بلوچستان میں پاکستانی فوج بربریت کی تاریخ رقم کر رہا ہے – اختر ندیم

691

بلوچ قوم پرست رہنما اختر ندیم بلوچ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ آواران پیراندر میں پاکستانی فوج کی جانب سے بربریت بلوچستان میں کوئی نئی مثال نہیں ہے۔ اس سے پہلے بھی بلوچستان کے مختلف علاقوں سے سینکڑوں بلوچ خواتین اور بچے فوج کے ہاتھوں اغوا ہو چکے ہیں جن کا تاحال کوئی خبر نہیں کہ وہ کہاں اور کس حال میں ہیں۔

انہوں نے کہا آواران پیراندر سے پاکستانی فوج نے میر عبدالحئی کو گھر سے پورے خاندان سمیت اُٹھا کر فوجی کیمپ منتقل کیا، جن میں ان کی بیٹی اور ایک سالہ نواسہ بھی شامل ہے۔ یہ سب کچھ اکیسویں صدی کی جدید دور میں بلوچ قوم کے ساتھ ہورہا ہے جس کی مہذب دنیا میں مثالیں ملنا بہت مشکل ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج بلوچستان میں پاکستان وہی بربریت وحیوانیت کی تاریخ رقم کررہا ہے جو انہوں نے ستر کی دہائی میں بنگلہ دیش میں بنگالی قوم کے ساتھ روا رکھی تھی۔ اگر عالمی دنیا بنگالی قوم کی نسل کشی پر پاکستان کو جوابدہ ٹھہراتا تو شاید پاکستان آج بلوچ قوم کے خلاف ایسی انسانیت سوز بربریت برپا کرنے کی جرات نہیں کرتا۔

اختر ندیم بلوچ نے کہا کہ آج ان زندانوں میں بند خواتین اور بچوں کی چیخوں سے عرش تو ہل رہا ہے لیکن عالمی ضمیر ابھی تک خاموش ہے جو عالم انسانیت کے اجتماعی ضمیر کے لئے بہت بڑی سوالیہ نشان ہے۔

انہوں نے کہا بلوچستان میڈیا سے یکسر محروم اور یہاں مکمل طورپر بلیک آؤٹ ہے لیکن عالمی میڈیا کے نظروں سے بھی بلوچستان اوجھل ہے۔ اس نظرانداز کرنے کے پالیسی نے ایسی صورت حال جنم دی ہے جس کا تصور ہی بھیانک ہے۔

اخترندیم نے کہا ہے کہ اگر انسانی حقوق کے اداروں اور میڈیا نے بلوچستان میں انسانی حقوق کی ناگفتہ بہ صورت حال کو نظرانداز کرنے کی پالیسی جاری رکھی تو مستقبل اس سے کہیں زیادہ لرزہ خیز ہوگا۔