ناقابلِ شکست بلوچ مائیں – سمی دین بلوچ
ناقابلِ شکست بلوچ مائیں
تحریر: سمی دین بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
چند دن پہلے جب کراچی پریس کلب کے سامنے میری والدہ کو پولیس نے پکڑ کر گرفتار کرنے کی کوشش کی،...
انقلابی سرمچار اور سامراجی غلامی کے خلاف مزاحمت کا بیانیہ – گلزمین بلوچ
انقلابی سرمچار اور سامراجی غلامی کے خلاف مزاحمت کا بیانیہ
تحریر: گلزمین بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
بلوچ سرمچار محض ایک روایتی فوج کا حصہ نہیں ہیں بلکہ ہم ایک حقیقی انقلابی لشکر...
شہر میں بیٹھا ایک وطن پرست کیا سوچ رہا ہے؟ – وطن زاد
شہر میں بیٹھا ایک وطن پرست کیا سوچ رہا ہے؟
تحریر: وطن زاد
دی بلوچستان پوسٹ
شہر کے شور میں بیٹھا وہ اکیلا شخص کھڑکی سے باہر دیکھتا ہے تو اسے یوں...
میرے پاس خوفزدہ ہونے کے لیے وقت ہی نہ تھا – فرحان بلوچ
میرے پاس خوفزدہ ہونے کے لیے وقت ہی نہ تھا
تحریر: فرحان بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
گوریلا جنگ کوئی انتخاب نہیں، فطرت کا ردِعمل ہے۔ جب ایک نہتی قوم کے سامنے طاقتور...
آصفہی مرگ، جب بارود کے دھوئیں میں پھولوں کی مہک اٹھی – ہارون بلوچ
آصفہی مرگ، جب بارود کے دھوئیں میں پھولوں کی مہک اٹھی
تحریر: ہارون بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
جب بارود، بم، دھماکوں اور مرگ کے اندر سے جنم لینے والے انسان سے پھولوں...
جی ہاں، میں مانتا ہوں آپ نے بلوچستان کو بہت ترقی دی ہے، جس...
جی ہاں، میں مانتا ہوں آپ نے بلوچستان کو بہت ترقی دی ہے، جس کے ہم قابل نہیں ہیں
تحریر: نیاز بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
تنقید برائے تعمیر ہمارا حق ہے۔ اگر...
ڈیرہ جات، کینسر کے ذریعے بلوچ نسل کشی کا المیہ – جعفر قمبرانی
ڈیرہ جات، کینسر کے ذریعے بلوچ نسل کشی کا المیہ
تحریر: جعفر قمبرانی
دی بلوچستان پوسٹ
کوہ سلیمان کے دامن، ڈیرہ جات میں کینسر ایک قدرتی وباء نہیں بلکہ بلوچ قبائلیوں کے...
آجوئیں مرگ ءِ تلب: رات، یاد، درد اور شعور کا سفر – سفر خان...
آجوئیں مرگ ءِ تلب: رات، یاد، درد اور شعور کا سفر
تحریر: سفر خان بلوچ (آسگال)
دی بلوچستان پوسٹ
رات کے دو بج کر پانچ منٹ، وقت کا یہ پہر ہمیشہ سے...
شاہ کرم: شعور کی بغاوت اور وجود کی تخلیق – ساربان بلوچ
شاہ کرم: شعور کی بغاوت اور وجود کی تخلیق
تحریر: ساربان بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
شاہ کرم محض ایک فرد نہیں تھا، وہ ایک مکمل عہد تھا، ایک ایسا عہد جو بلوچستان...
نوشکلی گواڑخ – آجوئی بلوچ
نوشکلی گواڑخ
تحریر: آجوئی بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
پہلی مرتبہ قلم اٹھا کر کسی گواڑخ پر کچھ لکھنے جارہی ہوں، سمجھ نہیں آرہی کہ میں کہاں سے شروع کروں: دو اکتوبر 2002...


























































