تربت میں ڈنک واقعے کیخلاف عوام کا احتجاج

118

تربت احتجاجی مظاہرے میں سینکڑوں کی تعداد میں لوگوں نے شدید گرمی کے باوجود شرکت کی۔

بلوچستان کے شہر تربت میں عوام کی جانب سے ڈنک واقعے کیخلاف بڑی تعداد میں احتجاج کیا گیا۔ 47 ڈگری کی گرمی میں بھی سینکڑوں کی تعداد میں خواتین، مرد اور بچوں واقعے میں زخمی برمش کو انصاف دلانے کیلئے سڑکوں پر نکل آئیں۔

تربت شہر کے وسط میں واقع شہید فدا چوک پر مظاہرین نے دھرنا دیا، مختلف سیاسی اور سماجی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے افراد سمیت ڈنک واقعے میں متاثرہ خاندان کے افراد نے مظاہرین سے خطاب کیا۔

گذشتہ ہفتے تربت کے تحصیل ڈنک میں رات کو مسلح افراد نے ایک گھر میں گھس کر ڈکیتی کی کوشش کی۔ اس دوران مزاحمت پر مسلح افراد نے فائر کھول دیا جس کے نتیجے میں ایک خاتون موقع پر جانبحق جبکہ اس کی چار سالہ بیٹی برمش زخمی ہوگئی۔

علاقہ مکینوں نے مسلح افراد کو گرفتار کرکے انتظامیہ کے حوالے کردیا جبکہ فائرنگ سے زخمی برمش تاحال کراچی میں زیر علاج ہے۔

ڈنک واقعہ پر سخت ردعمل دیکھنے میں آیا۔ جہاں سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر واقعے کیخلاف غم و غصے کا اظہار کیا گیا وہی سیاسی و سماجی جماعتوں کی جانب سے حکومت کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

تربت مظاہرین کا کہنا تھا کہ یہ عوامی سیلاب مجرموں اور ان کی حمایت کرنے والوں کیخلاف نفرت کا اظہار ہے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ تربت شہر اور گرد و نواح میں چوری اور ڈکیتی کا سلسلہ کئی عرصے سے جاری ہے جن میں لوگوں کو مالی نقصانات سمیت جانی نقصانات اٹھانے پڑرہے ہیں لیکن متعلقہ حکومتی اداروں کی جانب سے پیش رفت دیکھنے میں نہیں آسکی ہے۔

مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ ڈنک واقعہ میں ملوث اصل کرداروں کو گرفتار کرکے قانون کو کٹہرے میں لایا جائے۔ مکران بھر میں جتنے بھی سادہ لباس غیر سرکاری مسلح افراد ہے جن میں سے کچھ اہم شخصیات کے سیکورٹی پر معمور ہیں انہیں غیر مسلح کیا جائے۔

مظاہرے میں جانبحق خاتون ملک ناز کی بہن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج ہمارے گھر پر حملہ ہوا ہے تو کل کسی اور کے گھر پر ہوگا لہٰذا واقعے میں ملوث اصل مجرمان کو کٹہرے میں لاکر انصاف کے تقاضے پورے کیئے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ انصاف نہ ملنے تک ہم اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔

خیال رہے ڈنک واقعے کے بعد تربت سمیت بلوچستان میں حکومتی اداروں کو ڈیتھ اسکواڈوں کے سربراہی کا الزامات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ ماضی میں بھی پاکستانی فوج اور خفیہ اداروں پر اس نوعیت کے الزامات لگائے جاچکے ہیں۔

نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اور بلوچستان کے سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے اس حوالے سے کہا کہ ڈنک واقعہ ہمارے نزدیک ایک قومی سانحہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ ریاست کے اندر ریاست بنانے اور پرائیویٹ لشکر چلانے کی کسی کو اجازت نہیں ہونی چاہیئے، سیاہ شیشوں والی گاڑیاں کلاشنکوف لیئے اور جھنڈا سامنے رکھ کر عین سڑک کے درمیان کھڑے ہوکر روڑ بلاک کرتے رہتے ہیں، آخر یہ کیسے طاقتور لوگ ہیں کہ جنہوں نے پرائیوٹ لشکر بنا رکھے ہیں، مسلح ہوکر آزادانہ نقل و حرکت کرتے رہتے ہیں اور جب جی چاہے کسی بھی شریف آدمی کے گھر میں گھس کر اسے بے عزت کردیتے ہیں۔

بلوچستان نیشنل پارٹی کے بیان میں کہا گیا کہ جب سے حکومت بزور بندوق وجود میں آئی ہے مسلح جھتوں نے کیچ سمیت پورے بلوچستان کو یرغمال بنا کر اغواء برائے تاوان، سیاسی کارکنوں کو لاپتہ کرنا، بلوچ ماوں اور بچیوں کی بے حرمتی کرکے ان کو شہید کرنا، بھرے بازار میں چوری ڈکیتی رہزنی اور لوٹ مار شروع کر رکھی ہے۔

علاوہ ازیں سوشل میڈیا پر برمش بلوچ کو انصاف فراہم کرنے کے حق میں کمپئین بھی کی جارہی ہے۔ بلوچستان کے دیگر علاقوں میں بھی واقعے کیخلاف مظاہروں کا اعلان کیا جاچکا ہے۔