کوئٹہ: لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے احتجاج کو 3975 دن مکمل

52

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے احتجاج کو 3975 دن مکمل ہوگئے۔ پشتون تحفظ موؤمنٹ کے مرکزی کمیٹی کے رکن آغا زبیر، ضلعی کوارڈینیٹر نور باچا، اجمل خان، محممود خان اور شیر خان سمیت دیگر افراد نے کیمپ کا دورہ کرکے لاپتہ افراد کے لواحقین سے اظہار یکجہتی کی۔

احتجاج میں لاپتہ حسان قمبرانی، حزب اللہ قمبرانی، جہانزیب قمبرانی سمیت دیگر لاپتہ افراد کے لواحقین شرکت کرکے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔

وی بی ایم پی کے رہنماء ماما قدیر بلوچ نے وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی خفیہ ادارے تسلسل کے ساتھ بلوچ، پشتون، سندھیوں کو لاپتہ کرکے بہیمانہ اور غیر انسانی تشدد کا نشانہ بناکر انہیں قتل کرکے ان کی لاشیں خوف و ہراس پھیلانے کیلئے پھینک رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بلوچ، سندھی اور پشتون عرصہ دراز سے ریاست اور اس کے کسی بھی ادارے سے رحم اور انسان کی کوئی امید نہیں رکھتے ہیں لیکن بطور انسان یہ اقوام عالمی اداروں بشمول اقوام متحدہ، ایمنسٹی انٹرنیشل سے امید رکھتے ہیں کہ وہ بلوچستان، سندھ اور خیبر پختونخوا میں جاری نسل کشی اور انسانی حقوق کے سنگین پامالیوں کا نوٹس لیکر مداخلت کریں۔

ماما قدیر نے کہا کہ پاکستان کو عالمی امن سے کوئی سروکار نہیں بلکہ اس کے معیشت کا پیہہ چلتا ہی دہشت گردی سے ہے لہٰذا پاکستان سے یہ امید کہ وہ اس خطے میں امن قائم کرے گا لاحاصل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے یہ دہشت گردانہ عزائم اب عالمی امن کے لیے انتہائی خطرناک ہوچکے ہیں۔ بلوچستان، سندھ اور خیبرپختوانخوا میں جاری جبر، استبدادیت ریاست کے انہی دہشت اور جنگ پسندانہ عزائم اب عالمی امن کے لیے انتہائی خطرے کا باعث ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اقوام عالم کا فرض ہے کہ وہ پاکستان کے ان دہشتگردانہ کاروائیوں کے سامنے بند باندھ لیں وگرنہ آنے والے دنوں میں صرف مذکورہ علاقوں میں مزید قتل و غارت دیکھنے میں آئے گی۔

ماما قدیر نے کہا کہ پاکستان کی تشدد کا یہ سلسلہ یہاں سے امڈ کر عالمی امن ے لیے بھی انتہائی نقصان کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتا ہے۔