو پاکستان کا تاریخی کیمپ قرار دیتے ہوئے کہا چاہے آندھی، طوفان آئے، سردی یا گرمی ہو یا اس کیمپ میں گٹر کا پانی چھوڑا جائے یا کیمپ کو آگ لگائی جائے لیکن یہ کیمپ قائم رہتا ہے۔

جبران ناصر نے ماما قدیر سے گفتگو میں سوال اٹھایا کہ کیا وجوہات ہے اجتماعی قبروں سے پچاس پچاس افراد کی لاشیں ملتی ہے تو جس شخص کے علاقے سے لاشیں ملتی ہے اس سے کوئی پوچھتا نہیں ہے۔ اس حوالے سے شفیق مینگل پر الزام لگایا جاتا ہے لیکن وہ انتخابات میں بھی حصہ لیتا ہے اور ادارے کے پروٹول میں بھی گھومتا ہے۔

اس پر ماما قدیر کا کہنا تھا کہ شفیق مینگل اور دیگر کچھ افراد ریاست کے مہرے ہیں جنہیں بلوچستان میں کھلی چھوٹ دی گئی ہے، خضدار کے علاقے توتک سے 179 افراد کی لاشیں اجتماعی قبر سے برآمد ہوئی جہاں شفیق مینگل کا کیمپ تھا۔ انہوں نے لوگوں کو اٹھایا اور قتل کرکے دفنا دیا۔ ہم نے گزارش کی کہ ہمیں اس جگہ جانے دیا جائے اور اس جگہ کا معائنہ کرنے دیا جائے لیکن ہمیں اجازت نہیں دی گئی۔

جبران ناصر نے پشتون تحفظ موومنٹ، سندھی لاپتہ افراد اور شیعہ مسنگ پرسنز کا ذکر کرتے ہوئے ماما قدیر سے سوال کیا کہ منظور پشتین سمیت دیگر رہنماوں کے ساتھ ملکر آپ جدوجہد کرنے پر غور کررہے ہیں۔

ماما قدیر نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں ہم نے مذکورہ تحریکوں کے رہنماوں سے مشورہ کیا تھا کہ مل بیٹھ کر لاپتہ افراد کے مسئلے پر آواز اٹھائینگے، منظور پشتین کو کوئٹہ میں ہم سے ملنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اسی طرح مجھے سندھی مسنگ پرسنز اور منظور پشتین سے ملنے سے روکھا گیا تاکہ ہم الگ الگ بیٹھ کر احتجاج کرتے ہوئے ایک بڑی طاقت نہ بن سکیں۔

ماما قدیر نے کہا مجھے خاموش رہنے کے لیے پاکستانی خفیہ ادارے ایم آئی کے اہلکاروں کی جانب سے دیگر مراعات سمیت گورنری کی بھی آفر کی گئی لیکن میرا مطالبہ یہی ہے کہ لاپتہ افراد کو رہا کیا جائے اگر ان کو شہید کیا گیا ہے تو ان کا بھی ہمیں بتایا جائے کہ ان کو کیوں مارا گیا، اگر کوئی قصور وار ہے تو انہیں عدالت میں پیش کرکے انصاف کے تقاضے پورے کیئے جائے۔