انسانیت کی بقاء کے لئے پاکستان کے ایٹمی ہتھیار بین الاقوامی تحویل میں لئے جائیں – بی این ایم

234

بلوچ نیشنل موومنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے ایک جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ آج سے اکیس سال قبل بلوچستان کے علاقے چاغی میں پاکستان نے ایٹمی دھماکے کرکے اپنے جنگی جرائم کی باب میں ایک بڑا اضافہ کردیا۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستان کے مقبوضہ بلوچستان میں تین بڑے شہروں خاران، نوشکی اور دالبندین کے درمیان ایٹمی دھماکے کرکے ان آبادیوں پرقہر برپا کی۔ دھماکوں سے پہلے ہزاروں لوگوں کو پاکستانی فوج نے بندوق کے نوک پر جبری نقل مکانی کا شکار بنایا اور دھماکوں کے بعد چاغی، نوشکی، خاران اور دالبندین کے علاقے بالخصوص اور پورا بلوچستان بالعموم ایٹمی دھماکوں کے تباہ کن تابکاری سے دوچار ہیں۔ کینسر ایک وبائی شکل اختیار کرچکا ہے اور صرف کینسر سے دوچار رجسٹرڈ افراد کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ ایک بڑی تعداد اس کے علاوہ ہے جو علاج و معالجے کی سکت نہیں رکھتے اور ایڑھیاں رگڑ رگڑ کر بے بسی سے موت کے منہ میں جارہے ہیں۔ اس کے علاوہ آنکھوں کی بیماریاں، معذور بچوں کی پیدائش اور malnutrition عام ہوچکی ہیں۔ خواتین میں premature birth اور low birth weight بچوں کی پیدائش معمول بن چکی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ بلوچستان کے آباد علاقے میں ایٹمی دھماکے پاکستان کی جانب سے واضح اعلان تھا کہ بلوچ سرزمین کے وارثوں کی زندگی کوئی معنی نہیں رکھتے۔ سترسالوں سے جاری نسل کشی میں ایٹمی تابکاری کو ایک مسلسل تباہی کے طور پر طور پر استعمال کیا گیا۔ اس کا واضح ثبوت یہی ہے کہ ایٹمی دھماکوں کے بعد یہاں کسی بھی عالمی ادارے کو تابکاری اور اثرات جانچنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ یوں بلوچستان میں موت کے عفریت کو کھلا چھوڑ دیا گیا۔

بی این ایم کے مرکزی ترجمان نے کہا کہ جوہری دھماکوں کے تابکاری اثرات صدیوں تک بلوچ قوم پر قہر برپا کرتے رہیں گے۔ جہاں دھماکے کیئے گئے یہاں لوگوں کے ذریعہ معاش مالداری، بارانی زمینوں اور قدرتی چشمے اورباغات ہیں لیکن ان دھماکوں نے یہ تمام ذرائع ہمیشہ کے لئے تباہ کردیئے۔ انسانوں کے علاوہ ہر نوع کے حیوانات و نباتات تباہ ہوئے ہیں۔ چاغی کے راس کوہ میں جنگلی حیات، درخت، باغات اور چراگاہیں ہمیشہ کے لئے معدوم ہوچکی ہیں۔ پہاڑی چشمے سوکھ گئے ہیں، اور موسم کا قدرتی نظام تہہ و بالا ہوگیا ہے اور پیہم تباہی بلوچ قوم کی مقدر بن چکی ہے۔ موسم اور آب وہوا میں بنیادی تبدیلیوں سے قحط سالی اور طوفان معمول بن چکے ہیں۔ ہزاروں سالوں سے روان چشمے سوکھ گئے ہیں۔ باغات نیست و نابود ہوچکے ہیں۔ ایٹمی تجربات کے بعد بارشوں کا سلسلہ رُک گیا ہے جس سے خشک سالی اور اس کے نتیجے میں جنگی حیات اورچراگاہ تباہ ہوچکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بلوچ قوم کے لئے اٹھائیس مئی انیس سو اٹھانوے قیامت صغرا کا دن تھا۔ اسے بلوچ قوم ہمیشہ ایک سیاہ دن کے طور پر یاد کرتا رہے گا۔ اس کے خلاف روز اوّل سے پوری قوم سراپا احتجاج ہے اور ہرسال اس ہولناک بربریت کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کراتا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو اس امر کا احساس کرناچاہئے کہ پاکستان نہ صرف مذہبی جنونیت کا افزائش گاہ اورپوری دنیا میں دہشت گردی پھیلانے کا مرکز و منبع ہے بلکہ پاکستانی ریاست مکمل طورپر دہشت گرد فوج اور مذہبی جنونیوں کے کنٹرول میں ہے۔ اس کے ایٹمی اسلحہ عالم انسانیت کو تباہ کن صورت حال سے دوچار کرسکتے ہیں۔

ترجمان نے کہا ہم اقوام متحدہ اور عالمی طاقتوں سے اپیل کرتے ہیں کہ دنیا اور عالم انسانیت کی بقا، سلامتی و تحفظ کے لئے ضروری ہے کہ پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کو بین الاقوامی تحویل میں لیاجائے تاکہ انسانیت کو ایک عظیم تباہی سے بچایاجاسکے۔