بلوچ اپنے وطن کے دفاع کیلئے کسی حد تک جاسکتے ہیں، کراچی حملے پر بلوچ رہنماؤں کا ردعمل

299

دی بلوچستان پوسٹ سوشل میڈیا رپورٹر کے مطابق گذشتہ روز کراچی میں چینی قونصل خانے پر حملہ آوروں کو بلوچ آزادی پسند شخصیات کی جانب سے خراج تحسین پیش کیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق بزرگ بلوچ آزادی پسند رہنما میر عبدالنبی نے سوشل میڈیا کے ویب سائیٹ ٹوئیٹر پر اپنا ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ “چینی قونصل خانے پر بلوچ محب وطنوں کی جانب سے حملہ بلوچ دولت کو لوٹنے والوں کے خلاف نفرت اور مادر وطن سے محبت اور آزادی کے جذبے کی طرف اشارہ ہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ ” میں شہیدوں کو دل کی گہرائیوں سے خراج تحسین پیش کرتا ہوں اور بلاشک بی ایل اے اس کامیابی پر مبارکبادی کا مستحق ہے۔”

اسی طرح بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ کے کمانڈر اختر ندیم بلوچ نے ٹویٹر پر ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ ” قومی نجات کے حصول کیلئے، بلوچ کو کسی بھی حد تک کو پار کرنا پڑے گا اورغلامی کی ذلت سے شان و شوکت سے مرنا اور مارنا بہتر ہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ “دنیا کو شہیدوں کی تعداد سے یہ جان لینا چاہیئے کہ وہ نہ اپنی زمین اور نہ ہی اپنی آزادی سے کبھی دستبردار ہونگے۔”

دریں اثنا بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے سابقہ چیئرمین ایڈووکیٹ رحیم بلوچ نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ عمومی طور پر “دانشور” اس طرح کے واقعات کی مذمت انکے اسباب و علت جانے بغیر ہی کرلیتے ہیں۔ بی ایل اے کا یہ حملہ نا صرف سیپک کے خلاف بلوچوں کے غم و غصے کا اظہار ہے بلکہ یہ آزاد وطن ، کالونائزیشن کے خلاف مزاحمت اور وسائل کے لوٹ مار کے خلاف بلوچوں کے عظم کا کھلا اظہار بھی ہے۔

واضع رہے چینی قونصل خانے پر حملے کی ذمہ داری بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ حملے کا مقصد صاف اور واضح تھا کہ بلوچ سرزمین پر چین کے فوجی توسیع پسندانہ عزائم کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا چین کو ایک مرتبہ پھر خبردار کرتے ہیں کہ چین بلوچ سرزمین پر اپنے ناروا عزائم سے جلدازجلد دستبردار ہوکر بلوچستان سے نکل جائے ورنہ اس طرح کے حملے تسلسل سے جاری رہینگے۔