کوئٹہ میں عید کے روز بلوچ لاپتہ افراد کیلئے احتجاج

148

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے مسئلے کو دو دہائی مکمل ہورہے ہیں۔ نواب اکبر خان بگٹی کے شہادت کے بعد جبری گمشدگیوں کے تسلسل میں تیزی دیکھنے میں آئی اور بعدازاں لاپتہ افراد کے مسخ شدہ لاشوں کے ملنے کا سلسلہ بھی شروع ہوا۔

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز ایک دہائی کے زائد عرصے سے جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاج کررہی ہے۔ تنظیم کی جانب سے کوئٹہ اور کراچی پریس کلبوں کے سامنے تسلسل کیساتھ احتجاج جاری ہے جبکہ کوئٹہ تا کراچی اور اسلام آباد تک تنظیم لانگ مارچ کرچکی ہے۔

دارالحکومت کوئٹہ میں آج عید الفطر کے دن بھی وی بی ایم پی نے پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ اسی کے ساتھ لاپتہ افراد کیلئے احتجاج کو 3968 دن مکمل ہوگئے۔

احتجاجی مظاہرے میں بلوچستان کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے لاپتہ افراد کے لواحقین نے شرکت کی۔ مظاہرے کی قیادت وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ کررہے تھے جبکہ ہیومن رائٹس کونسل آف بلوچستان کے بی بی گل بلوچ اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے شمائلہ اسماعیل اور دیگر افراد نے شرکت کی۔

وائس فار بلوچ بلوچ مسنگ پرسنز کے رہنما ماما قدیر بلوچ کا کہنا تھا کہ ہر سال کی طرح اس سال بھی لاپتہ افراد کے لواحقین اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے احتجاج کررہے ہیں کیونکہ پیاروں کی جدائی میں کوئی بھی شخص عید کی خوشیاں نہیں منا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس عید کے موقع پر لاپتہ افراد کے رہائی کی بجائے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ہزاروں لاپتہ افراد کے حوالے کوئی خاص پیش رفت دیکھنے میں نہیں ہے۔ عالمی ادارے اس حوالے سے وقت فوقتاً بات کرتے رہے ہیں لیکن انہیں عملی طور پر لاپتہ افراد کے حوالے سے اقدامات اٹھانا چاہیئے۔

ماما قدیر نے کہا کہ عالمی اداروں کو پاکستان کو مالی معاونت کی بجائے اس پر انسانی حقوق کے پامالیوں کے مرتکب ہونے پر پابندیاں عائد کرنی چاہیے۔

کوئٹہ پریس کلب کے سامنے لواحقین نے ہاتھوں میں اپنے لاپتہ پیاروں کے تصاویر اٹھا رکھے تھیں اور لاپتہ افراد کے رہائی کیلئے نعرے لگاتے رہیں۔

بی این پی کے شمائلہ اسماعیل نے اس موقع پر کہا کہ ہمیں بتایا جائے کہ ان افراد کا کیا قصور تھا کہ وہ لاپتہ کردیئے گئے ہیں اور ان افراد کو عدالتوں میں کیوں پیش نہیں کیا جارہا ہے۔

شمائلہ اسماعیل کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنے پیاروں کے قبروں کی معلومات نہیں ہے لیکن ہم اس احتجاجی کیمپ کا پتہ جانتے ہیں اسی وجہ ہم خواتین یہاں آکر اپنا دکھ بیان کرتے ہیں تاکہ ہم اپنی آواز عالمی اداروں تک پہنچا سکیں۔

بعدازاں ماما قدیر کی قیادت میں نیوکاہان میں شہدائے بلوچستان کے قبرستان پر حاضری دی گئی۔

اس موقع پر ماما قدیر بلوچ کا کہنا تھا کہ یہ وہی شہدا ہے جن کو خفیہ ادارے کے لوگ لے گئے اور ان کی مسخ شدہ لاشیں پھینکی گئی اور کچھ ایسے بھی شہدا کی قبریں یہاں موجود ہیں جن کی مسخ شدہ لاشیں پھینکی گئی اور ان کی شناخت نہیں ہوسکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم انسانی حقوق کے اداروں کی توجہ اس جانب بھی کرانے چاہتے ہیں کہ بلوچ شہدا کے قبروں کے کتبے بھی ریاستی اداروں کی جانب سے گرائے گئے ہیں۔ یہاں قبروں کی بے حرمتی بھی کی جاتی ہے۔