بلوچ ریپلکن اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی ترجمان نے گذشتہ دن نیوزی لینڈ کے مساجد میں شہید ہونے والے نمازیوں پر دہشتگردانہ حملے پر دکھ اور غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشتگردوں کو مذہب سے جھوڑنا مناسب نہیں، دہشتگردوں کو صرف دہشتگرد ہی کہا جانا چاہیئے، چاہے وہ مسلمان، عیسائی، یہودی یا کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو۔
بی آر ایس او کے مرکزی ترجمان نے کہا کہ نیوزی لینڈ کے کرائسٹ چرچ کے مساجد میں دہشتگردانہ حملے میں شہید ہونے والے تمام افراد کے لواحقین کو اللہ تعالیٰ صبر دے اور شہید ہونے والوں کو آخرت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔
یورپی اور دیگر ویسٹرن ممالک میں مقیم مسلمانوں کی اکثریت دہشتگردی سے متاثر ہے جس کی وجہ سے وہ مختلف ممالک میں پناہ لیئے زندگی گزار رہے ہیں لیکن وہاں بھی انہیں صرف مذہب اور رنگ و نسل کی بنیاد پر نشانہ بنانا قابلِ افسوس ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔
ترجمان نے کہا کہ دنیا کو دہشتگردوں کی پہچان کرنے میں ہچکچاہٹ نہیں ہونی چایئے، دہشتگرد چاہے مسلمان ہو، عیسائی یا کسی بھی مذہب یا رنگ و نسل سے تعلق رکھتا ہو اُس کی پہچان صرف دہشتگرد سے ہی ہونی چایئے۔ نیوزی لینڈ میں حملہ کرنے والا شخص ایک عیسائی تھا لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں نکالا جاسکتا کہ عیسائی دہشتگرد ہیں، ہر مذہب میں ہر طرح کے لوگ پائے جاتے ہیں۔
پاکستان ایک اسلامی ملک ہے جہاں گذشتہ ستر سالوں سے بلوچوں پر ظلم کے پہاڑ ڈھائے جارہے ہیں حالانکہ بلوچ بھی مسلمان ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس کا ذمہ دار اسلام ہے۔ دنیا کے تمام مذاہب امن کا درس دیتے ہیں۔