گلی محلوں میں ازخود عدالتیں لگانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی – ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی

68

ہزارہ ٹاؤن میں تین نوجوانوں پر بہیمانہ تشدد پر گہرے دکھ اورافسوس کا اظہار، تشدد کے نتیجے میں ایک نوجوان کی ہلاکت اور دو کی شدید زخمی ہونے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں ۔ ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی

ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی نے کوئٹہ میں ہونے والے ہزارہ ٹاؤن واقعے کو انتہائی سفاکانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ واقعہ کے ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لاکر قرار واقعی سزا دی جائے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ شہر کے گلی محلوں میں لوگوں کو ازخود عدالتیں لگا کر جنگل کا قانون نافذ کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ ہزارہ ٹاؤن کے واقعہ کو بنیاد بنا کر بعض عناصر قومی اور مذہبی منافرت پھیلانے کی مذموم کوشش کر رہے ہیں جو کسی صورت اس شہر اور صوبے کے مفاد میں نہیں۔

مزید کہا گیا ہے کہ عوام اور ذمہ دار سیاسی و مذہبی جماعتیں شہر کے وسیع تر مفادات کی خاطر شرانگیزی اور اشتعال انگیزی پھیلانے والوں کا راستہ روکنے کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ امن، محبت اور بھائی چارہ ہمارا شعار ہے۔ شہر اور یہاں کے عوام کی بقاء رواداری، برادری اور باہمی احترام کے پرچار میں ہے۔ شر پسند کسی بھی قوم و مسلک سے ہو معاشرے کیلئے ناقابلِ برداشت ہونا چاہیے۔

کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر نفرت اور اشتعال آمیزی پر مشتمل پوسٹ کرنے والے تمام غیر ذمہ دار عناصر کیخلاف فی الفور کاروائی عمل میں لائی جائے۔