کوئٹہ: لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے احتجاج کو 3505 دن مکمل ہوگئے۔

85

کوئٹہ پریس کلب کے سامنے جبری طور پر لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کی جانب سے 3505 دن مکمل ہوگئے جبکہ نیشنل پارٹی کے سینٹرل کمیٹی کے ممبر میر نیاز محمد لانگو نے اپنے صوبائی کابینہکے ساتھیوں کے ہمراہ جبکہ پی ٹی ایم کے کارکنان اور سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے افراد نے کیمپ کا دورہ کرکے لواحقین سے اظہار یکجہتی کی۔

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے اس موقعے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لاپتہ افراد کی فہرست کم ہونے کی بجائے طویل ہوتی جارہی ہے۔ شہداء کے ناموں میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے لیکن ظلم کی تاریک رات ضرور اپنے اختتام پر آئے گی اور ایک دن بلوچ قوم کیلئے خوشحالی کی سورج دنیا میں بلوچ قوم کو ایک نئے پہچان کیساتھ طلوع ہوگا۔تمام سامراجی قوتوں کی پشت پناہی میں چلنے والی پاکستانی فورسز بلوچ قوم کیخلاف ہرروز فوجی آپریشن کرکے فرزندوں کو اغواء کرکے ان کی مسخ شدہ لاشیں پھینک رہی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ کیچ، دشت، بالگتر بلوچستان کے مختلف علاقوں میں تازہ فورسز کی نقل و حرکت اور گن شپ ہیلی کاپٹروں کی مسلسل پروازیں جاری ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں، تمام اقوام کو وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کا ساتھ دینا چاہیئے، بھوک ہڑتالی کیمپ میں پوری انسانیت کی آواز ہے۔ یہاں موجود تمام محکوم اقوام کو ساتھ دینا چاہیئے ہزاروں بلوچ، سندھی اور پشتون خفیہ اداروں نے اغواء کیے ہیں جو تاحال لاپتہ ہے اور ان کے لواحقین سراپا احتجاج ہے۔

ماما قدیر نے کہا کہ اقوام عالم کو اپنی خاموشی کو تھوڑتے ہوئے جابر ریاست کی جنگی جرائم کا نوٹس لینا چاہیئے۔ پاکستان کی جانب سے بلوچ قوم پر جارحیت ماورائے قوانین ہے جو اس ریاست کی اقوام متحدہ میں نمائندگی کو چیلنج کرنے اور اس کی رکنیت برطرف کرنے کیلئے کافی ہے۔