زامران میں دوران آپریشن ڈیتھ اسکواڈ کے آٹھ کارندے گرفتار کرلیے – براس

579

بلوچ راجی آجوئی سنگر (براس) کے ترجمان بلوچ خان نے نامعلوم مقام سے میڈیا میں ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج براس کے سرمچاروں نے زامران کے علاقے دشتوک کنڈ کاپران کے مقام پر ایک آپریشن کرتے ہوئے سرکاری حمایت یافتہ لشکر کے آٹھ کارندوں کو گرفتار کرلیا ہے۔

چار آزادی پسند مسلح جماعتوں بلوچ لبریشن آرمی، بلوچستان لبریشن فرنٹ، بلوچ ریپبلکن آرمی اور بلوچ ریپبلکن گارڈ کے اتحاد بلوچ راجی آجوئی سنگر (براس) کے ترجمان نے کہا ہے کہ آج خفیہ اطلاع پر ہمارے سرمچاروں نے زامران کے علاقے دشتوک کنڈ کاپران میں آپریشن کرتے ہوئے سرکاری حمایت یافتہ لشکر کے آٹھ کارندوں کو گرفتار کرکے انکا سامان ضبط کرلیا ہے۔ ضبط شدہ سامان میں تین عدد کلاشنکوف، ایک عدد مشین گن، ایک موٹر سائیکل، ایک گاڑی اور ایک سیٹلائیٹ فون شامل ہیں۔

ترجمان نے مزید کہا کہ گرفتار ہونے والے کارندوں میں منظور ولد جلال رہائش رودبن تمپ، آصف ولد گاجیان رہائش نظرآباد، عابد ولد مولابخش رہائش تمپ کوہاڑ، جمشیر ولد محمد اعظم رہائش رودبن تمپ، رشید ولد رمضان رہائش رودبن تمپ، وہاب ولد مولابخش رہائش کوہاڑ، یاسین ولد غلام محمد رہائش بالیچہ تمپ شامل ہیں۔ یہ گرفتار افراد فوج کی سرپرستی میں اور خالد شہباز ولد جلال کے سربراہی میں کام کرتے ہیں۔ ان گرفتار کارندوں میں سے منظور ولد جلال کو اس سے پہلے بھی سرمچار دو بار گرفتار کرچکے ہیں۔ لیکن دونوں دفعہ علاقائی لوگوں کے ضمانت پر انہیں رہا کیا گیا لیکن انہوں نے پھر بھی قوم دشمنی کی راہ ترک نہیں کی اور گرفتار مجرم عابد ولد مولا بخش کافی عرصے سے ہمارے سرمچاروں کے نشانے پر تھا۔ ان پر پہلے بھی ایک حملہ ہوچکا تھا جس میں وہ زخمی ہوگئے تھے۔ آپریشن کے وقت ان ملزمان کا ایک ساتھی فائرنگ کے تبادلے میں زخمی ہوگیا تھا، لیکن انہیں انسانی ہمدردی کے بنیاد پر سرمچاروں نے زخمی حالت میں گرفتار کرنے کے بجائے ہسپتال روانہ کردیا۔ جبکہ سرمچاروں نے اس گروہ کے کیمپ کو ایک بلڈوزر سمیت نذرِ آتش کردیا۔

بلوچ خان نے مزید کہا کہ مذکورہ گروہ بلوچ سرمچاروں کے خلاف متحرک رہا ہے۔ مختلف فوجی آپریشنوں میں مذکورہ گروہ کے کارندوں کو بلوچ دوست خواہوں کے گھروں کی نشاندہی اور جلاتے ہوئے دیکھا گیا ہے اور یہ سرمچاروں کے آمدورفت پر نظر رکھ کر دشمن کیلئے مخبری کا کام سرانجام دیتے رہے ہیں۔ فوج کے اس خدمت کے بدلے انہیں مذکورہ علاقے میں اسلحے کے ساتھ گھومنے اور لوٹ مار کی مکمل آزادی حاصل تھی، یہ گروہ کہیں پر بھی ناکہ ڈال کر عام غریب بلوچوں کو تنگ کرکے، انہیں لوٹتے اور چھوٹے موٹے کاروبار کرنے والے بلوچوں سے زبردستی بھتے کی صورت میں ٹیکس وصول کرتے۔ سرمچاروں نے انہیں بار بار تنبیہہ کی تھی کہ وہ اپنے ان قوم اور سماج دشمن اعمال سے بعض آجائیں لیکن ان کی کاروائیوں میں تیزی آرہی تھی۔

ترجمان نے مزید کہا کہ گرفتار کارندوں سے مکمل تحقیق ہوگی، اور بعد میں انہیں بلوچ قومی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ ہم سرکاری سرپرستی میں چلنے والے ایسے تمام قوم دشمن و سماج دشمن گروہوں کو ایک بار پھر تنبیہہ کرنا چاہتے ہیں کہ وہ اپنے ان سیاہ کرتوتوں سے بعض آجائیں۔ وہ بلوچ قومی آزادی کی جنگ میں کسی قسم کی رکاوٹ بننے کی کوشش نا کریں اور نا ہی بلوچ عوام کو دشمن کی ایماء پر تنگ کریں، ورنہ سرمچار انکا تعاقب کرکے انہیں عبرت کا نشان بنائیں گے۔