بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں پریس کلب کے سامنے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کی جانب سے قائم احتجاجی کیمپ کو 3569 دن مکمل ہوگئے۔ سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے افراد نے کیمپ کا دورہ کرکے لواحقین سے اظہار یکجہتی کی جبکہ نوشکی سے لاپتہ محمد ایوب کے لواحقین نے کیمپ آکر اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔
وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان آگ و خون کا ہولناک منظر پیش کررہی ہے پاکستانی سیکورٹی اداروں کی کاروائیوں میں ہرگزرتے دن کے ساتھ تیزی اور وسعت آرہی ہے جس کے دائرے سے بلوچ سماج کا کوئی حصہ باہر نہیں ماسوائے ان کے جو بلوچستان میں حکمرانوں کے فکر و عمل کی پیروی کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا مشرف کی آمریت نے ظلم و جبر کی محض ابتدا کی تھی جبکہ موجودہ جمہوری حکومت اسے جلد اس جلد تباہ کن انجام تک پہنچانا چاہتی ہے جس کی عکاسی بلوچستان کے طول و عرض میں جاری فورسز کی پےدرپے کاروائیوں میں دیکھی جاسکتی ہے ان کاروائیوں کے جواز طریقہ کار اور دعووں کی شفافیت پر کئی سوال اٹھائے جارہے ہیں جن میں گذشتہ کئی دنوں سے جاری فوجی آپریشن قابل ذکر ہیں، کاروائیوں میں فورسز کے ہاتھوں درجنوں افراد، مرد خواتین معصوم شیر خوار بچے بھی اٹھاکر فوجی کیمپوں میں منتقل کردیئے گئے۔
انہوں نے کہا بلوچستان کو عقوبت خانہ و قصاب خانہ بنایا گیا ہے۔ بلوچوں کی جبری گمشدگیوں سے لیکر ان کی مسخ شدہ لاشوں کی برآمدگی اور انسانی حقوق کی پامالیوں سے انسانی المیہ جنم لے رہا ہے۔