ہم آج بھی غفلت میں ہیں؟ – شعبان زہری

111

ہم آج بھی غفلت میں ہیں؟

تحریر: شعبان زہری

دی بلوچستان پوسٹ

گذشتہ دو دہائیوں سے بلوچستان کی آزادی کی مسلح جنگ میں شہری کاروائیاں مختلف اوقات میں کبھی تیز تو کبھی سَرد رہے ہیں، ایک ادنیٰ سے جہدکار کی حیثیت سے میں سمجھتا ہوں جنگ تیز ہونے کی وجہ بھی یہی رہی ہے کہ عام بلوچ کسی بلوچ جہدکار کے سامنے رکاوٹیں پیدا کرنے کے بجائے ہمدردی کے بنا پر اخلاقی سپورٹ کرتے رہے ہیں، اور انہی اوقات میں ایک مسلح بلوچ جہدکار صرف ریاستی دشمن کو شکست دینے اور اپنا مکمل توجہ پاکستانی فوج کو نشانہ بنانے پر دیتی رہی ہے-

لیکن یہ مسلح جنگ شہر میں سرد پڑنے کی وجہ سے ہمیشہ ریاست کی تشکیل کردہ ڈیتھ اسکواڈ یا سرداروں و نوابوں کے پیرول پر کام کرنے والوں کی رکاوٹیں رہی ہیں- ہمارے اپنے آستین کے سانپ اِن رکاوٹوں کو تقویت دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے، بلکہ ریاست یا نواب کے کہنے پر ہر اُس حد کو پار کرتے ہیں جس کی سزا کے لیے نہ ان کا خاندان نہ وہ خود تیار ہیں، دوسری طرف یہی افراد ریاستی دشمنوں سے توجہ ہٹانے کی ناکام کوشش میں بلوچ سرمچاروں کی بندوق کا رُخ اپنی طرف متوجہ کروانے سے مکمل لاعلم رہتے ہیں، اور ان کی یہی غفلت ایک دن بھیانک انجام ثابت ہوکر ہمیشہ کے لیے معاشرے میں ذلت و رسوائی کا سبب بنتی ہے –

میں ایک دفعہ پھر زہری واقعے کا یاد دلاکر کچھ لکھنا ضروری سمجھتا ہوں کہ میرا معاشرہ اور اس میں پلنے والے وہ ذمہ دار شخصیات اور والدین آج بھی غفلت میں ہیں، اور لاپرواہی برت رہے ہیں جو ایک بہت بڑے طوفان آنے کی نوید ہے- ریاض رئیس عین اسی جگہ پر بلوچ سرمچار کا نشانہ بنتا ہے جہاں سے ایک سال پہلے ایک بلوچ فرزند کو بے دردی سے گھسیٹ کر دشمن فوج کے حوالے کرکے واہ واہ اور پیسوں کے ساتھ داد وصول کر رہا تھا، وہ یہ شاید بھول گیا تھا کہ اس نے آخری بلوچ فرزند کو دشمن کے حوالے نہیں کیا تھا، بلکہ سستی شہرت کے حصول اور غرور کے نشے میں رہ کر ایک آگ کو گلے لگایا ہے جس کے شعلے کافی گرم اور تکلیف دہ ہیں، جو وہ کبھی برداشت نہیں کر سکے گا-

ایک جہد کار جب یہ راستہ اختیار کرتا ہے تو اس بات سے بخوبی واقف ہوتا ہے کہ یہ جنگ ہے، اس میں تکلیف، دکھ اور بہت سے مصائب میری راہ میں آئیں گے، لیکن ان کا استقبال خوشی خوشی کرنے کا ہُنر بھی سیکھ چُکا ہوتا ہے، آج اگر کوئی بلوچ فرزند دشمن کی گولی کا نشانہ بنتا ہے یا کسی ریاستی دلال کی دلالی کا شکار ہوتا ہے، تو اُس جہدکار یا تنظیم کے لیے یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، کیوںکہ جب اس فرزند نے اِس پُر کَٹھن راستے کا انتخاب کیا تھا تو وہ یہ جانتا تھا کہ میری جیت میری موت (شہادت ) میں پِنہاں ہے- اب اگر کوئی ریاستی دلال کسی بلوچ فرزند کو نقصان پہنچا کر خوش ہوتا ہے کہ مجھے شہرت و نام مل گیا، تو پھر خود اس دن کے لیے بھی مکمل تیار رہے، جب گولیوں کی گرج سے بھاگ کر گَلا خشک ہوجاتا ہے، اور بے ہوشی کی عالم میں پڑے رہ کر موت کا انتظار کرنا پڑتا ہے، وہ لمحہ سہنا بڑا مشکل ہوتا ہے –

اسی (زہری) ڈغار سے پیدا ہونے والا ایک سردار کا غیرت مند فرزند شہید امتیاز عرف دلوش پہاڑوں کے سینوں کو چیرتے ہوئے بولان میں وہ کردار ادا کرتا ہے جو ہمیشہ تاریخ میں اُسے زندہ رکھتا ہے، اور اسی زمین پر دلجان و بارگ جان اپنے حلق میں گولی پیوست کرکے دشمن کو شکست دیتے ہیں، تو کیا یہ زمین دلجان و بارگ سے دَغا کر سکتا ہے؟ بالکل نہیں – بلکہ دلجان و بارگ کے مشن کو پایہ تکمیلِ تک پہنچانے میں یہ زمین غیرت مند فرزند پیدا کر سکتا ہے، کیونکہ دلجان و بارگ جان ایک فکر لے کر اس ڈغار پر اترے تھے، ان کی روح سے یہ زمین کبھی نا انصافی نہیں کر سکتی- دلجان و بارگ جان اس ڈغار پر پکنک منانے نہیں بلکہ دشمن کے لیے اپنے جیسے پیدا کرنے آئے تھے، دلجان و بارگ جان کی شہادت پر تمہارے نواب و ریاست خوش ہوگئے کہ بس اب اس جنگ کو ہم نے اس ڈغار سے ختم کردیا- وہ تو دشمن ہیں وہ اس بہکاوے میں آبھی سکتے ہیں، لیکن آپ (دلال) یہ کیسے سوچ سکتے ہیں، کہ دلجان و بارگ کا کاروان رک گیا- اور اب تُم ہر اس بد فعلی اور بدکرداری کا مظاہرہ کروگے جسے روکنے کے لیئے کوئی نہیں آئے گا؟ یہ تمہاری، ریاست اور نوابوں کی بھول تھی، دلجان و بارگ جان نے جو بیج بوئے تھے، وہ فصل کبھی ان کی روح سے نا انصافی نہیں کریگی، کیوںکہ اس فصل کو اُنہوں نے اپنے حلق کے خون سے سیراب کیا تھا، نہ کہ کھارے پانی سے-

ریاض رئیس کے وہ کُمک کار و مددگار جو براہ راست ریاستی اداروں کے اشاروں، اور نوابوں کے بہکاوے میں ناچ رہے ہیں، وہ اب ہوش کے ناخن لیں، تاکہ کسی عزت دار والدین کو آنے والے دنوں میں چہرہ چھپا کر معاشرے میں زندگی گذارنا نہ پڑے، لیکن والدین آج بھی غفلت میں ہیں، ہم اُس کنویں کا منہ اس وقت تک بند نہیں کرتے جب تک اس میں گر کر کوئی بچہ مر نہ جائے، جب کوئی اس کنویں میں گر کر مر جاتا ہے تب ہم کنویں کا منہ بند کردیتے ہیں کہ کوئی دوسرا بچہ اس میں گر کر جان کی بازی نہ ہار جائے- لیکن جو پہلے والا مَرا ہے اس کے نقصان کا کیا؟

اگر آج بھی وہ افراد جو اپنوں کے اُن حرکات و گہناؤنے اعمال سے ناواقف ہیں (جو بلوچ سرمچاروں کی توجہ دشمن سے ہَٹاکر اُن کی دشمنی میں اتر آتے ہیں) ان کا انجام بھی شاید بہت بھیانک ہو سکتا ہے، لیکن اس دن ناقابلِ برداشت بھی ہوسکتا ہے –

وہ نوجوان جو مختلف حربے استعمال کرکے بلوچ فرزندوں کی تعاقب میں دشمن کو معلومات فراہم کرتے ہیں، یہ نہ بھولیں کہ کوئی نہیں دیکھ رہا یا کوئی نہیں سمجھتا، بلکہ سب کچھ دکھائی دے رہا ہے اور سب کچھ سُن بھی رہے ہیں- زہری واقعے سے پہلے یا بعد میں وہ نوجوان جو اب بھی نوابوں کے کہنے پر بلوچ جہد میں رکاوٹ پیدا کررہے ہیں وہ کسی غلطی کا مرتکب ہوکر معافی مانگنے سے شاید بالکل نہ بخشا جائے- ہم آج بھی جانتے ہیں کہ کون کون راستے میں رکاوٹ بن کر بندوق کا رخ اپنی طرف کروا رہا ہے، ریاض رئیس کے اَنڈر کام کرنے والے سیف اللہ عُرف سیفُو جو قلات کے ڈیتھ اسکواڈ کو زہری میں پناہ دیکر راستے سے ہٹنے کی بجائے بلوچ فرزندوں کو نقصان پہنچانے کی ناکام کوشش کر رہا ہے، ریاض رئیس کے بعد اس کے اس گھناؤنے مشن کو تقویت دینے کی ناکام کوشش میں ملوث (ارشاد عُرف اِشُو، سراج لوٹانی عُرف کِلر، آصف سموانی، عادل رئیس، عرفان رئیس، ہارون لوٹانی، محمد جان عُرف مُنا شیخ اور جیمل رئیس QRF Levies) ہیں- نوجوانوں کو منشیات فراہم کرنا، نوجوانوں کو بلیک میل کرکے اپنے گروہ میں شمولیت کروانے جیسے گھناؤنے اعمال میں ریاض رئیس کے ساتھ برابر کے شریک ہیں-

شاید آنے والے وقت میں ریاست و نوابوں کے یہ چیلے کسی غیرت مند فرزند کی گولی کا نشانہ بن کر سلمان زہری و جلیل زہری کی طرح گمنام ہو جائیں –

یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اس علاقے (زہری) میں 1 لاکھ سے زائد آبادی کے ہوتے ہوئے کبھی کوئی بلوچ فرزند ناحق کسی کی راہ کی رکاوٹ نہیں بَنی ہے، کیوںکہ وہ پڑھے لکھے اور با شعور طبقے سے تعلق رکھتے ہیں، اُن کی کتاب اُن کی بندوق کی راہنمائی کرتا ہے، اُن کی بندوق کی نالی سے نکلنے والی ہر گولی کو پتہ ہے وہ کہاں جا رہا ہے- ہمیشہ اس معاشرے کو ایک مہذب معاشرہ بنانے میں بلوچ غیرت مند ورناؤں نے کوئی کسر نہیں چھوڑا ہے، پھر کیوں اُن کے راہ کا کانٹا بننے کی کوشش کر رہے ہو؟ وہ اپنا کام کر رہے ہیں، پھر ان کو کرنے دو-

غلامی کی زندگی اور باہر سے آئے ہوئے درندوں کی حکومت جو قدم قدم پر بلوچوں کیلئے عذاب سے کم نہیں، بلوچ نوجوانوں کو گھسیٹ گھسیٹ کر اذیت خانوں میں لے جانا جن کی واپسی کی کوئی امید نہ ہو، یہ تمام عناصر ایک حساس بلوچ نوجوان کو شعور دینے کیلئے کافی ہے –

بلوچ فرزندوں نے اپنا لہو بہا کر اس زمین کو ہمارے لیے پاک کرنے کی انتھک محنت کی ہے، پنجابی ریاست کی ظلم و جبر کے سیاہ طویل راتوں کی تاریخ کے پَنے اَن گنت معلوم و نامعلوم وحشت ناک مظالم کی کہانیوں سے لکھی ہوئی ہے، جہاں نوجوانوں کے لہو کی چھینٹیں کبھی ریاستی عقوبت خانوں کی تاریک کوٹھڑیوں کی بے رحم دیواروں پر تو کبھی خاک پر نقش بن جاتی ہیں، کیا کبھی ان بے گواہ ورناؤں کے وارث اور اُن بلوچ شہیدوں کے پیروکار اس بات کی اجازت دینگے کہ کوئی ہمارے معاشرے یا شہیدوں کے ارمانوں کو روند کر آسانی سے چلا جائے – ہرگز نہیں


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔