کوئٹہ: بلوچ لاپتہ افراد کیلئے جدوجہد میں لواحقین کے ساتھ ہیں – پشتون تحفظ موومنٹ

237

منظور پشتین کا پیغام لیکر یہاں آئے ہیں اور ہم اس قانونی اور آئینی حق کے حصول میں بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین کے ساتھ ہیں – پی ٹی ایم رہنما

دی بلوچستان پوسٹ نمائندہ کوئٹہ کے مطابق پریس کلب کے سامنے بلوچ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے احتجاج 3508 ویں دن جاری جبکہ پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنماوں عبداللہ ننگیال، گل مرجان، مرکزی کمیٹی کے ممبر سائیں انور شاہ سمیت رہنماوں اور کارکنان نے احتجاجی کیمپ کا دورہ کرکے لاپتہ افراد کے لواحقین سے اظہار یکجہتی کی۔

پی ٹی ایم کے رہنما عبداللہ ننگیال نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان سمیت سندھ اور خیبرپختونخواہ میں جس طرح لوگوں کو غیر قانونی طور پر سالوں سال غائب کیا جاتا ہے، قتل یا ان کی مسخ شدہ لاشیں پھینکی جاتی ہے اس عمل کو بند ہونا چاہیئے اور ہم آئینی طور پر مطالبہ کرتے ہیں کہ ان تمام افراد کو عدالتوں میں پیش کیا جائے، وہ اگر مجرم یا گنہگار ہیں تو انہیں عدالتوں میں پیش کرکے سزا دی جائے اور اگر وہ مجرم نہیں ہے تو انہیں رہا کیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما منظور پشتین سمیت محسن داوڑ اور علی وزیر کو بلوچستان بدر کیا گیا جس کے باعث وہ ماما قدیر بلوچ کے پاس نہیں آسکیں جبکہ آج ہم منظور پشتین کا پیغام لیکر یہاں آئے ہیں اور ہم اس قانونی اور آئینی حق کے حصول میں بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین کے ساتھ ہیں۔

پی ٹی ایم کے رہنما گل مرجان نے کہا کہ ہم یہاں اظہار یکجہتی کرنے کیلئے نہیں بلکہ ماما قدیر کے شانہ بہ شانہ اس قانونی حق کے حصول کیلئے ساتھ دینے کیلئے آئے ہیں کیونکہ اس ملک میں بلوچ، پشتون اور سندھی مظلوم قومیں ہے جو ایک لحاظ ایک مظلوم قوم ہے۔

انہوں نے کہا کہ پشتون من الحیث القوم اور پشتون تحفظ موومنٹ ماما قدیر بلوچ اور لاپتہ افراد کے لواحقین کو باور کراتے ہیں کہ اس قانونی جدوجہد میں ہم ان کے ساتھ ہے اس کے علاوہ ہم سندھیوں اور دیگر مظلوم اقوام کو کہنا چاہتے ہیں کہ آپس میں اتحاد و اتفاق کرے کیونکہ یہاں کے حکمران اس ملک کے قوانین کو نہیں مانتے ہیں۔ ہم ملکر کر ان کا قبلہ درست کرینگے اور اپنے پیاروں کو واپس ان کے گھروں کو لائینگے۔

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان کے اکثر علاقوں میں نوجوانوں کے اغوا اور مسخ شدہ لاشوں کے ملنے کے جاری سلسلے کے حوالے سے عالمی اداروں اور مختلف مہذب ممالک کو آگاہ کرتے رہے ہیں لیکن اقوام متحدہ سمیت دیگر ممالک کی عدم توجہی نے بلوچ خطے میں ناقابل بیان انسانی المیے کو جنم دیا ہے۔ ہم ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت دیگر انسانی حقوق کے اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ اجتماعی قبروں اور توتک واقعے کا نوٹس لیکر بلوچ قوم کو انسانی المیے سے نجات دلانے میں اپنا کردار ادا کرے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں عالمی رائے کو گمراہ کرنے کیلئے سینکڑوں لاشوں کو دس یا تیرہ کے ہندسے میں چھپانے کی ناکام کوشش کی جارہی ہے لیکن اس سچائی کو چھپایا نہیں جاسکتا ہے۔

ماما قدیر نے پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ مظلوم اقوام بلوچ، پشتون اور سندھی دیگر متحد ہوکر ہی اپنے آئینی حقوق حاصل کرنے سمیت اپنے لاپتہ افراد کو واپس لا سکتے ہیں۔