دو آویزاں جسم – ھیلہ نجیب اللہ | مشتاق علی شان

791

دو آویزاں جسم
ھیلہ نجیب اللہ
ترجمہ: مشتاق علی شان

(کامریڈ ڈاکٹر نجیب الله شہید کی صاحبزادی ھیلہ نجیب اللہ نے گذشتہ برس اپنے والد اور چچا کی 22ویں برسی کے موقع پر اپنے وطن سے ہزاروں میل کی دوری پر انہیں ان درد بھرے الفاظ میں یاد کیا. )

دو آویزاں جسم!

میں نے اس خون کو دیکھا
جو میرے جسم میں رواں
اور آپ کے سارے بدن پر بکھرا تھا
میں نے ان ہاتھوں کو دیکھا
جو مجھے مضبوطی سے
تھام لیا کرتے تھے
میں نے جو تحفے میں بھیجا تھا
وہ لباس آپ کا کفن بنتے دیکھا
میں نے وہ پیسے دیکھے
جو (تذلیل کی خاطر) آپ کی ناک پر رکھے گئے
اس لیئے کہ
آپ نے کبھی کوئی صندوق ہی نہیں رکھا
میں نے آپ کے ہاتھ میں سگریٹ دیکھے
جو آپ کبھی نہیں پیتے تھے
میں نے آپ کے پھٹے کپڑے
اور بریدہ جسم دیکھا
میں نے لُنگی والے لوگوں کو خوش دیکھا
میں نے انھیں ہنستے ہوئے ایک دوسرے سے
اس لیئے بغلگیر ہوتے دیکھا کہ
دو بھائی کیسے سنگ سنگ لٹکائے گئے
آپ کی آدھی کھوپڑی اڑا دی گئی تھی
اور سارا جسم زخموں سے چور چور تھا

دنیا سب کچھ دیکھ رہی تھی
اورمیں نے خود کو
انتہائی بے بس، مظلوم اور تنہا محسوس کیا!
لیکن پھر میرا سرفخر سے بلند ہوگیا
اس لیئےکہ
میں نے خود میں وہ شکتی پیدا کی
جو مجھے ہر ظلم اور ناانصافی کے مقابل
کھڑا کر دیتی ہے

میں نے دیکھا کہ وہ آپ کو
اپنی طرح آلودہ کرنا چاہتے ہیں
لیکن میں نے آپ کو
اپنے حقیقی رنگ میں پایا

میں نے وہ دو جسم آویزاں دیکھے
جنھوں نے تاریخ رقم کی
میں نے ان بہادروں کو دیکھا
جو اپنے موقف پر ڈٹے رہے
میں نے ان دلاوروں کو دیکھا
جو گوشت پوست کے بنے تھے
لیکن مرتے دم تک سینہ سپر رہے
میں نے ان سر فروشوں کو دیکھا
جنہوں نے شکست تسلیم نہیں کی
میں نے ان بہادروں کو دیکھا
جو ایک دوسرے کو عزیز رکھتے تھے
اور جو آخر دم تک ساتھ رہے
میں نے ان دلاوروں کو دیکھا
جو امن، اتحاد، عوام
اور افغانستان کے لیئے قربان ہوئے
میں نے ان سر فروشوں کو
اس حال میں دیکھا
جیسے وہ تخلیق ہوئے تھے

(ھیلہ نجیب اللہ، 26ستمبر 2018،سوئزرلینڈ)


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔