بلوچ قوم کے پاس قومی یکجہتی و قومی جنگ کے سواء کوئی دوسرا راستہ نہیں – بشیر زیب بلوچ

476

بلوچ سرزمین اور ساحل وسائل کی خاطر دنیا میں جاری کھینچا تانی، ہماری بربادی اور فنا کا باعث بن سکتی ہے۔

بلوچ رہنماء بشیر زیب بلوچ کا بلوچ نوجوانوں اور انسانی حقوق کے اداروں کے لئے خصوصی ویڈیو پیغام

بلوچ لبریشن وائس کی جانب سے سماجی رابطوں کی ویب سائیٹ پر جاری ہونے والے ویڈیو پیغام میں بشیر زیب بلوچ نے کہا  کہ بحیثیت بلوچ جہدکار، مہذب دنیا، انسانی حقوق کے تمام ادارے اور خصوصاً بلوچ قوم اور بلوچ نوجوانوں کو اپنے اس ویڈیو پیغام میں یہی کہنا چاہتا ہوں کہ بلوچ قوم، سرزمین، شناخت، تاریخ، تہذیب و ثقافت آج انتہائی کھٹن اور مشکل ترین دنوں سے گذر رہی ہے۔

بشیر زیب بلوچ کہنا تھا کہ ہم یہی سمجھتے ہیں اور باعلم ( زانت کار) لوگ بھی یہی کہتے ہیں کہ آج دنیا میں تبدیلی رونما ہورہی ہے یا تبدیلی کی ہوائیں چل رہی ہیں، ہم صرف یہ نہ سمجھیں کہ یہ تبدیلی ہماری خوشحالی، ہماری قومی بقاء کی ضامن ہوگی، ہوسکتا ہے اگر ہماری قومی قوت اور جدوجہد اگر کمزور ہوئی تو یہ تبدیلی یا بلوچ سرزمین اور ساحل وسائل کی خاطر دنیا میں یہ کھینچا تانی ہورہی ہے، ہماری بربادی اور فناء کا باعث ہوسکتی ہے۔

بی ایس او آزاد کے سابق چیئرمین کا کہنا تھا کہ آج میں مہذب دنیا، مہذب اقوام اور انسانی حقوق کے ان تمام اداروں اور خصوصاً بلوچ قوم سے یہی کہنا اور سوال کرنا چاہتا ہوں کہ ہم نے احتجاج کیا، سیاسی حوالے سے جدوجہد کی، دنیا کو کہنے کیلئے ہر طریقہ کار اپنایا لیکن کچھ قوتیں جو آج چین، سعودی عرب یا قابض پاکستان کی شکل میں ہیں، جو روز بہ روز زور آواری کررہے ہیں، ان کی یلغار بلوچ سرزمین کے حوالے سے زیادہ ہوتی جارہی ہے لہٰذا انہیں روکنے کیلئے ہمیں کیا کرنا چاہیئے تاکہ ہماری سرزمین، بلوچ قوم، ہماری قومی بقاء، قومی تشخص محفوظ ہو۔

انہوں نے  کہا کہ آج ہم دیکھ اور محسوس کر رہے ہیں کہ چین پاکستان کے ہمراہ بلوچ ساحل و وسائل کو لیجانے اور بلوچ قومی شناخت کو ختم کرنے کی خاطر روز بہ روز تیزی لا رہا ہے اور اس کیلئے دوسرے استحصالی قوتوں کو بھی اپنے ساتھ ملا رہا ہے۔

بشیر زیب بلوچ کا کہنا تھا کہ ہم بلوچوں کے پاس کیا بچا ہے، میرے خیال میں بلوچ قوم کے پاس اس وقت قومی یکجہتی، قومی جنگ اور قومی طاقت کے علاوہ کچھ بھی نہیں بچا ہے۔ اگر بلوچ آج یہ سمجھ نہیں سکا کہ یہ تمام قوتیں بلوچ کو ختم کرنے، بلوچ وطن پر قبضہ کرنے، بلوچ وسائل کو لیجانے کی خاطر کام کررہے ہیں یا اپنے قدم آگے بڑھا رہے ہیں، اگر بلوچ ان چیزوں کو نہیں سمجھتا ہے تو میرے خیال میں بلوچ کیلئے کچھ نہیں بچے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم یہی کہہ رہے ہیں کہ ہمارے پاس سوائے ایک قومی قوت، قومی یکجہتی کے کچھ بھی نہیں ہے۔ وہی یکجہتی جو قومی تحریک کی شکل میں ہو۔ ہم اس یکجہتی کو نہیں کہتے ہیں جہاں کچھ تنظیمیں، پارٹیاں، گروہ ایک ساتھ ہوتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں اس یلغار کو روکنے کیلئے بڑی قوت و طاقت چاہیئے۔ جاری جدوجہد میں تیزی کی ضرورت ہے۔ آج ہمارے نوجوان، بوڑھے، خواتین و بچے اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں، ہمیں اس کے تسلسل کو روکنا ہے اور دنیا کو یہ یقین دلانا ہے کہ بلوچ اپنے خطے میں ایک زندہ قوم ہے، ایک زندہ قوم کو اس طرح آسانی سے کوئی ختم یا فناء نہیں کرسکتا ہے۔

بلوچ رہنماء کا کہنا تھا کہ ہم یہی کہہ رہے ہیں کہ اس یلغار اور کھینچا تانی میں ہم اگر آنے والی نسل، آنے والی بقاء، قومی خوشحالی و وطن کی آزادی کی خاطر خود کو قربان کرتے ہیں تو یہ کوئی بُرا سودا نہیں ہے۔

بشیر زیب بلوچ کا کہنا تھا کہ بحیثیت بلوچ، بحیثیت انسان آج ہم پوری دنیا کو کہہ رہے ہیں کہ ہمارے پاس کچھ نہیں بچا، ہم برباد و فنا ہورہے ہیں، ہماری قومی شناخت، تشخص، پوری تاریخ فنا کی طرف جارہی ہے اور ہم یہی کہنا چاہتے ہیں کہ ہماری جتنی بھی طاقت ہے، ہم سے جتنا ہوسکتا ہے ہم اس حد تک ضرور جائینگے اور ہم کسی بھی طاقت یا قوت کے کسی بھی صورت دباؤ کو قبول نہیں کرینگے، اس یلغار کے حوالے سے نہ ہم سمجھوتہ کریں گے اور نہ ہی رحم و نرم دلی اپنائینگے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم مشکلات، خطروں اور چیلنجوں کو سمجھ رہے ہیں، ہم سمجھ رہے ہیں بحیثیت قوم، بحیثیت بلوچ، بلوچ سرزمین اس یلغار میں جائیگی اور ہمارے لیے کچھ نہیں بچے گا سوائے جب تک ہم طاقت، قوت اور قومی جنگ سے اس کو روکنے کی کوشش نہیں کرینگے، جب تک ہم قربانی نہیں دینگے، میرے خیال میں اس کے علاوہ ہمارے پاس اور کچھ بھی نہیں ہے ۔

ویڈیو پیغام کے آخر میں ان کا کہنا تھا کہ میں پھر سے بلوچ قوم اور دنیا کو یہی کہنا چاہتا ہوں کہ وہ سمجھیں، بلوچ قوم انتہائی مشکل حالات سے گذرہی ہے اور آنے والے دنوں میں انتہائی مشکل حالت ہمارے اوپر آئینگے اس کیلئے ہم قوم اور تمام جہد کاروں کو کہنا چاہتے ہیں کہ کسی بھی قسم کے دباؤ میں نہ آئیں بلکہ ثابت قدمی، مستقل مزاجی اور قربانی کے جذبے کیساتھ اپنے جدوجہد کو آگے بڑھائیں اور عوام کو سمجھائیں اسی میں ہماری قومی خوشحالی، آزادی اور بقاء ہے۔