پاکستان : نیشنل ایکشن پلان کی تشکیل نو کا منصوبہ

196

سیکیورٹی کے اندرونی خطرات سے نمٹنے کے لیے نیشنل ایکشن پلان (این اے پی) کے نئے ورژن اور نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) کی تشکیل نو کی منصبہ بندی کی جارہی ہے۔

میڈیا رپورٹس  کے مطابق اس بات کا مشاہدہ کیا گیا ہے کہ وزارت داخلہ نیشنل ایکشن پلان کے نئے ورژن اور نیکٹا کی تشکیل نو کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

وزارت داخلہ کی جانب سے اپنی 100 روزہ کارکردی اور مستقبل کے منصوبوں سے متعلق دستاویز کے مطابق نیشنل ایکشن پلان-2 کا مقصد جنوری 2015 میں نافذ کیے جانے والے پہلے وژن میں فرق کو ختم کرنا ہے۔

خیال رہے کہ دسمبر 2014 میں پشاور کے آرمی پبلک اسکول حملےکے چند روز بعد نیشنل ایکشن پلان بنایا گیا تھا۔

نیشنل ایکشن پلان کی پالیسی میں پاکستان بھر سے مسلح تنظیموں کا خاتمہ کرنا، تمام اسٹیٹ ہولڈرز کے ساتھ مل کر وفاقی اور صوبائی حکومت کی سیکیورٹی کی کوششوں کو تیز کرنا، دہشت گردی کے نیٹ ورک کو تباہ کرنا اور ریاستی سیکیورٹی کو درپیش اندرونی خطرات پر قابو پانے کے لیے سیکیورٹی اداروں کو دستیاب وسائل اور صلاحیت کو استعمال کرنا شامل تھا۔

تاہم نیشنل ایکشن پلان کا آنے والا ورژن وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی کی ایک سوچ ہے۔

دستاویز کے مطابق وزارت داخلہ کا پلان ہے کہ وہ بڑھتے ہوئے سائبر کرائمز سے موثر طریقے سے نمٹنے کے لیے ایک سائبر سیکیورٹی کا ادارہ قائم کریں۔

اس کے علاوہ نیکٹا کی تشکیل نو کا مقصد اسے مزید فعال بنانا، سول مسلح فورس کی تعمیری صلاحیت، سیف سٹی منصوبے کو اپ گریڈ کرنا اور ایئرپورٹ اور سرحدوں سے کرنسی اسمگلنگ کے خاتمے کے لیے اقدامات کرنا ہے۔