بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان گہرام بلوچ نے پاکستانی فوج پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ 22 مئی کی رات سرمچاروں نے آواران سے مشکے جانے والی پاکستانی فوجی قافلے پر آدھی رات بارہ بجے مشکے کے علاقے بنڈکی کے مقام پر گھات لگا کر حملہ کیا۔ چار گاڑیاں حملے کی شدید زد میں آئیں اور انہیں بری طرح نقصان پہنچا۔ حملے میں چھ سے زائد فوجی اہلکار ہلاک اور دس سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ فورسز پر حملے مقبوضہ بلوچستان کی آزادی تک جاری رہیں گے۔
تازہ ترین
بلوچستان میں جبری گمشدگیوں پر حکومتی بیانات کا تضاد ریاستی کنفیوژن اور آئینی ناکامی...
بی وائی سی کی مرکزی رہنما سمی دین بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں جبری گمشدگی جیسے سنگین انسانی مسئلے پر...
الجزیرہ کی جانب سے بلوچ کارکن کا انٹرویو ہٹانے پر تنازع، انسانی حقوق کے...
بین الاقوامی ڈیجیٹل نیوز پلیٹ فارم AJ+ کو انسانی حقوق کے کارکنوں اور بلوچ سماجی حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کا...
کوئٹہ کے سخت سردی اور بارش کے باوجود وی بی ایم پی کا احتجاجی...
بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز وی بی ایم پی کے زیر اہتمام قائم احتجاجی کیمپ...
حب چوکی ٹریفک حادثہ: روزنامہ انتخاب کے بیروچیف جانبحق
حب میں ٹرک اور دو کاروں کے درمیان تصادم کے نتیجے میں ایک شخص جانبحق جبکہ 4 افراد زخمی ہوگئے۔
رانا ثناء اللہ کا بیان: ریاست جبری گمشدگیوں کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں جائز...
لاہور میں عاصمہ جہانگیر کانفرنس کے دوران وزیراعظم پاکستان کے معاونِ خصوصی برائے سیاسی و عوامی امور اور سابق وزیرِ داخلہ...

















































