کوئٹہ پریس کلب کے سامنے لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے احتجاج جاری

64

دنیا میں انسانی حقوق کی پامالیاں عروج پر ہیں، یہ پامالیاں غیر انسانی کاموں کی تکمیل کے لیے ہورہے ہیں کیونکہ انسانیت کی بقا کے کاموں میں انسانی حقوق کی پامالیاں نہیں ہوتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے رہنما ماما قدیر بلوچ نے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے احتجاجی کیمپ میں خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کیا۔

وی بی ایم پی کے احتجاج کو 3963 دن مکمل ہوگئے۔ نیشنل پارٹی کے سینئر رہنما عبدالغفار قمبرانی سمیت دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے کیمپ کا دورہ کیا۔

وی بی ایم پی کے ماما قدیر بلوچ کا مزید کہنا تھا کہ انسانی حقوق کی عالمی اداروں نے بڑے دعوے کیئے ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ، اقوام متحدہ کے کمیشن برائے انسانی حقوق سمیت دنیا کے مختلف تنظیموں کو سب کچھ معلوم ہے لیکن پھر بھی وہ عمل نہیں کرتے اور مزید پاکستانی ریاست کی مدد کررہے ہیں تاکہ وہ مزید انسانی حقوق کی پامالیاں کرتا رہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا سے ملنے والی امداد کو بلوچوں کے حقوق سلب کرنے کیلئے استعمال کررہا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ دنیا میں مظلوم انسانوں نے ظالموں کے خلاف ہمیشہ پہلے خود آواز اٹھاکر جانیں قربان کی ہے تب جاکر اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی ادارے حرکت میں آئی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ انسانی حقوق اقوام متحدہ کی ستونوں میں سے ایک ہے۔ پاکستان نے بلوچستان پر قبضہ کرنے کے بعد بنیادی انسانی حقوق چھین لیے لیکن پھر بھی مذکورہ اداروں کی جانب سے پاکستان کی طرفداری کی جاتی ہے۔