اداروں کی موضوعی صورتحال صورت خان کی رائے کے تناظر میں – برزکوہی

200

اداروں کی موضوعی صورتحال صورت خان کی رائے کے تناظر میں

تحریر : برزکوہی

دی بلوچستان پوسٹ

واجہ صورت خان مری اپنے حالیہ انٹرویو میں بلوچ مسلح جہدوجہد میں تقسیم در تقسیم، دھڑےبندی، انتشار، بے لگامی اور انارکی کی کیفیت کو بلوچ سیاسی پارٹی کی فقدان کی بنیادی وجہ قرار دیتا ہے لیکن واجہ کو شاید موقع نہیں ملا یا مزید یہ وضاحت کرنے کیلئے سوال نہیں کیا گیا، جو انتہائی اہم اور قابل بحث، قابل وضاحت، قابل جواب سوال ہے کہ کیسا سیاسی پارٹی جو بلوچ مسلح جدوجہد کو کنٹرول کرسکے یا کنٹرول کرسکتا تھا؟ اس سیاسی پارٹی کو کب اور کس وقت بننا تھا؟ کیسے بننا تھا؟ مسلح جدوجہد سے قبل مسلح جدوجہد کی ابتداء کے وقت یا ابھی؟ اور اس کی بنانے اور چلانے والے کون اور کس معیار اور بھروسے کے لوگ ہوتے؟ جو پورے بلوچ مسلح جدوجہد کو کنٹرول کرنے کے ساتھ صحیح رخ اور صحیح سمت لے جاتے؟

مختصراً ان تمام اہم سوالات کا جواب اور وضاحت واجہ صورت خان مری بہتر انداز میں دے سکتا ہے اور اگر آج بھی ان کو واضح کرلے تو بہتر اور سودمند ہوگا۔

جہاں تک اس اہم سوال کے تناظر میں میری رائے ہے تو میں کہتا ہوں، بلوچ مسلح جدوجہد سے قبل سیاسی پارٹی کی تشکیل ہمارا موضوعی تضاد برائے حاکم و محکومیت کے پیش نظر پہلے مرحلے میں بلوچ قومی پارٹی کی تشکیل، بلوچ عوام میں سیاسی و ذہنی تربیت کے ساتھ عوام کو شعوری طور پر منظم اور متحرک کرنا، پھر دوسرے مرحلے میں قومی سیاسی پارٹی کی مسلح ونگ کی تشکیل اور مسلح جہدوجہد شروع کرنا ضروری تھا۔

جس طرح گنی بساو میں ابتداء میں کیبرال کی تنظیم PAIGCکوئی گوریلا تنظیم نہیں تھا بلکہ پہلے مرحلے میں مختلف شہروں میں مختلف قبائل جن مشہور و معروف قبائل Balanta, Fula, Manjaca اورPape کو قبائلیت کی خول سے نکال کر پام افریکن ازم میں لاکر ان کی ذہنی و فکری تربیت کی اور مختلف شہروں میں ابتدائی سیاسی مراکز قائم کی اور مراکز کا مقصد جدوجہد کے معروف سیاسی طریقوں کو بروکار لانا تھا۔

لیکن گنی بساو اور دیگر شہروں میں PAIGCبڑی تعداد میں محنت کشوں کی ہڑتالیں مظاہرے جلسہ جلوس کرنے میں کامیاب رہی اگست 1959 میں pigigiui نامی شہر میں گودی کے محنت کش ہڑتال پر تھے، جسے کچلنے کے لیے استعمار نے بڑے پیمانے پر کاروائی کا آغاز کیا اور مسلح دستے ہڑتالی مزدوروں کو کچلنے کے لیے روانہ کئے، پرتگیزی فوج کی اس ظالمانہ کاروائی میں 50 محنت کش سفاکی سے قتل کردیئے گئے 100 سے زائد زخمی ہوئے جبکہ پارٹی کے سینکڑوں کارکنوں کو گرفتار کرکے پرتگیزی ازیت خانوں میں بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا، یہ واقع pigigiuiکے قتل عام کے نام سے مشہور ہوا جس نے pAIGC کے لیئے معروف سیاسی طریقوں اور اس کی آزادی حاصل کرنے کی جہدوجہد کی بجائے مسلح جہدوجہد کا راستہ متعین کیا۔

چیئرمین گونزیلو: 1962 ء میں پیرو ہیومانگا یونیورسٹی میں بحیثیت فلسفے کے پروفیسر متعین ہوئے۔ اس دوران انہوں نے طلبہ کو فلسفے کی تعلیم کیساتھ ساتھ معاشرے میں اُسکے اطلاق کی بھی ہدایت کرتے، فلسفے کو محض دنیا کے بیان کرنے کا علم نہیں بلکہ اسکے بدلنے کا علم گردانا۔ اس دوران وہ خود بھی دائیں بازو کی سیاست کرنے والے اپنی تنظیم کی سرگرمیوں میں پیش پیش دکھائی دیئے۔

1965ء میں وہ پہلی بار چین گئے اور واپسی پر اُنہوں نے اپنی سیاسی سر گرمیاں مزید تیز کر دیں۔ 1970ء میں وہ دو مرتبہ گرفتار ہوئے اور اُن پر یہ الزام عائد کیا گیا کہ حکومت مخالف مظاہروں و فسادات میں اُن کا ہاتھ ہے۔ اسی سال کے وسط میں اُنہوں نے یونیورسٹی میں پڑھانے کے سلسلے کو ترک کرکے مکمل طور سے رو پوشی اختیار کی۔

اُن کی روپوشی کے بعد پیرو میں دائیں بازو کی سیاست کرنے والے لوگوں میں خاطر خواہ اضافہ دیکھنے میں آیا جبکہ اُن کی تنظیم ’’درخشاں راستہ۔ شائننگ پات Shining Path‘‘ کے نام سے مشہور ہوئے پیرو سماج میں ذہنی اور سیاسی تربیت کرکے اپنی گہری جڑیں بنانے میں کامیاب ہوئے اور مئی 1980 کو یہ تحریک اپنے مسلح ونگ کے ذریعے باقاعدہ گوریلا جنگ کا آغاز کیا اور جلد ہی پیرو کے مرکزی و جنوبی دیہی علاقوں میں اپنا اثر قائم کرنے میں کامیاب ہوئی۔ اس کے بعد یہ تنظیم مزید منظم ہوتے لیما (Lima) شہر کے مضافات میں بھی اپنی کارروائیاں کرنے لگی۔

1949 ء گھانا میں نکرومہ نے ایک انقلابی سیاسی جماعت ’’ کنونشن پیپلز پارٹی ‘‘ کی بنیاد رکھی۔ نکرومہ کی انقلابی سیاسی جماعت میں تمام طبقے کے لوگ شامل ہوگئے۔ گھانا کے مزدور، کسان، دہقان سب نکرومہ کی قیادت پر فخر کرنے لگے ، 1950 ء میں نکرومہ کی اپیل پر گھانا کے عوام نے سول نافرمانی کی تحریک شروع کی جس سے برطانوی سامراج کی نیندیں حرام ہوگئی اور نکرومہ کو بغاوت کے جرم میں گرفتار کرلیا گیا لیکن نکرومہ کو جلد ہی عوام کے بے پناہ دباؤ اور احتجاج کے بعد رہا کر دیا گیا۔ اس کے بعد گھانا کی عوام کی سیاسی و ذہنی تربیت کرکے مسلح محاذ پر گوریلوں کی تنظیم کاری، انہیں تنظیمی نظم و ضبط کا پابندی، دیہی و شہری علاقوں میں گوریلوں کی تربیت کرنے کے طریقے سب نکرومہ نے انجام دیئے۔ اور پھر اس کے بعد نکرومہ نے ایک زبردست گوریلاجنگ شروع کی۔

اسی طرح جنوبی افریقہ میں ابتداء میں سیاسی پارٹی جنوبی افریکن کانگریس کی سیاسی جہدوجہد نیلسن میڈیلا سیاہ فاموں کی ذہنی و فکری تربیت اس کے بعد اپنا مسلح ونگ Omkhuntovisizvi تشکیل دی اور مسلح جہدوجہد شروع کی اور چین میں چیرمین ماوزتنگ چین کیمونسٹ پارٹی اور اس کی مسلح ونگ پیپلز لبریشن آرمی کی مسلح جہدوجہد شروع کی اور اسی طرح روس میں کامریڈ لینن کے روس بالشویک پارٹی اس کی مسلح ونگ جس کی سربراہی جوزف اسٹالن کو سونپ کر زار حکومت کے خلاف اپنی مسلح ونگ ریڈ آرمی کی شکل میں گوریلا جنگ شروع کی اسی طرح دنیا میں بہت سی ایسے مثالیں مختلف تحریکات کی تاریخ میں موجود ہے کہ سیاسی پارٹیوں کی ایک ارتقائی پروسس یا مرحلے سے گذرنے کے بعد مسلح ونگ تشکیل پاچکے ہیں۔ بہت دور جانے کی ضرورت نہیں ہم بنگال کی عوامی لیگ کی کوکھ اور اثرات سے جنم لینے والی مکتی باہنی یا انڈیا کانگریس کی سیاسی جدوجہد اور سبھاش چندر بوس بھگت سنگھ والوں کی مسلح جہدوجہد پر نظر ڈالیں، جو کانگریس کو مجبوراً اس موقف پر لاتا ہے کہ ہندوستان چھوڑ دو تحریک شروع کرے، لیکن کانگریس تو مسلح جہدوجہد کو کنٹرول نہیں کررہا تھا بہرحال تاریخ کے سب کے سب سیاسی پارٹیوں نے مسلح جدوجہد کی راہ اپنائی ہے۔ دنیا میں ایک بھی ایسا مثال نہیں ہے کہ مسلح جدوجہد کی کوکھ سے سیاسی پارٹیوں کی تشکیل اور پھر وہی سیاسی پارٹیاں مسلح جدوجہد کو کنٹرول کرلے اور ان کو پالیسی فراہم کرے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے آخر بلوچستان میں کیوں علمی معیار و تعریف کے مطابق قومی سیاسی پارٹی کی تشکیل ممکن نہیں ہوا ؟ پہلے تو بلوچ قومی تحریک ہمیشہ اپنے موضوعی تضاد یعنی پاکستان کی غلامی، محکومی، ظلم و جبر اور ناانصافیوں کے احساس اور ادراک سے کم یعنی موضوعی حالات سے کم معروضی حالات کی تبدیلی اور ادراک سے کچھ زیادہ اثر انداز ہوکر پہلے مرحلے کو چھوڑ کر مجبوراً دوسرے مرحلے مسلح جدوجہد تک پہنچ گئے۔ گوکہ ہر تحریک میں معروضی حالات و تبدیلی کے اثرات ضرور ہونگے، مگر بلوچ قیادت میں یا تو معروضی حالات کی قبل از وقت تبدیلی کا ادراک نہ ہونا یا پھر مکمل قومی اور عوامی تحریک کی مرحلہ وار کا ارادہ سوچ یا نیت نہ ہونا تھا بلکہ صرف معروضی حالات یا معروضیات کی ضرورت اور مفادات کے تحت بطور پریشر گروپ مسلح جدوجہد شروع کیا گیا ہے۔ جب بطور پریشر گروپ مسلح جدوجہد شروع ہوگا تو لازمی طور پر سوچ نیت اور ارداہ صرف اس حد تک محدود ہوگا، پھر مکمل سیاسی اور عوامی تحریک کا سوچ خود بخود ناپید ہوگا، پھر قومی سیاسی پارٹی کی تشکیل سیاسی شعور کو پھیلانے اور اجاگر کرنے اور وسعت دینے کی سوچ اور بعد میں اسی سیاسی ادارتی و سیاسی شعور اور سیاسی سوچ اور سیاسی پارٹی کے مسلح جدوجہد کو کنٹرول کرنا گوارہ بھی نہیں ہوگا کیونکہ پھر مسلح جدوجہد سیاسی شعور، سیاسی سوچ کے کنٹرول میں ہونے کے بجائے مخصوص مفادات اور پریشر گروپ تک محدود نہیں ہوگا بلکہ وسیع سوچ اختیار کرکے ادارتی شکل میں ابھرے گی پھر یوٹرن کی کوئی بھی گنجائش قابل قبول نہیں ہوگا۔

۔دوسرا سبب ہمیشہ قومی سیاسی پارٹی کی تشکیل اور منظم شکل میں ابھرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ بلوچ سماج میں اپاہج قبائلی اور نیم قبائلی فرسودہ اور روایتی سوچ اور رویوں کا رہا ہے، اس سوچ کی وجہ سے ہمیشہ اختیارات پر خود کی انفرادی کنٹرول اور ان سے چمٹنا کبھی بھی ان سے سرنڈر نہیں کرنا بلکہ اپنی روایتی سوچ کی بنیادوں پر قابض ہوکر انہیں نچلے سطح منتقل کرنے سے گریز کرنا دوسروں کو ہمیشہ رعایا اور ذاتی کارندہ اور تابعدار سمجھنا، وہ بھی اس خوف کے تحت جب اختیارات منتقل ہونگے پھر عوامی سطح تک پھیل کر عوامی تحریک کی شکل اختیار کرینگے، پھر خارجی مفادات سے ذاتی مفاد کی حاصلات بطور پریشرگروپ مخصوص ایجنڈا یا واپسی کا راستہ یعنی مذاکرات سمجھوتہ وغیرہ وغیرہ سب کے سب ناممکن ہونگے۔

ایسی بہت سے مثالیں ہمارے سامنے ہیں مثلاً 48 ۔60 اور 70 کی دہائی کی مسلح بغاوتوں کا شروع ہونا اور پھر ختم ہونا، آج تک یہ کیوں واضح نہیں ہوا کہ شروعات کیوں ہوئی اور ختم کیوں ہوئے؟ اگر موضوعی اور معروضی اس وقت حالات مسلح جدوجہد کے حوالے سے موافق نہیں تھے، تو پھر کیوں شروع کیا گیا؟ اگر وسائل کی کمی تھی پھر بلوچ قائدین کا ادراک سیاسی بصریت پر یہ سوال کیا نہیں اٹھتا ہےکہ پھر مسلح جنگ کیوں شروع کیا گیا؟ دنیا کی ضرورت بطور پریشر گروپ یا اس وقت جب جنگ ختم کیا گیا، موضوعی مفادات حالات مذاکرات سمجھوتہ یا وسائل کی کمی آپ جو نام اور دلیل دیں لیکن کسی نے بھی سوال کیوں نہیں اٹھایا اس وقت اختلاف و اعتراض کیوں نہیں کیا گیا بلکہ سب کے سب اپنا بوری بسترباندھ کر اچھے بچوں کی طرح گھر واپس چلے گئے آخر کیوں؟

اس لیئے کہ اس وقت قومی سیاسی پارٹی نہیں تھا، مسلح جنگ سیاسی پارٹی کے کنٹرول میں نہیں تھا، جب سیاسی پارٹی کا وجود نہیں تھا، پھر کنٹرول بھی نہیں۔ تو پھر اسی سبب خاموشی، بے بسی یا پھر سب کے سب کی رضاکارانہ رضامندی شامل تھا؟ اسی لیئے بقول واجہ صورت خان مری کے حالیہ انٹریو میں روزاول سے سیاسی پارٹی کی تشکیل نہیں ہونے دیا گیا ہے یعنی جدوجہد کی ادارتی اور سیاسی شکل اور گنجائش کو ہمیشہ برا اور مسترد عمل سمجھ کر اس کی مخالفت میں من گھڑت جواز اور دلیل پیش ہوا ہے، کبھی ہمارا معاشرہ قبائلی، پسماندہ اور کبھی غیر تعلیم یافتہ وغیرہ وغیرہ کے من گھڑت دلیلں پیش کرنا۔

تو پھر کیا جنوبی افریقہ خاص کر گنی بساو کا معاشرہ اس وقت مذہبی اور قبائلی بنیادوں پر وجود نہیں رکھتا تھا؟جب نیلسن میڈیلا اور کبرال جیسے لیڈروں نے اپنے اپنے معاشروں کو قبائلیت سے نکال کر قومی اور سیاسی شکل میں استوار کیا؟

کیا موجودہ مسلح جہدوجہد تمام تحریکی مراحل پروسس اور ارتقائی عمل سے گذر کر شروع ہوچکا ہے؟ یا معروضی حالات کی تیزی سے تبدیلی کے ادراک کو پیش نظر رکھ کر شروع ہوچکا یا چین سامراج کی یلغار ہمسایہ ملک افغانستان میں رونما ہونے والے عالمی تبدیلیوں کی تناظر اور پیش نظر؟ یا پھر واپس وہی پرانا وطیرہ مقاصد بطور قومی تحریک کے نام پر صرف پریشر گروپ کے، سب کچھ ہوا یا ہورہا ہے؟ یا اس سے بڑھ کرآگے بلوچ قوم کی زیست اور مرگ کے بادل سرپر منڈلانا شروع ہوا؟

اگر جب قومی زیست اور مرگ کے بادل سر پر منڈلانا شروع ہونے کی گھنٹی بج چکی تھی، تو کیا جنگ شروع کرنے سے قبل اس دن اور اس وقت کے حالات کا ادراک نہیں تھا کہ اس سے پہلے دیگر تحریکات کی طرح قومی سیاسی پارٹی کی تشکیل اس کے بعد مسلح ونگ کی تشکیل اور پھر مسلح جدوجہد کا اعلان اور شروع ہوتا؟ اگر واقعی اچانک انتہائی برق رفتاری کے ساتھ حالات کروٹ بدل گئے تو کیا یہ ممکن تھا کہ پہلے سیاسی یعنی پرامن تحریک سے جدوجہد لوگوں میں قومی آزادی کا شعور و اگاہی پھیلانا پھر پروسس کے تحت مسلح جدوجہد شروع کرنا اور مسلح جدوجہد کو سیاسی پارٹی کے کنٹرول میں رکھنا کیا یہ سب ممکن تھا اور ممکن ہے؟ یہ سارے سوالات آج بھی موجود ہیں، بلوچ دانشوروں کی بے بسی کی آغوش میں؟

چند اہم سوالات جن میں ابہام پیدا ہوچکا یا پیدا کیا جارہا ہے یعنی سیاسی اور فوجی اصلاحات کے پردوں میں کیا مسلح جدوجہد خود سیاسی جدوجہد نہیں ہے اور اس کے سیاسی مقاصد نہیں ہیں؟ اگر سیاسی جدوجہد ہے تو پھر کیا مسلح جہدکار صرف فوجی ہیں؟ سیاسی نہیں ہوسکتے ہیں؟ فوجی جہدکار اور سیاسی جہدکار کا معیار کیا ہے؟ علمی دنیاوی نقطہ نظر میں نہ کہ روایتی اور عوامی زبان ذدعام میں۔ کیا کسی کا کبھی بی این پی، نیشنل پارٹی، بی این ایم، جمیعت، بی ایس او وغیرہ وغیرہ سے اگر کوئی تعلق رہا ہے یا کبھی ہوچکا ہے یا کوئی بیرون ملک بیٹھا ہے یا پھر کبھی کسی بھی تنظیم کا ممبر، یونٹ سیکریٹری، زونل، ضلعی، مرکزی عہدیدار رہا ہے صرف اور صرف وہ سیاسی ہیں؟ اور سیاسی ہوسکتے ہیں؟ باقی سب فوجی ہیں یا غیرسیاسی ہیں؟ پھر کیا تمام روایتی سابقہ عہدایدر یا ممبر اور خاص کر بیرون ممالک میں بیٹھے ہوئے لوگ سیاسی رہ سکتے ہیں؟ پھر کس علمی سانچے اور ترازو میں؟ پھر کیا تمام لاتعلق یعنی جن کا کبھی بھی کوئی بھی سیاسی پارٹیوں سے تعلق یعنی بحثیت ممبر اور عہدایدر نہیں رہا ہے، کیا وہ سب کے سب مسلح جہدکار، غیر سیاسی اور صرف فوجی ہیں؟ تو پھر یہ فرق اور معیار کس دلیل، منطق اور ڈکشنری میں موجود ہے؟ یا کس پیمانے سے کب اور کہاں کس نے طے کیا ہے؟ کوئی وضاحت کرسکتا ہے؟ کیا مسلح جدوجہد خود ایک صبرواستقامت پرآزمائش اور پختہ جدوجہد کا سیاسی ذریعہ نہیں ہے؟

اچھا کیا مسلح جدوجہد میں برسرپیکار یعنی مسلح جدوجہد کے مالک اور خالق خود اگر اپنے من پسند، خواہش و مرضی اور ایماء کی بنیادوں پر خود کوئی بھی فرنبردار اور تابعدار سیاسی گروہ، ونگ، کمیٹی، مہم، پارٹی، تنظیم وغیرہ تشکیل دیکر پھر مسلح جدوجہد کو اس کے کنٹرول میں دیدے اور ماتحت کے فرمان خود جاری کردے اور دنیا کی دیگر تنظیموں کا حوالہ جات پیش کرے پھر کیا وہ کیمونسٹ پارٹی، جنوبی افریکن پارٹی اور بالشویک پارٹی کی مثال ہوسکتا ہے؟ جب کہ وہ خود مسلح جدوجہد سے متاثر یا مسلح جدوجہد کی رومانویت اور کوکھ اور اثرات سے جنم لے چکا ہے، پھر کیسے اور کس طرح وہ مسلح جدوجہد کو تابع اور کنٹرول کرکے فیصلے اور بہترین پالیسی صادر کرسکتا ہے؟

اگر دنیا میں ایسا ہوا بھی ہے، تو قومی سیاسی پارٹی کی کوکھ سے بطور مسلح ونگ یعنی مسلح جدوجہد کی تشکیل ہوپایا۔ بہت سے اور بے شمار واضح مثالیں ہمارے سامنے ہیں، جن کو مزید بطور مثال مفصل انداز میں پیش کرنا شاید ایک ہی آرٹیکل میں سمو دینا ممکن نہ ہو۔

دنیا میں جن جن سیاسی پارٹیوں نے اس وقت کے خارجی حالات اور اپنے موضوعی حالات، دشمن کے ظلم و جبر اور تشدد کا جواب تشدد کے سوا اور کوئی راستہ نہیں دیکھا تو انہوں نے فیصلہ کرلیا کہ مسلح جدوجہد اب وقت کی ضرورت ہے، تو انہوں نے باقاعدہ اور ان کی سنٹرل کیبنٹ اور سنٹرل کمٹیوں میں فیصلہ لیا گیا ہے کہ مسلح جدوجہد اب وقت کی ضرورت ہے، تب جاکر پھر سیاسی پارٹی کی مجموعی اور علمی تعریف کے تناظر میں باقی پارٹی کے دیگر ڈیپارٹمنٹ کے علاوہ انہوں نے ایک اور ڈیپارٹمنٹ یعنی مسلح ونگ تشکیل دے کر مسلح جہدوجہد شروع کرچکے ہیں۔ پھر وہ مسلح ونگ یعنی مسلح جدوجہد باقی پارٹی کے دیگر ڈپارٹمنٹ یعنی کسان، مزدور، وکلاء، طلباء، خواتین، انسانی حقوق وغیرہ کی طرح ہمیشہ قومی سیاسی پارٹی کے کنٹرول میں ر ہے ہیں۔

یہاں بلوچستان میں بلوچ مسلح جدوجہد کی تاریخ اور صورتحال سرے سے مختلف ہے، شاید واجہ صورت خان مری دنیاوی اور علمی بنیادوں پر یہ رائے قائم کرچکا ہے، اب وہ مزید بہتر انداز میں بلوچ مسلح جدوجہد کی تاریخ اور ابتداء کو مدنظر رکھ کر بلوچستان کی آج کے موضوعی صورتحال، بلوچ سماجی خدوخال، پنجابی دشمن کے بے رحم پالیسی اور بلوچ آبادی کی دور دور تک منتشری کی حالت کے پیش نظر اس اہم سوال کا جواب اور وضاحت بہتر انداز میں دے سکتا ہے کہ آج بلوچ مسلح جدوجہد اور مسلح تنطیموں کو کونسا، کس سیاسی پارٹی یا سیاسی قیادت کے کنٹرول میں ہونا ہے تاکہ مسلح جدوجہد مزید منتشر اور انارکی کی کیفیت سے بچ سکے؟

یہ دانشوروں کا کام اور ان کی ذمہ داری ہے، وہ اس وقت کے ذمینی حقائق اور موضوعی حالات کو مدنظر رکھ کر غیر مبہم انداز میں انتہائی وضاحت اور تشریح کے ساتھ اس اہم سوال کے حل اور وضاحت کو پیش خدمت کرسکتے ہیں۔ ناکہ چند لوگ اپنے ذہنی اختراع، خواہش، ذاتی مقاصد، مفاد اور مزاج کے مطابق اس علمی سوال اور بحث کو گڈمڈ کرکے الجھن اور کج بحثی پیدا کریں۔

کیا کوئی ٹولہ بلوچستان کی گمبھیر صورتحال، ریاستی جبر، تشدد، فوجی آپریشنوں، خاندانی دباو اور خوف سے مسلح جدوجہد سے دستبردار ہوکر اپنے ذاتی زندگی کی حفاظت عیش وعشرت، چین و سکون اور آسودگی کے لیئے بیرون ملک چلا جائے یا پھر دوسرا بلوچستان میں اس کا عملی جدوجہد سے دور تک اس کا واسطہ نہ ہو، وہ بھی بیرون ملک میں کسی کالج اور یونیورسٹی میں پڑھائی کی غرض سے جاکر وہاں انتہائی خوشگورا ماحول میں پڑھائی کے ساتھ چند احتجاجی مظاہروں میں شرکت یا سوشل میڈیا میں سرگرم ہو کر اپنے پیشانی پر سیاسی لیبل لگا کر اور وہ بھی آکر یہی توقع اور خواہش رکھے کہ مسلح جدوجہد یا وہ مسلح جہدکار جو صبح و شام کئی برسوں سے ہر وقت سرد و گرم بھوک اور پیاس، دشمن کی یلغار و آپریشن، محاصروں خطروں اور اپنے دوستوں کی لاشوں کو درد بھری آہوں میں اٹھاتے ہوئے مشکلات اور تکالیف سہتے ہو، پھر بھی اس کے فیصلے کا اختیار میرے ہاتھ میں ہو، لیکن خود مسلح جدوجہد کے ابجد سے واقف نہ ہو، بلوچستان کے موضوعی حالات اور ذمینی حقائق سے مکمل بےخبر اس حد تک کہ بلوچستان کا کونسا علاقہ مشرق و مغرب کہاں پر ہیں؟ وہاں کے لوگ کس مزاج اور طبیعت کے ہیں، علاقے کی صورتحال دیہاتی ہے یا شہری، پہاڑ کیسے ہیں، راستہ کیسے اور کہاں سے ہے؟ وہاں فوجی ضرورت کیا ہیں، سازو سامان، خوراک کی رسد کیسا ہے، پانی کہاں پر ہے؟اور موسم کیسا ہے؟ کتنا راستہ ہے، کہاں سے جانا کہاں سے آنا ہے، دشمن کہاں کہاں پر کس طرح کیسے مورچہ زن ہے اور دشمن کا نقل و حرکت کب کہاں اور کیسا ہے؟

پھر بھی ایسے لوگ اگر آکر مسلح جدوجہد کو صرف کتابوں، لائیبریوں اور گوگل نیٹ میں سرچ کرکے یا ڈکشنریوں میں پڑھ کر مسلح جدوجہد اور مسلح جہدکاروں کے لیئے پالیسی اور حکمت عملی فراہم کریں اور پھر مسلح جدوجہد ایسے لوگوں کے کنٹرول، تابع اور ماتحت ہوکر ان کی پالیسیوں اور فیصلوں کے مطابق چلتا ہو، تو پھر میں گارنٹی کے ساتھ کہتا ہوں ایسے مسلح جدوجہد اور مسلح تنظیم کا مرنے سے پہلے فاتحہ خوانی ہونا چاہیئے۔

اگر زمینی حقائق اور موضوعی حالات سے تھوڑا بھی عدم واقفیت اور لاعلمی ہو، یا مسلح جدوجہد کو صرف کتابوں میں مطالعہ کیا ہو اور عملی اور تجرباتی لحاظ سے کوئی علم اور تجربہ نہ ہو، پھر تو یہ مثال بالکل صحیح نشانے پر ہوگا، کیا کوئی کتابوں میں انٹرنیٹ پر لاکھ دفعہ جہاز کے بارے میں پڑھ لے کہ جہاز کیسے اور کس طرح چلایا جاسکتا ہے پھر کیا وہ کسی تجربہ کار اور عملی طور پر کسی بھی پائلیٹ کو جہاز چلانے کی صحیح گائیڈ کرسکتا ہے یا خود آکر اپنے مطالعے سے استفادہ حاصل کرکے جہاز اڑا سکتا اور چلا سکتا ہے؟

میرے نزدیک اس وقت بلوچ قوم کا زیست اور مرگ کا سوال ہے، سامراج چین اور قبضہ گیر پاکستان کی یلغار دنیا کی تیزی کے ساتھ بدلتی ہوئی صورتحال اور دن بد دن بلوچ قومی تحریک اور بلوچ قوم کے لیئے نت نئے مشکلات، چیلنجزاور خطرات کے اضافے کو مدنظر رکھ کر میرے خیال میں صرف اور صرف بلوچ کے پاس زیادہ سے زیادہ دس سال کا اور وقت باقی بچ چکا ہے، اگر بلوچ جہدکار اور قیادت اپنی روش میں سنجیدگی نہیں لاتے اور موثر لانگ ٹرم پالیسی اور حکمت عملی مرتب نہیں کرسکے تو یہ میرا صرف خدشہ نہیں بلکہ ادراک ہے کہ خدانخواستہ بلوچ قوم اور بلوچ قومی جنگ صفحہ ہستی سے مٹ سکتا ہے۔

اس وقت بلوچ قوم کے ساتھ جو بھی، جیسا بھی، سیاسی اور مسلح قوت دستیاب ہے، وہ مزید مختلف فارن سیل، سیاسی و تربیتی سیل، میڈیا سیل، انسانی حقوق سیل، عوام کی فلاح و بہبود کی سیل اور خواتین سیل، تشکیل دیکر دشمن کی جارحیت اور پالیسیوں کو مدنظر رکھ کر انتہائی تیزی کے ساتھ ہر ایک دن و رات اپنے کام اور ذمہ داریوں پر توجہ دیں اور دلچسپی لیں اور خاص کر جہدکاروں اور بلوچ عوام کی سیاسی و ذہنی تربیت کرنا اپنے تمام ترتوجہ جنگ پر مرکوز کردیں، جب بلوچ سماج اور بلوچ جہدکاروں میں سیاسی و علمی تربیت عروج اور اعلیٰ سطح پر ہوگا اور قومی جنگ شدت کے ساتھ جاری و ساری ہوگا، تو خود بخود مسلح جدوجہد مزید انتشار، انارکی اور دھڑے بندی سے محفوظ ہوگا اور سیاسی شعور اور جنگ کی شدت خود انارکی، دھڑے بندی، تقسیم در تقسیم اور مسلح جدوجہد کو کنٹرول کرکے کسی بھی مخصوص ایجنڈے، پریشر گروپ، یوٹرن والی سوچ کو سیاسی شعور ہی ختم اور مسترد کرسکتا ہے اور سیاسی شعور کے سامنے ایسے عناصر کی حوصلہ افزائی حمایت اور قبولیت بلوچ عوام اور باشعور جہدکاروں میں کبھی نہیں ہوگا، وہ یا تو مکمل مفلوج ہونگے یا پھر جڑ سے ختم ہونگے۔

جب سیاسی شعور نہیں ہوگا، بلوچ قوم میں یا جہدکاروں میں، تو کوئی بھی فریب اور دھوکے میں غیر سیاسی سوچوں اور ذہنوں کو جس طرح بھی چاہیے وہ استعمال کرسکتا ہے اور کررہا ہے، پھر بھیڑبکریوں کی طرح جہدکار کم، ذاتی خاندانی مفادات کی خاطر قربانی کا بکرا زیادہ پیدا ہونگے۔ اس کا واحد حل سیاسی شعور اور سیاسی سوچ ہے۔ اس لیئے تو روزاول سے اس وقت تک سیاسی سوچ اور سیاسی شعور پر قدغن لگایا گیا، تاکہ زیادہ سے زیادہ تابعدار اور وفادار پیدا ہوں، تابعدار اور وفادار ہمیشہ مخصوص مفادات کے لیئے بطور ایندھن استعمال ہوتے ہیں اور استعمال کرنے والوں کو قوم اور تحریک کیلئے کوئی درد سر نہیں۔ یعنی قوم اور تحریک پانچ سال میں ختم ہو یا دس سال میں وہ اپنا سب انتظام پہلے سے کرچکے ہیں۔

جس طرح افغانستان میں سارے کے سارے سیاسی مذہبی اور قبائلی زعماء پہلے سے خلیج اور یورپ میں اپنے اور اپنے بچوں اور خاندان کے لیے خطیر رقم کا سرمایہ لگا کر سب کچھ برابر کرچکے، ان کو افغان قوم اور افغانستان کیلئے کوئی درد سر نہیں، جب افغانستان ہاتھ سے چلا جائے تو وہ فوراً یورپ اور خلیج منتقل ہونگے، تو خدارا تمام جہدکار اب اپنی آنکھوں اور دماغ سے یہ سیاہ قسم کی پٹیاں دور کرکے ان تمام حقیقی پیش بینی اور صورتحال پر ذراغور کرلیں، نہیں تو سوائے پشیمانی کے اور کچھ نہیں ہوگا، اب بھی وقت ہے بلوچ جہدکار اندھی تقلیدکار بننے سے گریز کرکے سوچ سمجھ کر قدم اٹھائیں اور اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرلیں، وقت گذاری سے مکمل گریز کریں، کیونکہ قوم کے زیست اور مرگ کا سوال ہے۔

 دی بلوچستان پوسٹ : اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔