زامران – فتح بلوچ

361

زامران

تحریر: فتح بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

زامران بند کے دامن میں ابلتے ہوئے چشموں، بہتے ندیوں اور زامر کے درختوں، پرکشش قدرتی مناظر سے بھر پور پہاڑی علاقہ جسے زامران کہتے ہیں۔

آج ہم زامران کی داستان ایک مختصر مضمون میں سمیٹ کر آپکے سامنے رکھنے کی کوشش کرینگے۔ جہان بچپن کی یادیں بسے ہیں۔

زامران مغربی بلوچستان کی سرحدی شہر سراوان کی تحصیل بمپشت کے جنوب اور جنوب مشرق میں واقع ہے۔ مند، تمپ اور بلیدہ کے شمال اور ضلع پنجگور کا علاقہ پروم کی مغربی جانب کے پہاڑی سلسلے کو زامران (بند) کہا جاتاہے۔ اپنے بزرگوں سے سنا ہے کہ اس پہاڑی سلسلے میں زامر کے درخت بکثرت پائے جاتے ہیں اس لئے اس علاقے کو زامران کہا جاتا ہے۔

بلند و بالا پہاڑوں، خوبصورت وادیوں، چشموں اور سنگلاح چٹانوں کی سرزمین ہے، جو موسم بہار میں قابل دید مناظر پیش کرتا ہے۔ زامران ميں کھجور سیب کے علاوہ انار، انگور، خالق، امرود، آم، مالٹا، پہاڑی انجیر قدرتی طور پر پائی جاتی ہے۔ فروٹ کے علاوہ گندم، چاول بھی کاشت کی جاتی ہے اور اس کے علاوہ گلہ بانی بھی یہاں کا اہم پیشہ ہوا کرتا تھا۔

زامران کا سماجی ڈھانچہ مکران کے دوسرے علاقوں سے نسبتاً قبائلی ہے۔ زامران بلوچستان میں کئی حوالوں سے ایک نام اور مقام رکھتا ہے، یہاں کے لوگ بہادر اور مہمان نواز ہیں اور اپنے باہوٹ کے لیے جان تک دیتے تھے، البتہ آج اور کل کے زامران میں بہت سا فرق نمایاں ہے۔

قحط سالی کی وجہ سے زامران کے اکثر علاقوں سے لوگ نقل مکانی کرکے بلیدہ یا تربت میں آباد ہوچکے ہیں، زامران کے لوگوں کی معاشی دارومدار خلیج کے علاوہ پیٹرول، ڈیزل کے کاروبار سے ہے۔

بلیدہ زامران کے قبائلی جنگ اور قیمتی جانوں کی نقصان سے زامران اپنے کئی اہم شخصیات سے محروم ہوا ہے۔ زامران ماضی اور حال میں دو مختلف تصویریں پیش کرتا ہے۔ کل کے زامران میں امن و سکون تھا کیونکہ وہاں باہر سے آئے ہوئے قبضہ گیروں کا بیسرا نہیں تھا۔ کل کے زامران میں وہاں کے باسی آزادی سے اپنا نقل و حرکت کرتے تھے۔ دن بھر پہاڑوں میں شکار یا بہتے ندیوں سے مچھلی پکڑنے کے بعد رات کو سکون سے گھر لوٹ کر اپنے بچوں کا بھوک مٹاتے اور اپنے مہمان کی بہترین مہمان نوازی کرتے
(زامران کے باسی ہر روز اجنبی مہمانوں کے لیئے کھانے اور روٹیاں تیار کرکے رکھتے ہیں)
کیونکہ وہ کسی مہمان کی آمد کے منتظر ہوتے ہیں۔ مہمان کی آمد پر تمام علاقے (میتگ) والے اسکی وش آتکی کو آتے جاتے ہیں۔ مہمان کسی کا بھی ہو وہ سب کا ہوتا تھا۔ مہمان امیر ہو یا غریب، یکساں خدمت کی جاتی تھی۔ آج کے زامران میں زندگی جینے میں خوف اور سکون باہر سے آنے والے قبضہ گیروں نے چھین لیا ہے۔

اب مہمان تو کجا ایک دوسرے علاقے میں جانے کے لیے اجنبی پوچھتے ہیں کون ہو؟ کہاں جارہے ہو؟
اب زامران کے بلند بالا پہاڑوں پر ہمارے شکاریوں کا نہیں ان اجنبیوں کا بیسرا ہے
ان کی تیز آنکھیں ہمارے گھروں پر نظر رکھے ہوئے ہیں کہ کون آتا جاتا ہے
اب ان بہتے ندیوں کے کناروں پر اجنبیوں کا ڈیرہ ہے
کل کے زامران میں ہمارے بڑے بزرگ عزت و احترام سے جی رہے تھے
وہ ان پہاڑوں ندی نالوں سے بے پناہ محبت کرتے تھے
اور انکی حفاظت بھی،
آج کے نام نہاد میر معتبرین اجنبیوں ناجائز رشتہ رکھنے کو باعث فخر سمجھتے ہیں
البتہ زامران کی پہاڑ بہادر لوگوں کو پناہ دیتے ہیں، ان کو دور سے کھینچ کر اپنے پاس بلاتے ہیں
اور ان اجنبیوں پر ہمیشہ تنگ رہتے ہیں۔

زامران کے پہاڑ یوسف کرد سے واقف ہیں، یوسف کو قوت فراہم کرتے ہیں اور یوسف ان اجنبیوں پر قہر برساتا ہے، یہ بلند بالا پہاڑ بہتی ندیاں، پھر اپنی خوبصورتی سے یوسف، نورا، میران کو جنم دینگے۔ یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔

اب زامران صرف وہاں کے باسیوں کا نہیں ہے
زامران اجنبیوں کے جبر باغی بن چکا ہے
اسکے رشتے دوستیاں بولان، جنترو شہموز گٹ پارود سے ہوچکی ہے
اب وہ اپنا تاریخ شان سے لکھے گا
کچھ تکلیف، سختیاں، سہہ کر وہ اجنبیوں کے لیئے ضرور مشکلات پیدا کرے گا
وہ پھر سے ایک یحییٰ کو جنم دے گا
ظلم و جبر کے سائے میں زندگیاں گزارنا مشکل ہے
ان مشکلات سے دوچار یہاں کے باسی اپنا راستہ نکال کر روشنیوں کی طرف سفر کرینگے
درویش صفت مولانا عبدالحق بلوچ کی تعلیمات سے زامران کے لوگ مستفید ہوجائیں
جبر کا باغی بن جائیں تو معاشرہ کمبر چاکر جنم دینگے اور جب کمبر جنم لینگے تو زامران اپنا وہی امن اور سکون پا لے گا.


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔