جامعہ بلوچستان میں طلباء کو ہراساں کرنا قابل مذمت ہے – بی آر ایس او

88

بلوچ ریپبلیکن اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی آرگنائزنگ باڈی کے ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان یونیورسٹی میں طالبات کو ہراساں کرنے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں ،بلوچستان میں ریاست روز اول سے ایک سازش کے تحت بلوچ طلباء کو تعلیم سے دور رکھنے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے جس کی واضح مثال بلوچستان یونیورسٹی میں خفیہ کیمرے لگا کر و مختلف طریقوں سے طلباء و طالبات کو ہراساں کیا گیا ہے جو کہ کافی حرصے سے جاری ہے، جس میں جامعہ کے وائس چانسلر سے لیکر ملازم تک ملوث ہیں۔ اور یہ ایک گھناؤنا عمل ہے اور یہ سب کچھ کسی خاص طبقہ کی ایماء پر ہورہا ہے جس کا مقصد صرف اور صرف بلوچ قوم کو تعلیم سے دور رکھنا ہے ،جامعہ بلوچستان کو پہلے ہی سے فوجی چھاؤنی میں تبدیل کیا گیا ہے جس کی خاص وجہ یہ ہے کہ طلباء خوف کے سائے میں تعلیم حاصل نہ کرسکیں تاکہ ریاست اپنے گھناؤنے سازش میں کامیاب ہو لیکن یہ ریاست کی بھول ہے۔

ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ اس سے پہلے بھی ریاست نے اپنے زر خرید طلباء تنظیموں کے ذریعے بلوچ طلباء پر بے انتہا تشدد کروا کر بلوچ نوجوانوں کو علم کی نعمت سے دور رکھنے کی کوششیں کی ہے، ریاست ایک طرف تو بلوچوں کے دکھوں کا مداوا کرنے کے بلند و بانگ دعوے کرتی ہے تو دوسری طرف اپنے اوچھے ہتھکنڈوں کے ذریعے بلوچستان میں طلباء تنظیموں پر پابندی لگاتی ہے تا کہ ان کے کرتوتوں پر آواز بلند نا کیا جاسکے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ بلوچستان یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو فوری طورپر برطرف کیا جائے۔