کوئٹہ: اسکول استاد بھائی سمیت فورسز کے ہاتھوں لاپتہ

221

جمعہ کی آدھی رات کو پاکستان فورسز نے بلوچستان  کے دارالحکومت کوئٹہ میں نیو کاہان کے علاقے میں چھاپہ مار کر گھروں کی تلاشی اور دو بھائیوں کو حراست میں لیکر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔

علاقہ مکینوں کے مطابق پاکستانی فورسز اور سادہ کپڑوں ملبوس اہلکاروں نے اپنی گاڑیاں مقامی لوگوں کے گھروں سے دور کھڑی کرکے گذشتہ رات ایک بجے کے قریب پیدل اس علاقے میں گھس کر کئی گھروں پر چھاپے مارے۔

اطلاعات کے مطابق فورسز نے آدھی رات کی چھاپے کے دوران اسکول کے ایک استاد شیر دل مری اور اس کے بھائی نادر خان مری بلوچ کو حراست میں لیکر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی فورسز نے دونوں بھائیوں کو موقع پر ہی تشدد کا نشانہ بنایا، آنکھوں پر پٹی باندھ کر زبردستی رات گئے انہیں اپنے ہمراہ لے گئے جس کے بعد ان کے حوالے سے کسی قسم کی معلومات نہیں مل سکی ہے۔

شیر دل مری ان اساتذہ میں سے ایک ہے جنہوں نے نیو کاہان کوئٹہ میں بلوچ بچوں کو رضاکارانہ طور پر تعلیم دی۔

ان کے لواحقین نے انسانی حقوق کی تنظیموں سے درخواست کی ہے کہ وہ بلوچستان میں ریاستی فورسز کی جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور جبری گمشدگیوں کو روکنے کے لئے مداخلت کریں۔

خیال رہے کہ اسی اسکول کے ایک اور استاد عبد الرحمٰن ولد حاجی بلوچ خان مری کو 2011 میں پاکستانی فورسز نے حراست میں لیکر لاپتہ کردیا تھا جن کے حوالے سے تاحال کسی قسم کی معلومات نہیں مل سکی ہے۔

لواحقین کے مطابق عبد الرحمٰن کوئٹہ کرانی روڈ پر بس میں گھر جارہے تھے کہ ظفر آباد ایف سی چوکی پر فورسز اور خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے بس کو روکنے کا اشارہ کیا۔

لواحقین کے مطابق اہلکاروں نے بس میں سوار تمام مسافروں کو اپنے شناختی کارڈ حوالے کرنے کو کہا۔ عبدالرحمٰن کی شناختی کارڈ چیک کرنے کے بعد انہوں نے اسے گرفتار کرلیا۔ اس کے آنکھوں پر پٹی باندھ دی گئی اور مارپیٹ کرتے ہوئے تمام مسافروں کے سامنے خفیہ اداروں کی گاڑی تک گھسیٹا گیا اور اسے اپنے ہمراہ لے گئے۔

عبدالرحمٰن کے جبری گمشدگی کو نو سال گزر چکے ہیں لیکن ان کے لواحقین کو تاحال اس حوالے سے کسی قسم کی معلومات نہیں مل سکی ہے۔

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کیخلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کی جانب سے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی بھوک ہڑتالی کیمپ جاری ہے جس کو گذشتہ روز 3957 دن مکمل ہوگئے۔

اسی طرح سماجی رابطوں کی ویب سائیٹ پر بلوچ طالب علموں اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے کمپئین چلائی جارہی ہے۔

لاپتہ طالب علم فیروز بلوچ کے جبری گمشدگی کو ایک سال مکمل ہونیوالے ہے جس پر ان کے لواحقین اور طالب علموں کی جانب سے آج سوشل میڈیا پر #SaveFerozBaloch کے ہیش ٹیگ کیساتھ کمپئین چلائی جارہی ہے۔

فیروز بلوچ کو اکتیس مئی 2019 کو ان کے کزن جمیل بلوچ کے ساتھ قلات کے مقام پر ماورائے عدالت گرفتار کیا گیا۔ دونوں نوجوان بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی (بی ایس اے سی) کے رہنما ہے۔ جمیل بلوچ کچھ عرصے بعد بازیاب ہوگئے جبکہ فیروز بلوچ تاحال لاپتہ ہے۔

بی ایس اے سی کی اس حوالے سے ایک بیان کے مطابق بی ایس اے سی طالب علموں کی منظم طلبہ آرگنائزیشن ہے جو بلوچستان سمیت پورے پاکستان بھر میں اپنی علمی سرگرمیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ تنظیم کا مقصد طالب علموں کے اندر علمی و فکری صلاحیتوں کو اجاگر کرنا ہے تاکہ ایک پرسکون معاشرہ قائم ہوسکے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ تنظیم کے مرکزی رہنماؤں کی گرفتاری کی وجہ سے ہم ایک غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے اور طلباء ایک بے وجہ خوف کا شکار ہوچکے ہیں۔